دوران ملاقات اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ٹرمپ نے فیلڈمارشل سے کہا کہ کیا تم ہمیں اڈے بنانے کیلئے جگہ دے سکتے ہو؟
فیلڈمارشل نے بیغیرتی سے بائیں آنکھ دبائی اور پوچھا: سر، مشینیں آپ کی ہوں گی یا ہماری؟
ٹرمپ نے جواب دیا:
فُدی دیا، میں چکلے والے اڈے کی نہیں بلکہ فوجی اڈوں کی بات کررہا ہوں۔
یہ کہہ کر ٹرمپ نے سیکرٹری سٹیٹ کے کان میں کہا:
یہ چیف آرمی کا ہی ہے یا کسی چکلے کا؟؟
سیکرٹری نے آہستہ سے جواب دیا:
سر، دونوں میں کوئی فرق نہیں!!!
یہ ہے سیشن جج اعجاز بٹر جس نے طیبہ راجہ سے کہا تھا کہ تم لکھ کر دے دو تمھارا لیڈر بھاگنے والا ہے تمہاری بھلائی اسی میں ہے
مگر طیبہ راجہ کے انکار پر اس نے بیل ریجکٹ کر دی تھی۔
ان تماُم پولیس والوں اور ججوں کے چہرے اب بے نقاب ہوں گ��۔
یہ کون لوگ ہیں جن کو نومئی فوجی گاڑیوں سے اُتارا گیا، اس کا حساب کیوں نہیں دیا گیا
جس طرح پی ٹی آئی کے کُچھ عہدےداروں نے ��ران پر حلف دیا کہ عمران خان نے کبھی بھی اُن کو کوئی غیر آئینی کام کرنے کا نہیں کہا اسی طرح عاصم نصیر کو قران پر حلف دینا چائیے کہ اُس نے اور اُس کے حواریوں نے نو مئی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا
یہ ویڈیو کوئی مریم نواز تک پہنچائے
اس کو کہتے ہیں ورکر کنونشن
نہ تو ٹی وی پی ایڈورٹائزمنٹ چلائی
نہ جھنڈے لگائے گئے
نہ بریانی دی گئی
نہ پیسے دیے گئے
نہ ہی کرسیاں لگائیں نہ ہی میز لگائے
نہ ہی ٹرینوں پر ای��ورٹائز کی نہ ہی دو مہینہ پہلے لوگوں کو بلایا
نہ ہی گلی گلی علاقے علاقے میں خط نہ ہی ایم این اے نہ ہی ایم پی اے کو پریشر کیا
عوام اپنی ہتھیلی پر جان رکھے عمران خان کے لیے باہر نکلی ہے
وہ بھی دن دہاڑے شرم ہے تو یہ ملک چھوڑ کر دفع ہو جاؤ