معذرت کے ساتھ کچھ پاکستان اتنے جاہل اور گنوار ہیں کہ خدا کی پناہ!
دو مہینے پہلے جب میں نے کہنا شروع کیا کہ خوفناک جنگ ناگزیر ہے ہے، اور خلیجی ممالک کو بدترین تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا، وہاں بسنے والے پاکستانی اپنا انتظام کر لیں تو بجائے شکریہ ادا کرنے کہ میں انہیں کئی ہفتے پہلے خبردار کر رہا ہوں،
انہوں نے مجھے گالیاں بکنا شروع کر دیں۔ الزامات لگانے شروع کر دیے۔ حتی کہ مجھے سینکڑوں جاہل بلاک کرنے پڑے۔
اب جنگ سر پر پہنچ چکی ہے۔ اور اب مجھے میسج کر رہے ہیں کہ لگتا ہے آپ درست کہہ رہے تھے۔ سرمایہ داروں نے خلیجی ممالک سے بھاگنا شروع کر دیا ہے۔ خصوصی پروازوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ جو بھی نکل سکتا ہے نکل رہا ہے۔
These are not the rulings of Islamic Sharia. I did not see any sexual acts in the clip—not to mention that the two individuals were a married couple.
Even if they had erred and failed to respect the sanctity of Mecca, the Kingdom of Saudi Arabia could have punished them by expelling them from the country.
If anyone deserves the death penalty, it is the person who gifted a piece of the Kaaba’s covering (*kiswa*) to Jeffrey Epstein; the one who destroyed the Prophet’s house and turned it into a restroom under the pretext of expansion; and the one who uses the sanctity of Mecca and Medina as a justification for bombing and blockading Yemen.
گم شو از ایران من عاصم منیر جاسوس!
(میرے ایران سے نکل جاؤ عاصم منیر، تم جاسوس)
گزشتہ روز تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے زبردستی مذاکرات کے لیے ایران کے دورے کے دوران ایرانی خواتین کی شدید نعرہ بازی!
ایران کے بہت بڑے بزنسمین بابک زنجانی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے جلد بارڈرز نہ کھولے تو ایران کو چاہیے پاکستان کے ساتھ بارڈرز مستقل بند کر دے اور LPG کی ایکسپورٹ روک دے۔
بابک زنجانی اسلامک اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔
وڈیو میں نظر آنے والی گاڑیاں بابک زنجانی کی کمپنی کی ہیں۔
پاکستان کو چاہیے ان کی بات توجہ سے سنیں۔ اور اپنا حساب کتاب لگائیں۔ کیا پاکستان ایران کے ساتھ بارڈرز کی مستقل بندش افورڈ کر سکتا ہے؟
ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ ہمارے بارڈرز پہلے ہی بند ہیں۔ ایران کے ساتھ بھی بند ہوجائیں گے تو ہم محصور ہوجائیں گے۔ یہ ہماری فارن پالیسی کی ناکامی ہوگی۔
@babakzanjani_ch
دنیا کی ہر فوج حرام زدگیاں کرتی ہے لیکن دنیا کی کوئی فوج اپنے ملک اور اپنے ملک کے عوام کیخلاف حرام زدگیاں نہیں کرتی یہاں تک کہ اسرائیلی فوج بھی اپنے لوگوں کیخلاف حرام زدگیاں نہیں کرتی۔ پھر ہمارے والے آخر کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں؟
میرے سہیل سے بہت سارے سوالات ہیں۔ جو پوچھتا رہوں گا۔ لیکن جب تک خان کی انڈروسمنٹ سہیل کے ساتھ ہے وہی وزیراعلی ہے۔ کوئی بھی سازش کرے گا اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ وزیراعلی لگانے بدلنے کا اختیار صرف خان کا۔ کیونکہ عوام نے ووٹ خان کو دیا۔ کوئی اور اس کا ماما چاچا نہ بنے۔ اس لئے سہیل کو ہٹانے کے ہر عمل کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ ہمارا کوئی گروپ نہیں۔ نہ ہی کسی سے زاتی عناد۔ دشمنی۔ یا دوستی۔
سوالات دونوں سے ہیں۔
گنڈاپور کے وقت ڈیڑھ سال اور سہیل کے وقت پورا سال ضائع ہوا۔ خان کو ریلیف نہ مل سکا۔ دوسری طرف فوجی آپریشن میں بے گھر کئیے جانے والوں کو گنڈا پور نے 9 ارب دہیے تو سہیل نے 22 ارب۔ یہی فوج کی ڈیمانڈ تھی۔ ڈرون پر خان کے احکامات پر دونوں نے کچھ نہ کیا۔ دونوں نے خان سے ملے بغیر بجٹ پاس کئیے۔ دونوں نے سرپلس پیسے بجٹ میں رکھے۔ یہ تمام چیزیں خان کے احکامات کے خلاف ہوئیں۔ اور بہت سارے دوسرے سوالات جو پبلک میں نہیں پوچھے جا سکتے۔ وہ خان کے سامنے بیٹھ کر باتھ ہوگی۔ انشاللہ۔ ہوسکتا ہے میں غلط ہوں۔ غلط ہوا تو خان صاحب فیصلہ کر دیں گے۔ اور خان کبھی چھپاتا نہیں۔ فیصلہ بھی پبلک ہی کرتا ہے۔
لیکن سب سوالوں کے باوجود۔ آج کے دن سہیل ہی ہمارا وزیر اعلی ہے۔ اور رہے گا۔ تا وقت کے خان اسے تبدیل کرنے کے احکامات جاری کرے۔ کیونکہ عوامی مینڈیٹ خان کا ہے-
حقیقت یہ ہے کہ اگر سعودی حکمران آن بورڈ نہ ہوتے تو غزہ میں فلسطینی مسلمانوں کا #genocide نہ ہوتا۔ پاکستان میں رجیم چینج آپریشن نہ ہوتا۔ عمران خان جیل میں نہ ہوتا۔
ملک تیمور مسعود پی ٹی آئی نارتھ ریجن کے صدر ہیں، مگر افسوس کہ اپنے ہی کارکنوں کی کوئی خبر نہیں لے رہے۔۔!!
دوسری طرف میجر طاہر صادق ایمان طاہر صادق کے ساتھ ان کے ضلع کے لوگ ہر مشکل وقت میں اس لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ وہ خود بھی اپنے کارکنوں کو مشکل میں کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔ اہل قیادت عہدوں سے نہیں، اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے سے پہچانی جاتی ہے۔
#FreeImranKhanAndFamily
Murad Saeed's mother has been injured by a mortar shell in a terrorist attack, she is disabled and severely ill, Murad Saeed's one brother is fighting cancer, have you stooped so low that now in political revenge you are evicting a disabled mother from her home? Do not take up these political enmitieps, this will only increase the hatred and division, Irshad Bhatti
کوئی کہتا ہے مجھے حرام کام نہیں کرنے تو حرام کار اسے مار دیتے ہیں۔ یہ حرام کار حرام کام کرتے ہیں حرام کھاتے ہیں حرام اوڑھتے ہیں حرام بولتے ہیں۔ غرض یہ کے یہ ہیں ہی حرامی۔
ہم کہیں نہیں جائیں گے یہی پر انکا مقابلہ کریں گے، یہ بزدل لوگ ہیں اپنی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمیں ڈرا نہیں سکتے، شہید ڈی ایس پی CTD عمران الدین کے الفاظ 💔
پختون قوم اپنے اس بہادر آفیسر پر فخر کرتی ہے اور ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا!!!
ہم کہیں نہیں جائیں گے یہی پر انکا مقابلہ کریں گے، یہ بزدل لوگ ہیں اپنی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمیں ڈرا نہیں سکتے، شہید ڈی ایس پی CTD عمران الدین کے الفاظ 💔
پختون قوم اپنے اس بہادر آفیسر پر فخر کرتی ہے اور ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا!!!
یہ میڈ اپ دہشت گردی ہے جو کبھی مے کدے، شراب خانے، ڈانس کلب، گالف کلب، فوجی ٹرک، تیل کے کنٹینر یا سمگلنگ سامان پر نہیں ہوتی!
یہ وہیں ہوتی ہے جہاں قدرتی وسائل ہوں، فوج کے بارے میں سچ بات کرنے والے علما ہوں یا آرگینک موومنٹ ہو۔
سوچیں کون ہے اس کے پیچھے!!!
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔