اگرہمارا کوئی جاننے والا یا کوئی محلہ دار مسافر کا حق چھینتا ہے یا اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتا ہے تو از روئے قرآن ہمارا فریضہ ہے کہ اس سے مسافر کے حق کا مطالبہ کیا جائے، اس کی اصلاح کی جائے کہ اس سماج میں اللہ تعالیٰ نے حسن و خوبصورتی اور ایک دوسرے کا احساس پیدا فرمایا ہے، اس خوبصورتی کو نہ گنوایا جائے اور اس احساس کے دامن کو اپنے ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے-
مکمل مضمون: مسافر کےحقوق، ماہنامہ مرآۃ العارفین انترنیشنل، جنوری 2021
ڈاکٹر سیدہ عارفہ
میں خدا اور انسان کے بارے میں آج تک بس اتنا ہی جان پانی کہ مجھے جب بھی خدا کی ضرورت پڑی اس نے انسان کا روپ دھار لیا اور جب جب مجھے انسان سے کام پڑا تو وہ خدا بن بیٹھا ۔
آتش فشاں پھٹنے سے لاوا اور راکھ بہتے ہوئے سمندر میں جا گرے، جس سے سمندر میں طوفانی لہر پیدا ہوئی، جو شمال میں ہزاروں افراد کی جان لے گئی۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر راکھ کا ستون 48 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ گیا۔
آج ہم پیداوار بڑھانے کی کوشش میں اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ کرہ ٔارض پر کئی انواع معدومیت کے خطرے میں ہیں اور دنیا کا ایکوسسٹم خطرے کی زد میں آ گیا ہے- یہ سب اس غفلت کی وجہ سے ہے کہ ہم خود کو فطرت کا حصہ سمجھنے کی بجائے اس کا مالک تصور کرتے ہیں- اس لیے فطرت کی حفاظت ہماری بنیادی انسانی اور بطور مسلمان ہماری ایمانی ذمہ داری ہے-
مکمل مضمون: موسمیاتی تبدیلیاں اور ہماری زمین: قرآن کریم اور سیرت النبیﷺ سے اخلاقی زاویہ نظر (ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، فروری 2026ء)
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ستّار العیوب (عیبوں کو چھپانے والا) ہے- وہ اپنے بندوں کے عیبوں کو ڈھانپتا ہے، ان کی کم��وریوں کو ظاہر نہیں ہونے دیتا، حالانکہ وہ ہر عیب کو جانتا ہے، ہر نقص سے واقف ہے- جب ایک انسان اپنے آپ کو اس صفتِ الٰہی کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے، تو اس کے لیے یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ بھی دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالے- کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسان خامیوں سے خالی نہیں- ہر فرد کے اندر کوئی نہ کوئی کمزوری، کوئی نہ کوئی نقص ضرور موجود ہے،چاہے وہ اسے تسلیم (Confess) کرے یا نہ کرے-
مکمل خطاب: گوجرانوالہ میڈیکل کالج، 6 جون 2024ء
دین کا معیار کیا ہے؟ کیا محض کسی نام یا نسبت کا دعویٰ، یا وہ اصول جن میں حرمت، عدل اور نسبتِ رسول (ﷺ) کا احترام شامل ہے؟ جب ان اصولوں کو نظر انداز کیا جائے تو محبت کے دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں اور جب محبتِ اہلِ بیت کو تعصب یا مخالفت کی بنیاد پر رد کیا جائے تو یہ رویہ خود ایک گہرے فکری بحران کی علامت بن جاتا ہے-
مکمل خطاب: میلادِ مصطفےﷺ وعرس مبارک سید الشہداء حضرت امام حسین(رض)، دربار حضرت سلطان باھوؒ ،5 جولائی 2025ء
جب تک امت کے دلوں میں حضرت امام حسین (رض) کی محبت ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود رہی وہ ظلم کے سامنے جھکنے کو تیار نہ ہوئی- اس محبت کو محدود و مقید کرنے کیلئے مختلف فکری رجحانات پیدا کیے گئے تاکہ امت کو کمزور کیا جا سکے-
خطاب:میلادِ مصطفےﷺ وعرس حضرت امام حسین(رض) ،5جولائی 2025ء
محبتِ اہلِ بیت ایمان اور نجات کے باب میں ایک بنیادی تقاضا ہے- اگر علم و عمل اس معرفت سے خالی ہوں تو وہ اپنی روح کھو دیتے ہیں- انسان کو اپنا آپ اہلِ بیت کی سچی مودّت کے میزان پہ پرکھنا چاہئے-
مکمل خطاب: میلادِ مصطفےﷺ وعرس حضرت امام حسی��(رض)، دربار حضرت سلطان باھو،5 جولائی2025ء
واقعۂ کربلا امتِ مسلمہ کی فکری و عملی سمت کا تعین کرنے والا معیار ہے-یہ کسوٹی فیصلہ کرتی ہے کہ کون ظلم، غصب، جبر، تشدد اور استبداد کے ساتھ کھڑا ہے اور کون عدل، حق، شرافت، اخلاق، کردار، علم اور حلم کی صف میں ہے-
خطاب: میلادِ مصطفےﷺ و عرس مبارک حضرت امام حسین(رض)،5 جولائی 2025ء