صحت کارڈ منصوبہ اتنا بڑا پراجیکٹ تھا کہ تھرڈ ورلڈ میں اس کی مثال نہیں ملتی،
پچاس سال بعد ملک میں نئے ڈیم بننے لگے تھے،
ایک ارب درخت عمران خان نے لگوائے جسے پوری دنیا مانتی ہے،
پناہ گاہیں اس نے بنوا دیں،
عمران کو حکومت کا تجربہ نہیں تھا، اس کے باوجود اتنے کام اس نے کروائے، ہارون الرشید
ہائی کورٹ سے ایک واضح آرڈر جاری کیا گیا انہوں نے اسے بالکل نظر انداز کر دیا، حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کو بھی رتی بھر اہمیت نہیں دی۔
واضح طور پر ہائی کورٹ کے آرڈر میں کہا گیا کہ عمران خان کی فیملی سے ملاقات ہونی چاہیے، ان سے ملاقاتوں کا حق بحال کیا جائے اور جیل میں ان کے دیگر حقوق اور سہولیات بھی بحال کی جائیں۔
یہ سارا کچھ آج آپ لوگوں نے دیکھا کہ ایک بہت واضح آرڈر دیا گیا�� لیکن اڈیالہ جیل کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں عدالتوں کے آرڈرز، چاہے ہائی کورٹ کے ہوں یا سپریم کورٹ کے، سب کا انجام ایک جیسا ہوتا ہے۔ اڈیالہ جیل ان آرڈرز کا قبرستان بن چکا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہاں عدالتی احکامات دفن ہو جاتے ہیں۔