پاکستانی گھر کے بند دروازوں کے پیچھے…
لاہور کے ایک پرانے محلے میں، دو منزلہ گھر کے اندر دیواروں نے کئی راز چھپائے ہوئے تھے۔ باہر سے یہ گھر بالکل عام لگتا تھا—باپ کی سفید داڑھی، ماں کی چادر، بیٹیوں کی حیا، اور بیٹے کی سنجیدگی۔ مگر رات کے گہرے اندھیرے میں، جب گلی کی لائٹس بجھ جاتی اور مسجد کی آخری اذان کی گونج مدھم پڑ جاتی، تو گھر کے اندر سلگتی ہوئی آگ جاگ اٹھتی۔
اس گھر کا نام تھا “حفیظ فیملی”۔
باپ، حاجی عبداللہ، ساٹھ سال کے، مسجد کے امام کے قریب ترین دوست، اور محلے کے معزز آدمی۔ ماں، بیگم صفیہ، پچاس کی، خاموش، فرمانبردار، اور گھر کی دیواروں میں گھری ہوئی عورت۔ بڑا بیٹا عمر، اٹھائیس سال کا، بیرونِ ملک سے واپس آیا ہوا، شادی شدہ مگر بیوی کو دبئی چھوڑ آیا تھا۔ چھوٹی بیٹی زارا، انیس سال کی، کالج کی طالبہ، خوبصورت، شرمیلی، اور اپنے بڑے ب��ائی کی آنکھوں میں کچھ ایسا دیکھتی جو کسی بہن کو نہیں دیکھنا چاہیے۔
اور پھر وہ رات آئی…
پہلی چنگاری
رات کے بارہ بجے تھے۔ گھر میں سب سو چکے تھے۔ زارا اپنے کمرے میں بستر پر لیٹی ہوئی تھی، موبائل کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ دروازہ ہلکے سے کھلا۔ عمر داخل ہوا۔ اس نے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور تالہ لگا دیا۔
زارا نے سر اٹھایا۔ “بھائی…؟ اتنی رات کو…؟”
عمر نے کچھ نہیں کہا۔ وہ قریب آیا، بستر کے کنارے بیٹھا، اور زارا کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے انگوٹھے نے زارا کی ہتھیلی پر ہلکا سا دباؤ ڈالا، پھر آہستہ آہستہ اس کی کلائی سے اوپر کی طرف پھسلتا گیا۔
“تم سو نہیں رہی؟” اس کی آواز بمشکل سنائی دی، گہری اور بھاری۔ “میں ت��ہارے کمرے کے باہر کھڑا سوچ رہا تھا… تمہارے جسم کی خوشبو دیواروں سے آرہی تھی۔”
زارا کی سانس تیز ہو گئی۔ “میں… سو رہی تھی۔ بھائی یہ ٹھیک نہیں… ماں باپ…”
عمر نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا، آنکھوں میں بھوک۔ “آج ماں باپ سو گئے ہیں۔ گھر بالکل خاموش ہے۔” اس نے زارا کے سرہانے ہاتھ رکھا، بالوں میں انگلیاں پھیریں، پھر اس کے کان کے پیچھے والے نرم حصے کو انگلی سے چھوا۔ “تم جانتے ہو میں کب سے تمہیں دیکھ رہا ہوں؟ تمہاری یہ چھوٹی سی کمیز… تمہارے یہ بھرتے ہوئے سینے… میں رات بھر سوچتا رہتا ہوں کہ ان کے نیچے کیا ہوگا۔”
زارا کی پلکیں جھپکیں۔ “بھائی… خدا کے لیے… یہ گناہ ہے…”
عمر نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔ “شش… آج رات صرف ہم دونوں ہیں۔ کوئی نہیں جانے گا۔
اس نے زارا کو آہستہ سے بستر پر لٹایا۔ اس کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولنے لگا۔ زارا نے ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی مگر عمر نے اس کے ہاتھوں کو سر کے اوپر پکڑ لیا اور ایک ہاتھ سے دونوں کلائیوں کو دبا کر رکھا۔
“ڈرو مت… میں تمہارا بھائی ہوں۔ میں تمہیں تکلیف نہیں دوں گا… صرف لذت دوں گا۔”
گرلز کالج ڈیوٹی
پچاس سالہ حمید تین جوان بچوں کا باپ تھا۔ دو بیٹے کالج میں تھے اور بیٹی مہرین بائیس سال کی تھی۔ میٹرک کے بعد اس نے پرائیوٹ طور پر بی اے کی تیاری شروع کر دی تھی۔ گھر پر ہی کتابیں کھول کر بیٹھتی، نوٹس بناتی، اور امتحانات کی تیاری کرتی۔ کالج کی ��اقاعدہ کلاسز میں نہیں جاتی تھی۔
مڈل ایسٹ میں پندرہ سال گزار کر جب حمید پاکستان واپس آیا تو جیب میں کچھ بچت تھی مگر مستقبل کی فکر بھی۔ اس نے سوچا کہ ایک گاڑی لے کر کالج کی لڑکیوں کو اٹھانے کا کام شروع کرے تو مہینے کا اچھا خاصا پیسہ بن سکتا ہے۔ قسطوں پر ایک سفید سزوکی پک اپ خرید لی۔ گاڑی چمکدار تھی، سیٹیں صاف، اور اے سی بھی ٹھیک چل رہا تھا۔
پہلے ہفتے ہی کالج کے گیٹ کے باہر کھڑا ہو گیا۔ بورڈ لگا دیا: “کالج ڈیوٹی – محفوظ اور وقت پر”۔ شروع میں چند لڑکیاں ہی بیٹھتی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ گاڑی بھرنے لگی۔ زیادہ تر بیس-اکیس سال کی تھیں۔ حمید کی نظر کبھی کبھی ان کے جسموں پر پھسل جاتی تو وہ فوراً نگاہیں نیچے کر لیتا۔ مگر رات کو جب گھر آتا تو وہی لڑکیاں اس کے دماغ میں گھومتی رہتیں۔
ایک دن ایک نئی لڑکی بیٹھی۔ لمبی سی، گندمی رنگت، کالے بال کندھوں تک، اور شلوار قمیض کے یونیفارم میں بھی جسم کی لکیریں چھپ نہ پا رہی تھیں۔ قمیض قدرے فٹ تھی اور شلوار کی کمر تنگ۔ اس نے سامنے والی سیٹ پر بیٹھنے کی اجازت مانگی۔ حمید نے سر ہلا دیا۔
گاڑی چلتے ہی اس نے پوچھا، “انکل، آپ کب سے یہ ڈیوٹی کر رہے ہو؟”
حمید نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “ابھی چند دن ہوئے۔ تمہارا نام کیا ہے؟”
“زویا۔”
اس کے بعد ہر روز زویا سامنے والی سیٹ پر بیٹھتی۔ کبھی اس کی ران حمید کی کہنی سے ٹکراتی، کبھی گاڑی کے جھٹکے سے ذرا سا جھک جاتی اور اس کی خوشبو گاڑی میں پھیل جاتی۔ حمید اپنے آپ کو روکتا، مگر رات کو وہی زویا اس کے دماغ میں گھومتی رہتی۔
کالج کی ڈیوٹی کے بعد زیادہ تر ڈرائیور ایک الگ واٹس ایپ ��روپ میں باتیں کرتے تھے:
“آج فلاں لڑکی کی رانوں پر ہاتھ پھیرا، بہت نرم تھیں۔”
“کل والی نے تو خود میرے ہاتھ کو اپنے ممّوں پر رکھ دیا۔”
“اس نئی والی کے کپڑے اتنے ٹائٹ ہیں کہ بیٹھتے ہی سب کچھ دکھائی دے جاتا ہے۔”
حمید ان سب میسجز کو خاموشی سے پڑھتا، کبھی جواب نہیں دیتا تھا۔ اس نے آج تک کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ نہ ہاتھ پھیرا، نہ چھوا۔ وہ صرف گاڑی چلاتا اور لڑکیوں کو ان کے گھروں پر اتار دیتا۔
اس کا دل اکثر کرتا تھا کہ زویا کی رانوں پر ہاتھ پھیرے، اس کے جسم کو چھوئے، مگر ہمت نہیں ہوتی تھی۔ دوسرے ڈرائیور جو کرتے تھے، وہ کبھی نہ کر سکا۔
ایک دن اس کی بیٹی مہرین کے بی اے کے پیپرز شروع ہونے والے تھے۔ پرائیوٹ امیدوار ہونے کے باوجود اسے کالج میں حاضر ہو کر پیپر دینا تھا۔ یہ اس کی زندگی میں پہلی بار تھا کہ وہ باپ کے ساتھ کالج جا رہی تھی۔ حمید نے صبح ناشتے پر کہا، “آج گاڑی میں جگہ زیادہ ہو گی۔ تم بھی ساتھ چل لو، میں تمہیں کالج چھوڑ آؤں گا۔”
مہرین نے سر ہلا دیا۔ دل میں عجیب سی گھبراہٹ تھی۔ بائیس سال کی عمر میں پہلی بار باپ کے ساتھ کالج جانا… اور وہ بھی اپنے فائنل کے پیپرز دینےکے لیے۔
گاڑی میں رش بہت زیادہ ہو گیا۔ پیچھے سیٹیں بھر چکی تھیں۔ ایک اور لڑکی، جو کافی بھری جسم والی تھی، آگے آنے پر مجبور ہو گئی۔ تینوں آگے بیٹھ گئے۔ مہرین بیچ میں تھی۔
گاڑی چلتے ہی جگہ کی کمی کی وجہ سے مہرین کے نرم کولہے اپنے ابو کی ران سے سکڑ کر ٹچ ہو گئے۔ ہر جھٹکے کے ساتھ وہ مزید دبتے جا رہے تھے۔ حمید نے سانس روک لی۔ اس نے ��ظر نیچے کیے رکھی، مگر جسم میں ایک عجیب سی گرمی پھیل رہی تھی۔
گیئر چینج کرتے وقت اچانک ہی بے خیالی میں حمید کا دایاں ہاتھ پیچھے ہٹا… اور پھسل کر سیدھا مہرین کی رانوں کے درمیان چلا گیا۔
حمید کی ہتھیلی شلوار کے اوپر سے سرکتی ہوی سیدھا اس کی سگی بیٹی کی جوان چوت کے گرم نرم گوشت سے جا لگی۔ مہرین کے دونوں رانوں کے درمیان، شلوار کے کپڑے کے اوپر سے، اس کی انگلیاں دب گئیں۔ ایک لمحے کے لیے سب کچھ رک سا گیا۔
حمید نے جیسے ہی محسوس کیا کہ اس کا ہاتھ مہرین کی رانوں کے درمیان ہے، ایک دم ہاتھ ہٹا لیا۔ دل زور سے دھڑک رہا تھا، پیشانی پر پسینہ آ گیا تھا۔ اس نے فوراً گیئر پکڑ لیا اور نگ��ہیں سڑک پر جما لیں۔
حمید سے یہ حرکت ہوی تو بے خیالی اور بہت اچانک تھی
مگر اس اچانک حرکت کی وجہ سے اب مہرین کی نفسیاتی کیفیت بالکل الٹی ہو چکی تھی۔
صبح جب ابو کا ہاتھ اس کی رانوں کے درمیان پھسلا تھا، تو پہلے لمحے میں اسے سخت جھٹکا لگا تھا۔ شرم، خوف، اور ایک عجیب سی گھبراہٹ۔
اس دن مہرین کے اندر کچھ اور ہی حالت ہونے لگی تھی
اذا انت للحين ماجربت التطبيق ذا فاتك نص عمرك😭
تفوتك المتعه المجانيه.👇🔥
https://t.co/srOVDx9S7w
حمله والحقق عليه وهو مجاني.❤🔥وبتلقى فيه المزز تقدر تسولف معهم وتفتح كام وتريح نفسك 🔥🥵
👇قناة المنافع الخاصة
https://t.co/7bU8PuQk0o
اذا انت للحين ماجربت التطبيق ذا فاتك نص عمرك😭
تفوتك المتعه المجانيه.👇🔥
https://t.co/srOVDx9S7w
حمله والحقق عليه وهو مجاني.❤🔥وبتلقى فيه المزز تقدر تسولف معهم وتفتح كام وتريح نفسك 🔥🥵
👇قناة المنافع الخاصة
https://t.co/7bU8PuQk0o
اذا انت للحين ماجربت التطبيق ذا فاتك نص عمرك😭
تفوتك المتعه المجانيه.👇🔥
https://t.co/srOVDx9khY
حمله والحقق عليه وهو مجاني.❤🔥وبتلقى فيه المزز تقدر تسولف معهم وتفتح كام وتريح نفسك 🔥🥵
👇قناة المنافع الخاصة
https://t.co/7bU8PuPMaQ
https://t.co/1aQpGp0dcz
اذا انت للحين ماجربت التطبيق ذا فاتك نص عمرك😭
تفوتك المتعه المجاني��.👇🔥
https://t.co/srOVDx9S7w
حمله والحقق عليه وهو مجاني.❤🔥وبتلقى فيه المزز تقدر تسولف معهم وتفتح كام وتريح نفسك 🔥🥵
👇قناة المنافع الخاصة
https://t.co/7bU8PuQk0o
تعبت وانت تجلغ على المقاطع؟ 🥵🔥
حمل هذه التطبيق و تع نفرك سوا بالكام مجانا 👇💥
https://t.co/Pe2qkZx87V
تطبيق كام بنات مجانا موجوده هناك 24 ساعه فاتحه❤️🔥
👇قناة المنافع الخاصة
https://t.co/A3LqmCovww
اذا انت للحين ماجربت التطبيق ذا فاتك نص عمرك😭
تفوتك المتعه المجانيه.👇🔥
https://t.co/srOVDx9S7w
حمله والحقق عليه وهو مجاني.❤️🔥وبتلقى فيه المزز تقدر تسولف معهم وتفتح كام وتريح نفسك 🔥🥵
👇قناة المنافع الخاصة
https://t.co/A3LqmCovww