اگست 2016 میں ایم کیو ایم کی تقسیم پارٹی کیلئے ایک بڑا سیاسی دھچکہ ضرور تھا, لیکن یہ پہلا بحران نہیں تھا کیونکہ ایم کیو ایم نے اس سے پہلے بھی متعدد بحرانوں کا سامنا کیا، جن میں 19 جون 1992 کا آپریشن کلین اپ بلاشبہ سرفہرست ہے- آج 34 برس کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس آپریشن کا سامنا کرنے والے کسی بھی فرد کے ذہن سے اس دور کی ہولناک یادیں محو نہیں ہوتیں۔
اس آپریشن کا باضابطہ آغاز تو جون 1992 میں ہوا لیکن اس کے آثار 1991 سے ہی سامنے آنا شروع ہو گئے تھے۔ میں کراچی سے لندن تک اس دور کے بیشتر اہم واقعات کا شاہد ہوں اور میری کتاب “تاریخ کا قرض” ایم کیو ایم کی تاریخ کے اس اہم ترین دور کو محفوظ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ کتاب کافی عرصہ پہلے مکمل ہوگئی تھی لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر اسے جاری نہیں کیا جاسکا۔ محترم مظہر عباس صاحب نے اس کتاب کے مسودے کا مطالعہ کرکے گزشتہ برس اس حوالے سے ایک ٹوئٹ کردی تھی، جس کے بعد بہت سے احباب نے کتاب کی فرمائش کی، اس لئےمیری کوشش ہے کہ پہلا ایڈیشن ان احباب کو بھیج سکوں جبکہ کوشش ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی یہ کتاب جلد دستیاب ہوسکے۔
اس کتاب میں ذاتیات سے مکمل طور پر گریز کرتے ہوئے صرف واقعات پر توجہ دی گئی ہے۔ میری یہ پوری کوشش رہی کہ ان تاریخی واقعات کو پوری سچائی اور ایمان داری سے بیان کیا جائے، لیکن انسانی غلطی کا احتمال بہرحال ممکن ہے جسکے لئے پیشگی معافی کا خواستگار ہوں۔
قارئین اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ پارٹی لٹریچر نہیں بلکہ تاریخ کو محفوظ کرنے کی کوشش ہے۔
ایم کیو ایم اور متعلقہ موضوعات کے اس سلسلے کی اگلی جلدوں پر کام جاری ہے جنہیں جلد آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔
اس کتاب کی کچھ جھلکیاں۔۔۔
دیباچہ
اس کتاب کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
یہ کتاب غیرجانبدار ہے، اسکا مقصد کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں
پیش لفظ
ایم کیو ایم میں "بغاوت" کا انکشاف
یہ کتاب پارٹی لٹریچر نہیں ہے
کردار کشی اور ذاتیات سے گریز
پہلا باب
پس منظر
دوسرا باب
الطاف حسین ایم کیو ایم میں ’’بغاوت‘‘ کا انکشاف کرتے ہیں
آفاق احمد، بدر اقبال اور عامر خان کا ایم کیو ایم سے اخراج
الطاف حسین کی ٹانگ پر گولی مارنے کی افواہیں
چوتھا باب
جلاوطنی کا آغاز
پانچواں باب
سعودی عرب میں مصروفیات اور قیام
سندھ کےمشیر داخلہ عرفان اللہ مروت کی جدہ آمد
پاکستان واپس جانے، نہ جانے کا فیصلہ
چھٹا باب
وزیر اعلی سندھ جام صادق علی اور ایم کیو ایم
شہزاد مرزا کا قتل
آفاق احمد اور عامر خان کی امریکہ سے اچانک واپسی اور پریس کانفرنس
وزیراعظم نواز شریف سے لندن میں ملاقات
وزیراعظم کی جانب سے الطاف حسین کو اسلام آباد لیجانے کی پیشکش
آپریشن کے بارے میں حکومتی دعوؤں اور بیانات میں تضاد
برطانیہ میں قیام جاری رکھنے کے مسائل
ساتواں باب
انیس جون ۱۹۹۲ کا آپریشن شروع ہوتا ہے
آپریشن کا آغاز
وزیراعظم نواز شریف سے لندن میں رابطہ کی کوششیں
صدرمملکت غلام اسحق خان سے رابطہ
وزیراعلی سندھ مظفرحسین شاہ اور ٰآئی جی سندھ پولیس معین الدین خان سے گفتگو
ایم کیو ایم روپوشی میں چلی جائے---
آٹھواں باب
ایم کیو ایم آپریشن کلین اپ کا مرکزی ہدف بن جاتی ہے
جنرل آصف نواز کی ایم کیو ایم کی قیادت سے وہ میٹنگ جو نہ ہوسکی
سینیٹر اشتیاق اظہر ایم کیو ایم کے ترجمان بن کر سامنے آتے ہیں صدرمملکت غلام اسحق خان سے دوبارہ رابطہ
جنگ لندن نے بھی نگاہیں پھیرلیں
ٹارچر سیل چلانے اور جناح پور کے الزامات
ذرائع ابلاغ میں منفی خبروں کا طوفان
میڈیا الزامات اور الطاف حسین کی علالت
نواں باب
نئی آزمائشوں کا آغاز
کارکنوں اور میڈیا سے رابطوں کے مسائل
موبائل فونز کی خریداری اور بلوں کی ادائیگی ایک مسئلہ
لندن میں پہاڑ جیسا فون بل اور قانونی نوٹسز
دسواں باب
لندن میں قانونی قیام جاری رکھنے کا چیلنج اور سیاسی پناہ کی درخواست
روزنامہ امن سے تاریخی رشتہ کا آغاز
ایچ اقبال اور پاکیشیا
گیارہواں باب
اراکین اسمبلی کی وفاداری کی تبدیلی ۔۔۔اسمبلیوں سے استعفے
اداروں کی جانب سے ایم کیو ایم کو مذاکرات کی دعوت
اراکین اسمبلی کو منظر عام پر لانے کی کوشش۔۔۔ایک رکن اسمبلی کے سر کی قیمت
بارہواں باب
تعطل کے بعد مذاکرات کا آغاز اورایک نیا بحران
امین الحق اور خالد ندیم کی گرفتاری اور حقیقی میں شمولیت
امین الحق اور خالد ندیم کی گرفتاری پر الطاف حسین کا غیرمعمولی ردعمل
تیرہواں باب
چئیرمین ایم کیو ایم عظیم احمد اچانک منظر عام پر آتے ہیں
عظیم احمد طارق نے ایم کیو ایم کی قیادت سنبھال لی
چودہواں باب
ایم کیو ایم کی بحالی یا نئی حقیقی: نئے کنفیوژن کا آغاز
الطاف حسین ’’مائنس‘‘ ہی رہیں گے
پندرہواں باب
ایم کیو ایم کی بحالی الطاف حسین کی ریٹائرمنٹ کے اعلان سے مشروط
سولہواں باب
اختیارات و ذمہ داریاں چیئرمین عظیم احمد طارق کے سپرد
حاجی کیمپ سے بنگلے تک کا سفر
بنگلے میں الطاف حسین کیخلاف نازیبا زبان کا استعمال
سترہواں باب
لندن کے حالات ۔ مالی چیلنجز
خلیل صدیقی اور میں لندن میں ملازمت کرتے ہیں
اٹھارواں باب
جنرل آصف نواز کا انتقال اور ایم کیو ایم کی بحالی
آصف نواز کی ایم کیو ایم دشمنی ۔۔۔ممکنہ وجوہات
جنرل آصف نواز سے معافی
انیسواں باب
رابطہ کمیٹی کا قیام، نئے آئین کی تشکیل
عظیم احمد طارق نے مرکزی کمیٹی کی سرگرمیاں معطل کردیں
عظیم احمد طارق سے بدتمیزی کا افسوسناک واقعہ
کچھ یادیں، کچھ باتیں - عظیم احمد طارق اور ایس ایم طارق
بیسواں باب
حالات ایک بار پھر بگڑنے لگے
عوام و کارکنوں سے آڈیو ٹیپس کے زریعہ رابطہ
بریگیدئیر امان اور کرنل عبید کی لندن آمد
بریگیڈئیر امان کی ڈاکٹر عمران فاروق سے کراچی میں ملاقات
انتخابات کی تیاریاں ۔ قربانیاں دینے والوں کو ٹکٹس دیئے جاتے ہیں
عامر خان اور امین الحق کی ایم کیو ایم میں واپسی کی خواہش
اکتوبر ۱۹۹۳ کے انتخابات، ایم کیو ایم بائیکاٹ پر مجبور
ایم کیو ایم کو صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی دعوت ۔ رکاوٹوں کا عارضی خاتمہ
انتخابی جوش و خروش ۔ پولنگ اسٹیشنز پر عوام کا اژدھام
بینظیر کی وزارت عظمی اور ایم کیو ایم کیخلاف نئے آپریشن کا آغاز
اکیسواں باب
ڈاکٹر عمران فاروق کہاں روپوش رہے۔۔۔ اصل حقیقت
بائیسواں باب
انٹرنیشنل سیکریٹیریٹ کی ٹیم کا ناقابل فراموش کردار
ڈاکٹر بیرسٹر فاروق حسن کا ناقابل فراموش کردار
انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کی ٹیم
اختتامیہ
ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ اندرونی صورتحال ،جاری اختلافات اور محاذ آرائی انتہائی افسوسناک ہے: وائس آف کراچی
شہری سندھ تباہ و برباد ہو چکا ہے. شہریوں کوبجلی پانی میسر ہے، نہ تحفظ و روزگار۔ حالیہ بجٹ میں بھی شہری سندھ کو کچھ نہیں ملا : مرکزی کمیٹی
#Karachi#Pakistan#Sindh
اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بھی فوڈ ڈلیوری اورمعمولی ملازمتوں پر مجبور ہیں۔ پارٹی عہدیداروں کی آپسی چپقلش کے باعث قیادت عوام میں اپنی قدر اور ساکھ کھو چکی ہے جبکہ پارٹی کا ووٹ بینک بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ سنگین حالات میں جھگڑے مہاجر قوم سے کھلواڑ کے مترادف ہے: مرکزی کمیٹی
#Karachi
جس جماعت کے شہید، لاپتہ و اسیر ہوئےہزاروں کارکنان نے قوم کی فلاح، مستقبل اور مقاصد کیلئے اپنی جانیں تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا، آج وہ جماعت پیپلز پارٹی کے نسل پرستانہ اور مہاجر دشمن اقدامات پرمحض اسکی بی ٹیم بنی بیٹھی ہے: اراکین مرکزی کمیٹی
#Karachi#Pakistan#Sindh
عوام و کارکنان اس قیادت سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ عہدوں کی جنگ میں جس بھاگ دوڑ کا مظاہرہ کیا جارہا ہے وہ دیرینہ عوامی مسائل پر کیوں نظر نہیں آتی؟
غیر ذمہ دارانہ بیانات اور غیر ضروری تقاریر نے سیاسی مخالفین کو پارٹی کا مذاق بنانے کا موقع فراہم کیا: مرکزی کمیٹی
#Karachi
اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے فیصلے کی خبریں خوش آئند ہیں : ڈاکٹر ندیم نصرت، چیئرمین وائس آف کراچی
وائس آف کراچی ملک کی فلاح و بہبود کی غرض سے انتظامی ڈھانچے اور پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں اور اصلاحات کا مطالبہ کرتی رہی ہے: ندیم نصرت
#Karachi#Pakistan#Islamabad
اسلام آباد کے لیے الگ چیف ایگزیکٹو، براہِ راست منتخب اسمبلی اور خودمختار انتظامی ڈھانچے کے قیام کے فیصلے کا وائس آف کراچی خیرمقدم کرتی ہے: ندیم نصرت
یہ اقدام درحقیقت ایک خودمختار انتظامی یونٹ کے قیام کی جانب اہم پیش رفت ہے: چیئرمین وائس آف کراچی
#Karachi#Pakistan#Islamabad
ملک میں اس وقت نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر سنجیدہ بحث جاری ہے، بالخصوص کراچی کو بھی ایک خودمختار انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے: ندیم نصرت
ایسے حالات میں اسلام آباد سے اس عمل کا آغاز ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
#Karachi
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ اسلام آباد کے مجوزہ انتظامی یونٹ کا بنیادی ڈھانچہ بڑی حد تک اسی تصور سے مطابقت رکھتا ہے جسے وائس آف کراچی گزشتہ آٹھ برسوں سے پیش کرتی آرہی ہے، جس میں مقامی نمائندگی، بااختیار انتظامیہ اور عوامی احتساب پر مبنی نظام شامل ہے: ڈاکٹر ندیم نصرت
#Karachi
وائس آف کراچی کا مؤقف ہے کہ اگر اسلام آباد کے لیے خودمختار انتظامی ماڈل مؤثر اور ضروری ہے تو پھر کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز کو بھی ایسا ہی بااختیار انتظامی ڈھانچہ دیا جانا چاہیے تاکہ شہری مسائل کا حل مقامی سطح پر اور زیادہ مؤثر انداز میں ممکن بنایا جا سکے: ندیم نصرت
کراچی، پاکستان کی اقتصادی شہہ رگ ہے۔
پیپلزپارٹی نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اسے تباہ کیا ہے: وائس آف کراچی
شہری سندھ کو پی پی پی کے تسلط سے نکالنے کے کسی بھی منصوبہ کی حمایت کریں گے۔
کراچی سے لوٹے گئے کھربوں روپے نکلواکر اسے شہر کے مسائل کے حل کیلئے استعمال کیا جائے۔
#Karachi
قربانی کا اصل مقصد صرف رسمی عبادت ادا کرنا نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا انسانی، معاشرتی اور روحانی پیغام ہے: ڈاکٹر ندیم نصرت
ہم حجۃ الوداع کے موقع پر محسنِ انسانیت حضرت محمد ﷺ کے دیے گئے پیغام پر عمل کریں تو پاکستان امن و سکون اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
عید الاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت، ایثار اور قربانی کی روشن یاد ہے: ڈاکٹر ندیم نصرت
عید الاضحی اور حج ایثار، قربانی، اتحاد اور انسانی فلاح و بہبود کا سبق دیتی ہے۔
ملک بھرمیں نئےانتظامی یونٹس کی بڑھتی ہوئی پکار اب محض سیاسی نعرہ نہیں رہابلکہ ایک تاریخی، آئینی اور اخلاقی تقاضا بن چکی ہے۔ نئےصوبوں کےقیام سےبلدیاتی نظام صحت،تعلیم،امن و امان اور انفراسٹرکچر جیسے امور بہترہونگے اوراختیارات کی تقسیم سےبدعنوانی کا راستہ روکےگا-
#حافظ_صاحب_چھا_گئے
ایک گفتگو جو سوال بھی اٹھائے گی اور جواب بھی دے گی…
90 کی دہائی کی قربانیاں، آج کی سیاست، اور اصل کاز کہاں کھو گیا؟ کیا ہم واقعی وہی نظام بدل پائے جس کے خلاف نکلے تھے؟
ڈاکٹر ندیم نصرت کی زبانی وہ حقائق جو کم ہی سننے کو ملتے ہیں.
مکمل پروگرام کا لنک 👇
https://t.co/z1Ie9MI2OP
ایم کیو ایم، عوام کا رومانس تھی
موجودہ لیڈر شپ سے ہٹ کر دیکھیں تو ایم کیو ایم آج بھی پاکستان کی سب سے بہترین جماعت ہے
ہم اس نظام کو بدلنے آئے تھے جہاں لوگ نسل در نسل اقتدار میں رہتے ہیں لیکن ہم نظام کو بدلنے کے بجائے اسکا حصہ بن گئے
پروگرام دیکھیں
https://t.co/xbogIgC7xt
ایم کیو ایم، عوام کا رومانس تھی۔
موجودہ لیڈر شپ سے ہٹ کر دیکھیں تو ایم کیو ایم آج بھی پاکستان کی سب سے بہترین جماعت ہے۔
ہم ایک کاز کے لیے کھڑے ہوئے تھے، اقتدار کے لیے نہیں۔
چیئرمین وائس آف کراچی، ڈاکٹر ندیم نصرت
https://t.co/MdnmzRnDSg