سیاست کے شاہی محلے کی بالکونی سے فاخرانہ گواہی آ گئی
یہ کون لوگ ہیں جو بڑے فخر اور نخرے سے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کا یوں سرِ عام اعتراف کرتے ہیں، سیاسی کوئلے کی اس دلالی میں اپنا منہ کالا کرنا اعزاز سمجھتے ہیں۔
کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے
آواز اٹھائیں 🚨
اہلیہ اعجاز چوہدری کی آواز بنیں اور اعجاز چوہدری کی فوری رہائی اور علاج کے لئے بھرپور آواز اٹھائیں، جیل میں اعجاز چوہدری کی طبیعت ایک بار پھر سے خراب ہوا ہے
ماشاء اللہ کیا روایات اور اقدار ہیں۔
انہوں نے تو واقعی بیرسٹر صاحب کو وہ اہمیت دے دی جو انہوں نے چار سالوں کے اقتدار میں انکے لیڈر کو بھی نہ دی۔۔۔ گوہر صاحب کے لیڈر کی آنکھ خراب ہو گئی، عدالت کے مطابق بد ترین قید تنہائی کے باعث انکے بانی کو شدید انگزائٹی اور بلڈ پریشر فلکچویشن کا مسئلہ ہے اور ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ آنکھ کے مسئلے سے بھی جڑا ہوا ہے جس کو کم سے کم تقریبا پانچ ماہ ہو گئے، یہ جان لیوہ میڈیکل کنڈیشن بن سکتی ہے، ہیمرج ہو سکتا ہے، سٹروک ہو سکتا ہے لیکن ان روایات والوں کو خیال نہ آیا۔ یہاں روایات سے زیادہ یہ سیاسی آپٹکس معلوم ہوتی ہیں۔ میں ہمیشہ اس بات کی حامی رہی کہ ایوان کے باہر دوستی اور تعلق ایکراس پارٹی ہونے سے سیاسی ماحول صحت مند رہتا ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ بیرسٹر گوہر اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری شائستہ طبیعت شخصیات ہیں اور دونوں doves ہیں اپنی اپنی جماعت میں لیکن باقی جو جو بھی اس تصویر میں نظر آرہے ہیں انکی روایات اور اقدار سے زیادہ یہ تصویر ایک سیاسی نوعیت کا معاملہ ہے میری نظر میں، اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا گوہر صاحب کے بانی کی صحت پر وہ روایات اقدار نظر نہ آتیں؟)۔ ہماری اقدار اور روایات مُردوں پر فاتحہ خوانی تک ہی محدود ہیں زندہ جب تک قبر تک نہ پہنچ جائیں تب تک سیاست کی اقدار اور روایات نہیں جاگتیں؟ ذندہ انسانوں کی اہمیت جانیں سیاست اور معاشرہ دونوں بہتر ہو جائیں گے۔
ہم اپنے الائنس کا بڑا اجلاس بلا رہے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ الائنس کے ساتھ ہمارا مشترکہ مؤقف ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اسمبلی کے پاس یہ مینڈیٹ نہیں ہے، کوئی اختیار نہیں ہے کہ یہ کوئی بھی قانون سازی کر سکے۔ ابھی پیپلز پارٹی بھی اس اسمبلی کو فارم 47 کی اسمبلی کہتی ہے، جس کے ووٹ سے یہ حکومت بنی ہے، وہ بھی اسے فارم 47 کی اسمبلی سمجھتی ہے۔ اسمبلی کا کوئی اخلاقی جواز رہا نہیں ہے، تو اس کو قانون سازی کا کوئی لیگل کور حاصل نہیں ہے۔ عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہو رہی ہے، تو فاؤنڈر گروپ کا خط ہمیں پتا ہے کدھر سے آیا ہے۔ جھوٹی کہانیاں گھڑی جاتی ہیں، اس میں کوئی صداقت نظر نہیں آتی ہے۔
ڈی چوک اسلام آباد پر یومِ آزادی کی تقریب میں ضلعی حکومت کے گورکن بیوروکریٹ جو موجودہ نظام کے ملبے تلے سے بگھی میں نکل رہے ہیں۔ وفاقی دارلحکومت سے اربوں روپوں کے سرکاری ٹیکس وصول کرنے والے آخر کیونکر لوکل باڈی الیکشُ کروائینگے گے۔ بگھی دیکھ کر تالیاں بجانے والے یہ کون لوگ ہیں؟ لگتا ہے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے دعویدار اس بگھی میں جتے ہیں۔
اگر قیصر احمد شیخ صاحب ان تمام موٹر سائیکل سواروں کو نواز شریف یا مریم نواز شریف کی تصویر ساتھ لانے کا کہتے تو ن لیگ کی مفت میں ایک بڑی عوامی ریلی ہو جاتی ۔ میاں صاحب اپنے جلسوں میں لوگوں کو لانے کی ڈیوٹی قیصر احمد شیخ صاحب کو دینی چاہئیے کیونکہ پارٹی کے بڑی بڑے جگادری اتنے شارٹ نوٹس پر اتنے بندے کبھی اکٹھے نہیں کر سکے۔
عمران خان نے پاکستان کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا، دولت، شہرت اور عزت کمائی اور اسے ذاتی فائدے کے بجائے، پاکستان کے لوگوں کی خدمت کا ذریعہ بنا دیا۔ عمران خان کے مشن کے سامنے وزیراعظم کی کرسی اور عہدے ادنٰی ہیں۔
#جناح_کا_جانشین_عمران_خان