اس وقت امریکی یوتھیا عمران نیازی کے احکامات کےمطابق امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں
محب وطن پاکستانی عمران نیازی کے ان امریکی یوتھیوں کے پاکستان کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈوں کو کاؤنٹر کرتے ہیں
آپ پاکستان کے ساتھ
یہ عمران نیازی کے امریکی یوتھیوں کےساتھ
تخت الٹتے ہیں بادشاہوں کے میرے اللہ ہماری فقیری صدا بہار رکھنا
تو رب ہے میرا بے مثال بہت
میں خاک نشین گنہگار بہت
کسی کے پاس کھونے کو بہت کچھ ہے
میرے اللہ میرے پاس تیرے سوا کچھ بھی نہیں
سعید احمد بلوچ
مہاجرینِ کشمیر کی نشستیں
صرف کوٹہ نہیں ایک نظریہ ہیں ✌
آزاد کشمیر میں مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مخصوص نشستوں پر حالیہ اعتراض محض انتخابی سیاست نہیں بلکہ ایک گہرا قومی نظریاتی اور سفارتی معاملہ ہے
جسے وقتی احتجاج یا دباؤ کے تحت حل کرنا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
#SumudForGaza #TaylorSwift
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کے لیے مختص کی گئی 12 نشستیں صرف سیاسی نمائندگی کا ایک کوٹہ نہیں ہیں بلکہ یہ پاکستان کے مسئلہ کشمیر پر تاریخی اور اصولی مؤقف, کشمیری عوام کی عظیم قربانیوں اور پاکستان کی آئینی و اخلاقی ذمہ داریوں کی علامت ہیں۔
ان نشستوں کے ذریعے پاکستان اُن لاکھوں کشمیریوں کی آواز کو پارلیمان میں جگہ دیتا ہے جنہوں نے الحاقِ پاکستان کی خواہش میں اپنا سب کچھ قربان کیا۔
گھر بار چھوڑے جانیں دیں اور پاکستان میں مہاجر کیمپوں یا عارضی بستیوں میں پناہ لی۔
ان نشستوں کا خاتمہ محض ایک سیاسی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوگا بلکہ یہ پاکستان کے تاریخی مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے مترادف ہوگا۔
اگر یہ فیصلہ احتجاج دھرنے یا عوامی دباؤ کے تحت کیا جاتا ہے تو یہ ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا اور عالمی سطح پر یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان اب مسئلہ کشمیر کو صرف ایک انتظامی مسئلہ سمجھنے لگا ہے۔
بھارت اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر اپنے بیانیے کو عالمی فورمز پر مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روح کو مزید کمزور کیا جائے گا۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت کا مکمل آئینی نام آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر ہے۔ یہ حکومت دراصل ریاست جموں و کشمیر کی نمائندگی کرتی ہے اور ایک قسم کی "Government in Exile" کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس کا دائرۂ اختیار ,اس کا آئینی وجود اور اس کی نظریاتی بنیاد ہی کشمیری مہاجرین پر کھڑی ہے۔ ایسے میں اگر چند لاکھ مقامی تاجر یا کاروباری افراد جو ممکنہ طور پر ٹیکس سے بچاؤ, نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے تحفظ یا سبسڈی پر مبنی سہولیات کے حق میں مظاہرے کر رہے ہوں۔
ریاستی آئین ساخت یا پارلیمانی سیٹ اپ پر سوال اٹھائیں تو یہ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔
حالیہ احتجاج میں پیش پیش عوامی ایکشن کمیٹی اگر واقعی ریاستی نظام سے اختلاف رکھتی ہے یا خودمختاری کے کسی نئے ماڈل کی خواہاں ہے تو اس کا آئینی راستہ واضح ہے۔ اپنے آپ کو سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کروائے۔ انتخابات میں حصہ لے عوام سے مینڈیٹ حاصل کرے اور دو تہائی اکثریت کے ذریعے آئین میں ترمیم کرے۔
سڑکوں پر فیصلے مسلط کرنے کی روش نا صرف آئین شکنی ہے بلکہ ریاستی وحدت کو نقصان پہنچانے کے مترادف بھی ہے۔
اگر کشمیری مہاجرین کی نشستیں ایک بوجھ یا غیرضروری بقاۓ نظام ہیں تو یہ عوامی ایکشن کمیٹی کی یہ سوچ ناصرف تاریخی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے بلکہ یہ لاکھوں کشمیریوں کی تذلیل بھی ہے جنہوں نے پاکستان سے محبت کے جرم میں اپنا وطن چھوڑا۔
ان مہاجرین کا پاکستانی تشخص ان کی شناخت اور ان کی قربانیاں آج بھی کشمیری کاز کو زندہ رکھنے کی سب سے بڑی دلیل ہیں۔
جو لوگ آج خودمختار کشمیر کا نعرہ لگا رہے ہیں ان سے سوال یہ ہے کہ کیا وہ اُن کشمیریوں سے زیادہ کشمیری ہیں جنہوں نے الحاقِ پاکستان کی خواہش پر اپنی نسلیں جائیدادیں اور تاریخیں قربان کیں؟
حقیقت یہ ہے کہ وہ مہاجرین جو آج بھی کیمپوں الاٹ شدہ زمینوں اور محدود وسائل میں زندگی گزار رہے ہیں۔
وہی اصل وارثِ کشمیر ہیں۔ ان کی آواز دبانا ان کی نشستیں ختم کرنا دراصل اُن کی تاریخ کو مٹانے کے مترادف ہوگا۔
یہ معاملہ نہ وقتی احتجاج سے حل ہونا چاہیے نہ سیاسی مفاہمت سے۔
اس پر فیصلہ صرف آئینی اداروں, ریاستی حکومت, کشمیری قیادت, تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی رائے کی مشاورت سے ہی ہونا چاہیے تاکہ ریاستی استحکام ,قومی وحدت اور عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو کمزور نہ ہونے دیا جا سکے۔
تحریر۔ ام حریم
خوارج اس خطے کی بدترین مخلوق ہیں یہ ایسے بزدل ہیں کہ جو بچوں کو ڈھال بناتے ہیں سویلینز کے گھروں میں چھپ کر خود کو بچاتے ہیں ان کا ایک ہی علاج ہے صرف گولی
#BB27#INDvPAK#AsiaCup2025
#بھارتی_ایکشن_کمیٹی#Gaza
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما گزشتہ ایک ہفتے سے عوام کو ریاست مخالف اقدامات پر اُکساتے رہے جس کا عملی مظاہرہ آج مختلف شہروں میں دیکھنے میں آیا۔ مظاہرین نے سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران مظفر آباد میں ایک پولیس سب انسپکٹر ان شرپسند عناصر کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
اے خزاں میں تجھے خوش رنگ بنا سکتا تھا
تجھ سے دیکھا نہ گیا پھولتا پھلتا ہوا میں
ہو نہ ہو ایک ہی تصویر کے دو پہلو ہیں
رقص کرتا ہوا تو آ گ میں جلتا ہوا میں
But your father Imran Niazi and your uncle support Israeli Jews
You should also get your mother Jemima Goldsmith and Jemima s sons to Statement in favor of Palestine and against Israeli Jews
سعودی ولی عہد نے دورہپاکستان 🇵🇰❤️🇸🇦
سعودی ولی عہد محمد سلمان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کر لی۔وزارتِ خارجہ کے حکام کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان 31 دسمبر سے پہلے پاکستان کا دورہ کریں گے۔
@KSAMOFA مرحباً بالأمير محمد بن سلمان في زيارته إلى باكستان
پی ٹی آئی کی اندرونی کشمکش اور مایوسی کا عالم
پی ٹی آئی کی اندرونی بربادی اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہے، جہاں پارٹی کے نظریات کے بجائے بقا کی دوڑ نظر آتی ہے۔ علی امین کی عمران خان سے ملاقات کے باوجود علیمہ خان گروپ کی طرف سے سوشل میڈیا پر ان پر حملے جاری ہیں،
#LaCasaDeLosFamososMx
عوامی ایکشن کمیٹی کے بلواٸیوں نے ایک نوجوان کی جان لے لی۔
شوکت نواز میر نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران کارکنان نہایت جذباتی اور پرجوش تھے اور مسلسل نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس جوش و خروش میں حالات قابو سے باہر ہو گئے۔
#LingOrm#INDvsPAK#Dior
اسی افراتفری کے عالم میں ایک کارکن کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیاجبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہو گئے۔
#PunjabFloods
پاک فوج سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اوکاڑہ کے سیلاب زدہ علاقوں میں سول انتظامیہ کے ہمراہ امدادی کاموں کا سلسلہ تسلسل سے جاری ہے۔ جہاں دریائے ستلج اور ہیڈ سلیمانکی کے سیلابی پانی سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ پاک فوج نے کئی ریسکیو اور ریلیف کیمپس قائم کیے ہیں جن کے ذریعے ہزاروں افراد کو ان کے مال مویشی سمیت محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ پاک فوج ہمیشہ کی طرح اپنے ہم وطنوں کی خدمت کے جذبے کے ساتھ سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریلیف آپریشن میں مصروف ہے۔
چالیس سال کی میزبانی
بدلے میں زخم
چالیس سال سے پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دی انہیں اپنے شہروں میں جگہ دی روزگار تعلیمی اداروں اور وسائل میں جگہ دی۔ ہم نے عالمی دباؤ کے باوجود انہیں اپنایا ان کے ساتھ بھائی چارے کا رشتہ نبھایا۔ لیکن افسوس اس خلوص کا بدلہ ہمیں بدامنی دہشتگردی اسلحے منشیات اور پاکستان دشمنی کی صورت میں ملا۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ کئی افغان عناصر نے ناصرف پاکستان مخالف تحریکوں کا حصہ بن کر ملک کو نقصان پہنچایا بلکہ سوشل میڈیا اور عوامی رویوں میں پاکستان کے لیے نفرت بھی پھیلائی۔ ہر مشکل وقت میں جب ہمیں اتحاد کی ضرورت تھی ہمیں طعنے خوشیاں اور دشمنی ملی۔
اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اپنے مفادات کو مقدم رکھے۔ جیسا کہ ایران نے مہاجرین کے حوالے سے واضح مؤقف اپنایا
پاکستان کو بھی قومی سلامتی اور امن کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ یہ کوئی تعصب نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا گھر محفوظ رہے تو ہمیں اسے ان لوگوں سے خالی کرانا ہوگا جو اسے جلانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
#Irrelevant_Khan#bb27
ایرانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے چھ افغان تارکین وطن ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
انسانی حقوق کی تنظیم حال وش کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایرانی صوبے سیستان میں پیش آیا، جہاں تقریباً 120 افغان شہریوں پر فائرنگ کی گئی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
فائرنگ کے بعد 40 افغان باشندوں کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ زخمیوں میں احسان اللہ تاجک نصر اللہ بارکزاہی حزب اللہ بارکزاہی وائی بارکزاہی اور بشیر احمد بارکزاہی شامل ہیں
جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ واقعے کے بعد اب تک نہ تو ایرانی حکومت اور نہ ہی افغان حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا۔
گزشتہ سال بھی ایرانی سرحدی علاقوں میں ایسے ہی واقعات کے دوران 300 سے زائد افغان تارکین وطن کو نشانہ بنایا گیا تھا جن میں متعدد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
عمران خان ان دنوں اپنے سوشل میڈیا بیانات میں خیبر پختونخوا میں جاری ملٹری آپریشن کو روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو کہ سراسر ریاست کے ساتھ اسکی منافقت کا اظہار ہے۔
عمران خان نے ماضی میں دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔
#نچن_یاہو_نیازی#الدوحة
دسمبر 2024 کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں بھی واضح اشارہ دیا گیا کہ 2021 میں ایک مخصوص وقت پر دہشت گردوں کو ریلیف دیا گیا اور ان کی آباد کاری کی گئی۔
عمران کی پالیسیوں نے آج کے سنگین حالات کی بنیاد رکھی۔ اس کے فیصلے صرف سیاسی فائدے کے لیے کیے گئے تھے
جس وجہ سے دہشت گردوں کو دوبارہ پنپنے کا موقع ملا۔ اُس وقت کے نیازی کے اقدامات کبھی معاف نہیں کیے جاسکتے۔
اب جیل میں ہوتے ہوٸے نیازی کا ملٹری آپریشنز روکنے اور افغان مہاجرین کے متعلق بار بار بیانات دینا اصل میں اس کے 2021 کے اقدامات کو پورا کرنے کی تمنا کرنا ہے۔ مگر اب ریاست نہ عمرانی فتنے کو اقتدار کی طرف دیکھنے دے گی اور نہ دہشت گردوں کو پنپنے کا موقع دے گی۔
کسی سے یہ جانے بغیر کبھی بھی گہری محبت نہ کرو کہ وہ بھی تم سے اتنی ھی گہری محبت کرتا ھے۔ کیوں کہ آج آپ کی محبت کی گہرائی کل آپ کے زخم کی گہرائی کا تعین کرے گی