ڈپٹی کمشنر بر سوات سہیل احمد خان سے ان کے دفتر میں چیرمین تنظیم سمه لار سوات سلطان علی خان کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع بر سوات میں امن و امان، ترقی، خوشحالی اور منشیات کے خاتمے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر بر سوات نے وفد کو یقین دلایا کہ عوامی تعاون اور اداروں کی مشترکہ کوششوں سے ضلع کے مسائل کے حل، امن و امان کے قیام اور منشیات کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔ تنظیم سمه لار کے وفد نے ڈپٹی کمشنر بر سوات کی مختصر مدت میں کارکردگی کو سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
ڈپٹی کمشنر بر سوات سہیل احمد خان سے ان کے دفتر میں چیرمین تنظیم سمه لار سوات سلطان علی خان کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع بر سوات میں امن و امان، ترقی، خوشحالی اور منشیات کے خاتمے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر بر سوات نے وفد کو یقین دلایا کہ عوامی تعاون اور اداروں کی مشترکہ کوششوں سے ضلع کے مسائل کے حل، امن و امان کے قیام اور منشیات کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔ تنظیم سمه لار کے وفد نے ڈپٹی کمشنر بر سوات کی مختصر مدت میں کارکردگی کو سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
آج کوزہ بانڈئی، محلہ ڈھیرکئی میں خدائی خدمتگار نوجوان نجیب اللہ کی صدارت میں تنظیم سمه لار، کانجو پولیس ایس ایچ او محمد زیب خان، سابق ویلج کونسل چیئرمین، علماء کرام اور مشرانِ محلہ ڈھیرکئی کا منشیات فروشی کے خلاف جرگہ منعقد ہوا، جس میں نجیب اللہ نے جرگے کو بتایا کہ پولیس آپریشن سے تنگ کچھ اشتہاری منشیات فروشوں نے محلہ ڈھیرکئی کو اپنا مرکز بنا دیا ہے، جہاں منشیات فروشوں نے قریبی کھیتوں اور باغات میں منشیات فروشی کے اڈے قائم کیے ہیں، جس کی وجہ سے ہماری خواتین اور بچے گھروں سے غمی خوشی کے لیے نہیں جا سکتے۔ منشیات فروش با مسلح گھومتے پھرتے ہیں، اور دن ہو یا رات، سرِعام روزانہ کئی بار ہوائی فائرنگ بھی کرتے ہیں۔ نجیب اللہ نے واضح کر دیا کہ پولیس فوری طور پر سخت کارروائی کرکے سینکڑوں افراد پر مشتمل آبادی کو ان موت کے سوداگروں سے نجات دلائے، ورنہ ڈر ہے کہ کہیں اہلِ محلہ اور منشیات فروشوں کے درمیان خطرناک تصادم نہ ہو جائے۔ چیرمین تنظیم سمه لار سلطان علی خان نے بھی اپنے بیان میں ایس ایچ او سے اپیل کی کہ آپ چونکہ اب نئے تعینات ہوئے ہیں، ہم ہر قسم تعاون کرنے کو تیار ہیں، لیکن کسی بھی صورت کوزہ بانڈئی میں منشیات فروشی کو برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے اتنی سخت کارروائی کی جائے جس کی کوئی حد نہ ہو۔ ایس ایچ او محمد زیب خان نے مشران کی باتیں سننے کے بعد واضح پیغام دیا کہ منشیات فروشوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، اور ان شاء اللہ ان کے خلاف ایسی کارروائی کریں گے کہ وہ منشیات فروشی کی ہمت نہیں کر سکیں گے۔
تنظیم سمه لار، مرکزی دفتر
شکریہ، ایکسائز و نارکوٹکس کے صوبائی وزیر فخر جہاں صاحب۔ گزشتہ ہفتے ودودیہ ہال، سیدو شریف میں صوبائی وزیر فخر جہاں صاحب نے منشیات کے سلسلے میں کھلی کچہری منعقد کی تھی، جس میں سوات کے مشران، سرکاری افسران، ڈی آئی جی، ممبرانِ اسمبلی، ڈی پی او سوات، کمشنر صاحب اور ایکسائز فورس کے افسران شریک تھے۔ ہم نے کچھ تجاویز اور مطالبات سامنے رکھ کر منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن کرانے پر زور دیا، جس کے تناظر میں محترم منسٹر صاحب نے سوات پولیس اور ایکسائز پولیس کے مشترکہ آپریشن کا اعلان کیا۔ میں نے زندگی میں پہلی بار ایک ایسے منسٹر کو دیکھا جس نے ایک ہفتے کے اندر اپنا وعدہ پورا کرنے کے اشارے دیے۔ معلوم ہوا ہے کہ منسٹر صاحب نے ایکسائز و نارکوٹکس فورس کو مزید نفری دینے کا حکم جاری کیا ہے، نفری فراہم کرکے سوات میں منشیات فروشوں کے خلاف سخت آپریشن جاری کرنے اور پورا ایک ماہ آپریشن جاری رکھنے کی ہدایات و احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اس آپریشن کا آغاز آج شگئی، سیدو شریف سے کیا گیا ہے، جو پورے سوات میں کیا جائے گا۔ شکریہ۔ @fakharebuner
سلطان علی خان
چیرمین تنظیم سمه لار
اج اپنے گاوں کوزہ بانڈئ میں ٹیکسوں کی خلاف کل ھونے والے شٹرڈاون ھڑتال کامیاب بنانے کی لئے دکانداروں سے ملاقاتیں کی انشاالله کامیاب ھڑتال ھوگی یہ مسئلہ تاجروں کا نھیں عام عوام کا ھے لیکن ٹریڈ فیڈریشن مشران و سوات کے مشران کی مشکور ھیں کہ انھوں نے پوری ملاکنڈ ڈویژن کی عوام کی لئے اواز اٹھائی ھے
یہ دونوں بھائی کمال و جمال معصوم بھائی ہیں۔ ان کو صرف اپنے افتتاحی پروگرامز کو کامیاب بنانے اور ہجوم جمع کرنے کے لیے استعمال نہ کریں، جہاں ان کے مسخروں سے اپنے کاروبار کی مشہوری مقصد ہو، بلکہ یہ دونوں نفسیاتی طور پر معصوم ذہن نوجوان ہیں۔ ان کو روزگار دیں، ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں، جوتے، کپڑے اور روزگار دلانے کا فکر کریں۔ ایک بڑے پروگرام میں پلاسٹک کے پھٹے ہوئے چپل پہن کر آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کو صرف استعمال کیا جاتا ہے، کسی کو ان دونوں کی زندگی بنانے کا فکر نہیں۔
سلطان علی خان
محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول ضلع سوات کے زیرِ اہتمام Drug Free Khyber Pakhtunkhwa کھلی کچہری میں ایکسائز منسٹر، ڈی آئی جی ملاکنڈ، ڈی پی او سوات، اے ڈی سی صاحب، ایکسائز و نارکوٹکس افسران، ممبرانِ اسمبلی اور عمائدینِ علاقہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر تنظیم سمه لار سوات کے چیرمین سلطان علی خان کا منشیات کے خلاف خطاب۔
سوات میں منشیات کی موجودہ صورتحال ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں، آپ اتفاق کریں یا نہ کریں، میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس وقت کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی کی تعمیر یا کسی اور تعمیراتی کام سے بھی زیادہ ضروری اور اہم مسئلہ منشیات فروشی کی روک تھام ہے۔
اس کی ایک وجہ ہے، اور میں اس کی دلیل بھی بیان کرتا ہوں۔
سکول، کالج اور یونیورسٹیاں یقیناً ہماری نئی نسل کے لیے ضروری ہیں۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ ہماری نئی نسل کے لیے تعلیمی ادارے بنیں، ترقیاتی منصوبے آئیں اور تعلیم کے مواقع بڑھیں۔
لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی سوال ہے: جن بچوں کے لیے ہم یہ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بنانا چاہتے ہیں، کیا ان کا ذہن، صحت، وجود اور زندگی منشیات سے محفوظ رہے گی کہ وہ ان اداروں تک پہنچ سکیں؟
اگر ہماری آنے والی نسل ہی منشیات کی تباہی کا شکار ہو گئی، تو پھر سکول، کالج اور یونیورسٹیاں کس کے لیے ہوں گی؟
ایک ترقیاتی منصوبہ اسمبلی سے پاس کروانا ہو تو اس کے لیے فنڈز درکار ہوتے ہیں، خزانے سے پیسہ نکلتا ہے، بجٹ لگتا ہے۔ لیکن منشیات فروشی کے خلاف سخت قانون سازی ایک ایسا کام ہے جس پر صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی کے ممبران کا کوئی مالی نقصان نہیں ہوتا۔ یہ کام مفت میں ہو سکتا ہے، صرف نیت، سنجیدگی اور عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔
اسی لیے ہم اپنے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ منشیات فروشی کے خلاف سخت قانون سازی کریں، تاکہ ہماری آنے والی نسل کو اس تباہی سے بچایا جا سکے۔
میرے نزدیک اس وقت سوات میں منشیات فروشی کی روک تھام سب سے اہم عوامی مسئلہ ہے۔
سلطان علی خان، چیرمین تنظیم سمه لار
آج میں آپ کے سامنے ایک ایسے نوجوان کا تعارف پیش کر رہا ہوں جو ایک شہید پولیس افسر کا بیٹا ہے۔ تصویر میں میرے ساتھ جو نوجوان آپ کو نظر آ رہا ہے، اس کا نام اسد اللہ ہے۔ یہ شہید پولیس انسپکٹر رحیم خان کا بیٹا ہے، جو منشیات فروشوں کے ساتھ مقابلے میں شہید ہوئے تھے۔
اسد اللہ بہت خوش گفتار، خوش اخلاق اور باوقار نوجوان ہے۔ وہ منشیات فروشی کے خلاف عوامی آگاہی مہم میں ہمارے ساتھ شانہ بشانہ شامل رہتا ہے۔
اسد اللہ کا کہنا ہے کہ:
“میرے والد کو قوم کے بچوں کے دشمن، منشیات فروشوں نے شہید کیا، لیکن میں آپ لوگوں کے ساتھ اس جدوجہد میں اس لیے شریک ہوں کہ کم از کم ہماری نئی نسل کو ان موت کے سوداگروں سے بچایا جا سکے۔”
میں نے اسد اللہ سے یہ بھی پوچھا کہ بیٹا، تمہارے والد نے تو قربانی دی، لیکن تمہارا خاندان سوات پولیس یا پولیس ڈیپارٹمنٹ سے کتنا مطمئن ہے؟
اسد اللہ نے جواب دیا:
“رور باچا، سوات پولیس نے میرے شہید والد کے قاتلوں کو اپنے انجام تک پہنچایا ہے، اور میرے ایک بھائی کو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں تھانیدار بھرتی کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ ہر معاملے میں ہمارا بہت خیال رکھتا ہے، اور ہم ان سے بہت خوش ہیں۔”
شہید انسپکٹر رحیم خان کے بیٹے کی یہ باتیں سن کر میرے دل کو بہت سکون ملا۔
اللہ تعالیٰ شہید رحیم خان کو بخشے، اور ان کے بچوں کی زندگی اور مستقبل خوبصورت بنائے۔ آمین۔
دعاگو،
سلطان علی خان
تنظیم سمه لار
جناب ایکسائز منسٹر صاحب، ڈی آئی جی ملاکنڈ، ڈی پی او سوات، اے ڈی سی صاحب، ایکسائز و نارکوٹکس افسران، آپ سب یہاں اکٹھے بیٹھے ہیں۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں ترقیاتی کام بعد میں، پہلے اپنے بچوں کی زندگی چاہیے۔
میں نے جو تصویر اٹھائی ہے، یہ ایک چودہ سالہ یتیم بچے کی ہے، جو اپنی ماں کا واحد سہارا ہے، لیکن یہ اور ایسے ہزاروں بچے آئس اور ہیروئن کے نشے میں مبتلا ہیں۔ ہمیں موت کے سوداگروں، منشیات کے ڈیلروں سے تحفظ فراہم کریں۔ ہماری نسل کشی تیزی سے جاری ہے اور اس میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔
آخر میں صوبائی وزیر فخر جہاں نے سوات بھر میں منشیات کے خلاف سوات پولیس اور ایکسائز نارکوٹکس فورس کی جانب سے منشیات فروشوں کے خلاف سخت آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا، جس پر اہلیانِ سوات نے صوبائی وزیر اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
صوبائی وزیر اور ممبرانِ اسمبلی نے منشیات فروشی کے خلاف سخت سزاؤں کے لیے اسمبلی میں قانون سازی کا بھی اعلان کیا۔
سلطان علی خان، چیرمین تنظیم سمه لار، کی محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول ضلع سوات کے زیرِ اہتمام Drug Free Khyber Pakhtunkhwa کھلی کچہری میں شرکت۔