It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
یہ غزہ نہیں خیبر پختونخواہ پاکستان ہے، جہاں اسرائیلی نہیں بلکہ پاکستانی فوج نے یہ ظلم کیا ہے۔ کدھر ہے خیبر پختونخواہ حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کی مذمت؟
یورپ میں گرمی کی لہر آئی تو گورے مرنے شروع ہوگئے۔ صرف سپین میں دو سو سے زائد لوگ مرے ہیں۔ لوگ گھر چھوڑ کر مہنگے ہوٹلوں میں پناہ لے رہے ہیں۔
اور یہ گرمی ویسی نہيں ہے جیسی پاکستان میں ہے۔ پاکستان میں ان مہینوں میں سورج آگ برساتا یے۔ جب آسمان دے آگ برس رہی ہے اور زمین کوئلے کی طرح دھک رہی ہے تو یہ بےگناہ انسان، پاکستان کا سابق وزیراعظم، قومی ہیرو، دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان، ایک تندور نما کوٹھڑی میں قید ہے۔ یہ تیسری گرمیاں ہیں جو اس نے یہاں گذاری ہیں۔
جس ملک میں اتنا ظلم ہو۔ ایسا جبر ہو۔ کبھی اس ملک میں برکت آسکتی ہے؟
دعا کریں ہم پر آللہ کا قہر نازل نہ ہو۔ ہم نے جبر کے سامنے کمزوری اور بزدلی کی انتہا کر دی ہے۔ خاص کر ہماری پڑھے لکھے طبقے نے۔ 😢
Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
پیارے مزمل۔
آپکو میجر صاحب نے ایک بار پھر استعمال کر لیا۔
میجر صاحب کی نظر یہ تصویر۔ میرے امریکہ آنے سے چند دن پہلے: عمران خان کے گھر میں ملاقات کے بعد کی تصویر۔
ویسے امریکہ آنے سے ایک رات پہلے انہی کے گھر میں رات 12:30am سے تقریبا رات 2 بجے تک میری اور خان صاحب کی ون آن ون ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں بہت سارے میر صادق اور میر جعفروں کا زکر اور notes exchange ہوئے تھے۔ تب تک خان صاحب کو بہت سوں کی حقیقت کا پتہ چل چکا تھا۔ اس آخری میٹنگ کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ چاہیئے ہوئیں تو بتا دیجیے گا۔
رہی بات شہزاد اکبر کی تو انہوں نے کیوں استعفی دیا تھا اس بات کا نہ آپکو علم ہے نہ ہو سکتا ہے۔ اس کا علم صرف دو لوگوں کو تھا ایک پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور دوسرا شہباز گل۔ آپ پارٹی پوزیشن میں بہت جونئیر تھے۔ آپکے سامنے انکو کب ہٹایا گیا۔ آپکا وزیر اعظم آفس سے تو کوئی دور دور تک لینا دینا نہیں تھا۔ عمران خان گرفتار ہونے سے ایک دن پہلے تک شہزاد اکبر سے رابطے میں تھے۔
چلیں آپکا یہ مسلہ تو حل کر دیا۔ ویسے یہ نان ایشو تھا۔
اصل بات خان کی رہائی اور علاج ہے۔ تو جب تک یہ مسلہ حل نہیں ہوتا۔ آپ نے بجٹ صرف مختصر مدت کے لئے پاس کروانا ہے۔ اور سرپلس بجٹ پاس نہیں کروانا۔ اور دوسرا KP کے لوگوں کا پیسہ جنرلز کی جیب میں نہیں ڈالنا۔
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
@SohailAfridiISF سہیل آفریدی نے کے پی بجٹ کا بڑا حصہ ملٹری جنرلز کو دے دیا ہے۔ انہوں نے شہباز شریف کے ساتھ ہاتھ باندھ کر تصویر بھی بنوا لی ہے۔ باہر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان سے پوچھے بغیر پیسے نہیں دے سکتا لیکن اندر وہ سب باتیں مان چکے ہیں، شہباز گل
اگر خان نے کھل کر کہا ہوتا بنگالیوں کی طرح لڑ کر آزادی لو
اب تک خان کو پھانسی چڑھا دیا ہوتا اور یہ قوم اپنی ہی گاڑی جلا کر اب دکھ بھرے ٹویٹ کر رہی ہوتی۔
خان کو علم تھا اس لیے محتاط لفظوں میں لڑنے کا اٹھنے کا کہتا تھا
آخر عمران خان ہے اسے ہماری اوقات کا علم ہے۔
پنجاب صادق آباد !!
25 افراد بشمول بچوں کو گردوں میں پتھری کے آپریشن کا کہہ کر سب کے گردے نکال لئے گئے !!
طاقتور شیطانوں کا چہیتا ڈاکٹر فواد مختار اب تک 328 افراد کے گردے نکال چکا ہے جو روپورٹ ہوئے ہیں !!
ہماری غلط فہمی تھی کہ ہمیں لگتا تھا کہ فوج کی مجبوری ہے کہ وہ ان دو کرپٹ خاندانوں کے درمیان پھنسی ہے لیکن آپ نے تو ensure کر رکھا ہے کہ پاکستان پر کرپٹ لوگ مسلط رہیں تاکہ آپ کی من مانی چلتی رہے ۔
خالد خورشید
🚨 جنید اکبر کو پہلے غزر میں داخل نہیں ہونے دیا گیا آج گرفتار کر لیا گیا ہمارا قیادت کی پہلی ٹیم کے آتے ہی مومینٹم بن گیا تھا ہم ایک ہزار سال بعد بھی اپنا موقف تبدیل نہیں کریں گے چیف الیکشن کمشنر کہتا ہے کہ ایجنسیوں سے تعلقات بہتر کریں ۔
خالد خورشید کا ردعمل
مزاکرات اور وعدوں کی خلاف ورزی، بگٹی کے قتل، جبری گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں، بارڈر پر منافع بخش سمگلنگ اور حکومتوں پر قبضوں کے احکامات بھی قائد اعظم ہی دے کر گئے تھے۔ ہمیں ایک دن تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان کی بربادی میں ایک بڑا حصہ جرنیلوں اور ڈکٹیٹروں کے غلط فیصلوں کا بھی ہے۔ سیاستدانوں کو تو سب گالی دیتے ہیں مگر کیا بڑے بڑے واقعات کے انٹیلی جنس فیلیئرز پر کبھی کوئی پکڑ ہوتی ہے؟