اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے محنت کشوں کے لیے زندگی کی مشکلات اب کم ہونے لگی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان محنت کرنے والے ہاتھوں کو مضبوط سہارا دیا ہے۔ راشن کارڈ کے ذریعے لاکھوں گھروں کے چولہے جلانا، معصوم بچوں کو جبری مشقت سے نکال کر تعلیم کی راہ پر لانا
اب مزدور بھائیوں کو علاج کے لیے فیکٹری چھوڑ کر یا ہسپتالوں کے چکر کاٹنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام خود آپ کی دہلیز اور فیکٹری تک پہنچ رہا ہے،
وزیراعظم شہباز شریف،فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کوئٹہ طیارہ حادثے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے دو پائلٹس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اللہ پاک شہیدوں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے ویژن "اپنی چھت اپنا گھر" کے تحت عوام سے کیا گیا وعدہ سچ ہو رہا ہے جہاں اب تک 217,498 خاندانوں میں 285.060 ارب روپے کے قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں، اور اس اسکیم کے تحت 126,051 مکانات مکمل جبکہ 58,070 گھروں پر تعمیراتی کام جاری ہے
@MaryamNSharif
گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ آئینی اختیار ہے جسے دہشت گردوں کے نرغے میں آئے عوام اور خیبرپختونخوا کے تحفظ، سلامتی اور بھتوں سے نجا�� دلانے کے لیے استعمال کیا گیا کیونکہ جس حکومت نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا تھا، وہ خود ان کی سہولت کار اور ترجمان بن کر اپنے ہی عوام اور آئین کی دشمن بن گئی۔ پوری قوم متحد ہے اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے اپنی بہادر افواج، پولیس اور سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ 13 سال سے پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کے لئے سیف ہیون بنا رکھا تھا جو اب دہشت گردی سے پاک ہوگا۔ دہشت گردوں کے بیانیے پر چلتے ہوئے پاکستانی جھنڈے کو اتارنے اور قومی ترانے کا احترام نہ کرنے والوں کو پاکستان، آئین اور عوام کے نمائندہ عہدے پر بیٹھنے کا حق نہیں۔ دہشت گردوں کی طرح سہولت کاروں کو بھی عبرت کا نشان بنانا ہوگا۔ صوبے میں تین دہائیوں سے رکا ہوا ترقی کا عمل بحال ہونے سے عوام کو تعلیم، صحت اور ترقی ملے گی، سابق قبائلی علاقوں میں انفراسٹرکچر قائم ہوگا اور ریاستی عملداری قائم ہونے سے امن کی ایک نئی صبح طلوع ہو گی۔ انشاء اللہ
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں کو تیرہ برس صرف دھرنے،انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز ملے۔ آج اگر خیبر پختونخوا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہا ہے تو یہ عوام کا نہیں،تیرہ سالہ نااہلی کا قصور ہے
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں سے سوال ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک ہی ملک میں ہیں،ایک ہی آئین اور ایک ہی قومی خزانے کے حصہ دار ہیں،پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں؟ فرق وسائل کا نہیں، نیت اور اہلیت کا ہے۔
اگر پنجاب ستھرا ہو سکتا ہے تو خیبر پختونخوا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں صفائی نہیں، صرف سیاست ہوئی۔
اگر پنجاب کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپ مل سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ترجیح بچے نہیں، دھرنے تھے۔
اگر پنجاب کی مائیں بے فکر ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں؟ کیونکہ وہاں توجہ عوام کی حفاظت پر نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی پر رہی۔
اگر پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چل سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں منصوبے زمین پر نہیں، صرف سوشل میڈیا پر چلے۔
اگر پنجاب کے گاؤں تک پختہ سڑکیں پہنچ سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کی سڑکیں ادھوری کیوں؟ کیونکہ وہاں وعدے ہوئے، کام نہیں۔
اگر پنجاب میں مفت دوا، فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز دہلیز پر ہیں تو خیبر پختونخوا کا مریض بے بس کیوں؟ کیونکہ وہاں عوام کی صحت سے زیادہ اقتدار عزیز رہا۔
"کیوں" کا جواب ایک ہی ہے: تیرہ سالہ انتشار اور نااہلی!
پنجاب نے ثابت کر دیا کہ حکومتیں بڑھکوں سے نہیں، کام، کام اور کام سے چلتی ہیں۔خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے۔
اس نوٹیفکیشن کے بعد میں نے بہت ساری خیبرپختونخوا کی وڈیو دیکھی ہیں جس میں عوام ایک دوسرے کے ساتھ مٹھائیاں تقسیم کر رہی ہیں اور خوشیاں منا رہے اس عمل سے واضح ہوا کہ عوام ان سے ہزار گنا تنگ تھی
وزیراعلی مریم نوازشریف نے پنجاب کے عوام کو "صرف" سستے آٹے کی فراہمی جاری رکھنے کے لئے 10 ارب روپے سبسڈی کی منظوری دے دی۔۔۔
لیکن پین چ و د و ں کو بس جہاز ہی نظر آتا ہے کہ اس پر گیارہ ارب لگ گئے جو کہ وہ بھی ایک اہم ضرورت ہے۔۔۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے تاریخی منصوبے "اپنی چھت، اپنا گھر" نے اقوام متحدہ کے ورلڈ ہیبی ٹیٹ پروگرام سے باوقار "اسکرول آف آنر" ایوارڈ جیت کر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ماضی کے سودی قرضوں اور ادھورے منصوبوں کے برعکس کم آمدن والے شہریوں کو 15 لاکھ روپے تک کا مکمل بلاسود قرض فراہم کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی اس مخلصانہ قیادت میں اب تک 2 لاکھ سے زائد خاندان��ں کو مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی مؤثر نگرانی کے باعث 1 لاکھ 18 ہزار سے زائد خاندان اپنے مکمل گھروں میں آباد ہو چکے ہیں جبکہ 57 ہزار سے زائد مکانات تیزی سے زیرِ تعمیر ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اصل عوامی خدمت کھوکھلے نعروں سے نہیں بلکہ ٹھوس عملی نتائج سے حاصل ہوتی ہے۔
منافقت جھوٹ یوٹرن فتنہ عمرانیہ پر آکر ختم ہے، پہلے کہتا تھا کہ سب کچھ میرے اختیار میں ہے اور جب ملک کا ستیاناس ہوگیا تو سارا الزام اسٹیبلشمنٹ پر ڈال دیا۔
ورلڈ بینک کے وفد سے انتہائی اہم اور تعمیری ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران وزیر��علی مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق پنجاب میں ڈیجیٹائزیشن، PITB اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے 5G اور ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کی فراہمی، زراعت کی ترقّی، کسان کارڈ، سپر سیڈرز، اور نہری نظام کی بہتری جیسے انقلابی اقدامات پر گفتگو۔
اس کے علاوہ STEP کے ذریعے 300 ارب کے صنعتی انقلاب، نوازشریف IT سٹی، AI آفس کے قیام اور ای کامرس کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی۔ ورلڈ بینک کے وفد نے اینٹی سموگ اقدامات کو سراہا، آخر میں وفد کو 25 سال بعد بحال ہونے والے پنجاب کے روایتی تہوار بسنت میں شرکت کی دعوت بھی دی۔