इमरान खान जब पाकिस्तान के प्रधानमंत्री बने थे तो कपिल देव, नवजोत सिंह सिद्धू और सुनील गावस्कर को अपने शपथ ग्रहण समारोह में बुलाया था.. आप और सुनील गावस्कर नहीं गए लेकिन नवजोत सिंह सिद्धू पाकिस्तान गए थे..!
भारत के रिश्ते उस वक्त पाकिस्तान से अच्छे नहीं थे इसलिए मैंने और सुनील गावस्कर ने जाना उचित नहीं समझा लेकिन सिद्धू राजनेता थे तो चले गए.!
-कपिल देव
For those of my friends in Karachi who think PPP is deliberately neglecting Karachi, please see this picture of Larkana, the city of Zulfikar Ali Bhutto sahib and Shaheed Benazir Bhutto sahiba.
Yes PPP discriminates by only hiring Sindhi speaking residents of Sindh (and that too mostly by selling them jobs) and doesn’t hire any Urdu-, Punjabi- or Pashto-speaking residents of Sindh, but when it comes to not providing civic services, the neglect is universal across the entire province.
If today there is talk about taking Karachi out of Sindh, it is because of PPP’s gross incompetence, corruption, discrimination in jobs, etc.
We need to demand better governance across the province and empowered and fairly elected local governments. Failing which, I think, there will be no choice but smaller units across Pakistan.
کل بیٹی اکیڈمی سے آئی تو خوشی خوشی بتانے لگی کہ آج ایک نیا قانون پاس ہوا ہے۔ اس کے مطابق کوئی مرد اپنی بیوی کو گالی نہیں دے سکتا، برا بھلا نہیں کہہ سکتا، مار پیٹ تو دور کی بات، حتیٰ کہ گھور بھی نہیں سکتا، ورنہ اسے سزا ہوگی۔
بیٹی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، مگر میرے دل میں کوئی خوشی نہیں اتری—بلکہ ایک گہری تشویش نے جگہ لے لی۔
یہ سن کر دل نے سوال کیا:
کیا واقعی قوانین سے رویے بدل جاتے ہیں؟
یا پھر ہم ایک نئے فساد کا دروازہ کھول رہے ہیں؟
---
اچھی عورتیں کل بھی صبر کرتی تھیں، آج بھی کریں گی
یہ کوئی راز نہیں کہ ہمارے معاشرے میں اچھی، باکردار اور خاندانی عورتیں ہمیشہ سے صبر کا راستہ اختیار کرتی آئی ہیں۔ انہیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ گھر بچانا عبادت ہے، برداشت عورت کا زیور ہے، اور صبر کا پھل ملتا ہے۔
نہ کل انہوں نے قانون کا سہارا لیا، نہ آج لیں گی۔
اچھی عورت سے مراد ظلم سہنا نہیں ہے بلکہ امن پسند ہونا ہے اور گھر کو جنگ کا میدان بنانے کی بجائے سمجھ داری سے بات سنبھالنا ہے۔ تحمل سے کام لینا ہے۔
یہ قانون ان کے لیے نہیں بنا—یہ دراصل ان عورتوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار بن سکتا ہے جو پہلے ہی گھر کو میدانِ جنگ سمجھتی ہیں
جو مرد سمجھدار، ذمہ دار اور بااخلاق ہوتے ہیں وہ کبھی بات کو اس نہج تک پہنچنے ہی نہیں دیتے۔
اور جو مرد چڑچڑے، انا کے مارے اور زبان کے ب�� لگام ہوتے ہیں،
وہ قانون سے نہیں سدھرتے۔
ایسے مرد اپنی غلطی ماننے کے عادی نہیں ہوتے۔
ان کی اکڑ، ان کی انا، انہیں آئینہ دیکھنے ہی نہیں دیتی۔
قانون کی سزا انہیں بہتر بنانے کے بجائے مزید بگاڑ دے گی۔
نتیجہ؟ گھر نہیں، کیس بنیں گے
اب اختلاف گھر کے اندر حل ہونے کے بجائے تھانے اور کچہریوں میں جائے گا۔
میاں بیوی کی نجی باتیں رپورٹ بنیں گی۔
الزامات کے جواب میں الزامات ہوں گے۔
پولیس جو پہلے ہی انصاف دینے سے قاصر ہے، اب گھریلو جھگڑوں کے تماشے دیکھے گی۔
گھر کم، کیس زیادہ ہوں گے۔
صبر کم، دھمکیاں زیادہ ہوں گی۔
جب شادی ذمہ داری، قانون اور خوف بن جائے گی
تو لوگ نکاح سے بھاگیں گے۔
پھر کہا جائے گا:“رشتہ کیوں باندھیں؟
بغیر نکاح کے ساتھ رہ لیتے ہیں—قانون بھی نہیں، پابندی بھی نہیں۔”
یوں حرام آسان اور حلال مشکل ہوتا جائے گا۔
یہی تو مغربی نظام کی بنیاد ہے—اور ہ�� آہستہ آہستہ اسی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔
آج اگر عورتیں اس قانون پر خوش ہیں تو ایک لمحے کو رک کر سوچیں:
کل آپ کے بیٹوں کی بھی شادیاں ہوں گی۔
جب بہو اسی قانون کے تحت آپ کے بیٹے کو کٹہرے میں کھڑا کرے گی تو ماں کے ��ل پر کیا گزرے گی؟
اور جو آج پرائیویسی کے نام پر والدین کو ساتھ نہیں رکھنا چاہتیں
کل ان کے بیٹے بھی یہی کریں گے۔پھر سوال اٹھے گا:
اولڈ ہوم؟ تنہائی؟ بے بسی؟
یہ اصلاح نہیں، یہ ایک مغربی طرزِ فکر کو زبردستی مسلط کرنے کی کوشش ہے۔
ہم اسلامی نظامِ عدل کو اپنانے کے بجائے
مغرب کی اندھی تقلید میں وہی حال کر رہے ہیں
جو ہنس کی چال چلنے والے کا ہوتا ہے۔
یہ کہنا ہرگز مقصد نہیں کہ مرد ظلم کرے اور کوئی روکنے والا نہ ہو۔
گالی دینے والا، مار پیٹ کرنے والا مرد واقعی ظالم ہے۔
ایسے مرد کو ضرور لگام ڈالنی چاہیے ۔
عورت ایسے مرد کے ساتھ جی تو لیتی ہے،
مگر اس کی عزت دل سے ختم ہو جاتی ہے—
اور وہ قربانی صرف بچوں کی خاطر دیتی ہے۔۔
عورت کی فطرت میں گھر بسانا ہے—
یہ اس کی خواہش بھی ہے اور مجبوری بھی،
کیونکہ اسے سکھایا جاتا ہے:
“اب یہی گھر تمہارا اصل گھر ہے۔”
اگر مرد غیرت مند ہو، ذمہ دار ہو، اور بیوی بچوں کی حسبِ ��ستطاعت ضروریات کا خیال رکھے
تو کوئی باشعور عورت گھر خراب نہیں کرتی
قوانین رشتے نہیں بناتے، کردار بناتے ہیں۔
معاشرہ دفعات سے نہیں،
تربیت، انصاف اور خوفِ خدا سے سنبھلتا ہے۔
اگر ہمیں واقعی گھروں کو بچانا ہے
تو قانون سے پہلے
انسان کو درست کرنا ہوگا۔
کیونکہ
مضبوط گھر قانون سے نہیں،
سمجھ، ذمہ داری اور اخلاق سے بنتے ہیں۔
.
منقول
#موناسکندر
🚨 سہیل آفریدی DGISPR پر برہم
سوال : DGISPR نے کہا کہ دہشتگرد باقی سیاسی جماعتوں پر حملے کرتے ہیں تحریک انصاف پر کیوں نہیں کرتے ؟
جواب: یہ اس نے (DGISPR) نے بڑی نیچ حرکت کی ہے 1947 سے لیکر 2025 تک کسی ادارے کے افسر کا یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے یہ ہمیں مروانا چاہتا ہے ؟ کیا یہ چاہتا ہے کہ دہشتگرد پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی پر حملے کریں کیا یہ ہمیں دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتا ہے ��مارے لوگ شہید ہو چکے ہیں زخمی ہو چکے ہیں اور یہ کہتا ہے کہ دہشتگرد ہم پر حملے کیوں نہیں کرتے ۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
@dtnoorkhan bundar k hath ustra wali example aap py fit hoti ha. Company ki chatny mei itna busy k sahi sy editing b ni kr sky. Chutyon ko bas AI ka name a jany sy use krna ni a jata. Sahi kehty hn fauji k dimagh ghutny mei hota ha
#Pakistan: Bushra Bibi Khan, the wife of former Pakistani prime minister #ImranKhan is being detained in circumstances that could pose a serious risk to her physical & mental integrity — UN expert on torture urges immediate action to address the situation.
https://t.co/QNk31jxzS5
اے روح قائد، محسنِ پاکستان، آج کے دن یہ عہدہے ہمارا کہ آپ کے اصولوں اور سکھائے ہوئے سبق کے مطابق ہم ملک میں آئین قانون او�� انصاف کی بالادستی کے لئیے پاکستان کی بقا کے لئیے اپنے کپتان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔
#QuaidDay
#QuaidEAzamDay
A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
"وہ جو ذہنی مریض بیٹھا ہے جیل میں۔۔"
مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ ڈی جی نے یہ کہا۔
یہ کیا انداز تخاطب ہے؟
پریس کانفرنس پوری سننے کی کوشش کی سن نہ سکا۔ صبر جواب دے گیا۔
80 سے 90 فیصد عوام کے لیڈر کے لئے اتنی نفرت کہاں سے آگئی؟
دوسرا وہ جیل میں بیٹھا نہيں ہے۔ اس پر 200 کے قریب جعلی مقدمات بنا کر اسے ناحق قید کیا ہوا ہے۔ اس کا جرم صرف یہ ہے کہ عوام نے اسے دو تہائی اکثریت دی اور اس نے امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ امریکہ کو absolutely not کہا اور اسرائیل کو ریاست تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ ان "جرائم" کی وجہ سے وہ تم لوگوں کی قید میں ہے۔
پاکستان کے شاہین دشمن کو سبق سکھا چکے تھے ابھینندن پکڑاجا چکا تھا پارلیمنٹ ہاؤس کے اپر فلور کے خصوصی چیمبر میں چیئرمین سینٹ سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر موجود تھے جنرل قمر آئے اوسان خطا تھے ۔۔۔۔ شاہ محمود کو تلاش کرو شاہ محمود کا پتا کرو فون کرو جلدی کرو ۔۔۔۔میزبان نےکہا جنرل صاحب حوصلہ کرو پانی پیو ٹھنڈے ہوجاؤ ۔۔ نئیں نئیں تہانوں نئیں پتا ۔۔۔ خوفزدگی کی حالت ۔۔۔قریشی صاحب مل گئے انکا جوابی فون آیا اور بتایا کہ ��نرل صاحب کو حوصلہ دیں۔۔۔ یہ بات سن کر جنرل صاحب کی جان میں جان آئی اور سپیکر چیئرمین مسکراتے رہے ڈرائی فروٹ انجوائے کرتے رہے
کچھ آپ @ImranRiazKhan بیان کریں دونوں ملکر یہ کہانی پوری کرتے ہیں
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی ��یے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہ��ئی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہ��- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس ��قت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے ��و یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
@aavishhkar Before watching trailer I had misconception that it will be routine action trailer. But this is mind blowing, Trailer cut is very impressive without revealing any story and superb action sequences with BRILLIANT Hrithik acts