ایک اٙرب پٙتی " رانا صاحب " اپنی بیوی کے ساتھ فائیو سٹار ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں ڈِنر کر رہے تھے.
ٹھیک اُسی وقت ایک بیس، بائیس سال کی ماڈرن لڑکی چُست مِنی سکٙرٹ اور چھوٹا سا ٹاپ پہنے مٙٹکتے ہُوے آئی اور رانا صاحب کو طویل فلائینگ کِس کرنے کے بعد
"پھر ملتے ہیں"
کہہ کر مٙٹکتے ہُوے چلی گئی.
ہٙکا بٙکا بیوی لال پیلی ہوتے ہُوئے چیخی.....
کون تھی وہ لڑکی۔؟
رانا صاحب: (اطمینان سے)
ارے وہ.......ایسے ہی.....
گرل فرینڈ ہے میری.
بیوی : کیا کہا...... گرل فرینڈ....؟
مُجھے اٙبھی اور اِسی وقت طلاق چاہئے.
رانا صاحب : ٹھیک ہے.
کوئی مسئلہ نہیں.
لیکن سوچ لو،
تُمھیں تُمہارے سارے واجبات تو مِل جائیں گے
لیکن وہ سال میں
آٹھ، دس بار مال میں شاپنگ،
دو بار ہِل سٹیشن کی سیر،
گیرج میں کھڑی کار،
وہ مہنگے کلٙبوں کی تُمہاری پارٹیاں،
اِن تمام چیزوں سے تُمھیں محروم ہونا پڑے گا"...!!!!
بیوی سوچ میں پڑ گئی....!!!!!!
پِھر اچانک بیوی کی نظر اُن کے پڑوسی نیازی صاحب پر پڑی جو اپنے سے آدھی عُمر کی جوان لڑکی کے ساتھ ریسٹورنٹ میں داخل ہو رہے تھے.
بیوی نے حیران ہو کر پوچھا
ارے....!!!!!!!!
یہ نیازی صاحب کے ساتھ وہ لڑکی کون ہے۔؟
رانا صاحب نے پلٹ کر اُس طرف دیکھا
اور پِھر لا پرواہی سے بولے
وہ.........
وہ اُن کی گرل فرینڈ ہے........!!!!!!
بیوی کُچھ دیر سوچتی رہی
پِھر بولی.....
"اپنی والی زیادہ خوبصورت ہے.... نا.....!!!"
😂😂😂😂😂😂
#GodMorningTuesday #NEDAUT #Origin #RevolutionNowOrNever #GodMorningWednesday #RejectEconomicOppression
یہ اپنی مرضی سے کھاتا ہے، اسے اٹھا لو۔
کھانے والوں سے کچھ جدا ہے اسے اٹھالو۔
وہ اس سے پہلے جن کو اٹھا لیا تھا۔
یہ انکا بھی کھانا کھاتا ہے، اسے اٹھا لو۔
یہ پوچھتا ہے کہ آج پکا کیا ہے؟
چھوٹا گوشت پکا ہے اسے اٹھا لو۔
اسے بتایا بھی تھا کہ کیا کھانا ہے کیا نہیں
یہ سب کچھ ہی کھا گیا ہے اس اٹھا لو۔
سوال کرتا تھا عید پہ کیا کرنا ہے؟
عید پہ اسے کرنا ہے، اسےاٹھالو۔
@T20WorldCup #t20world #T20CWC2024 #PakvsUSA #azam #Euro2024 #NEDCAN
کیا آپ جانتے ہیں؟ تھوریم کی تھوڑی سی مقدار ایک گاڑی کو سو سال چلانے کے لیے کافی ہے ؟ ⚡⚡⚡⚡⚡
باہر کے ممالک اس پر کام کر رہے ہیں اور گاڑیوں کے چھوٹے انجن بھی بنا رہے ہیں اگر یہ ٹیکنالوجی بھی پاکستان میں آ گئی تو پاکستان میں بجلی، انرجی، اور توانائی ⚡ کا مسئلہ آئندہ سو سال کے لیے ختم ہو سکتا ہے حکومت کو اس پر کام کر نا چاہیے.
Imagine a car that could run for over 100 years without refueling! 🌟 Laser Power Systems is exploring the use of thorium, an incredibly dense and abundant energy source, to revolutionize transportation and power generation.
A thorium-powered engine, weighing about 500 pounds, could transform both personal and commercial vehicles, providing unmatched efficiency. With thorium packing 20 million times more energy than coal, the possibilities are endless. CEO Dr. Charles Stevens envisions thorium turbines bringing affordable energy to remote areas, powering restaurants, hotels, and even small towns.
#ThoriumPower #SustainableEnergy #FutureOfTransport #Innovation #CleanEnergy
یہ ایک عظیم برگد کا درخت ہے (Ficus benghalensis) جو آچاریہ جگدیش چندر بوس انڈین بوٹینک گارڈن، شیب پور، ہاوڑہ، کولکتہ، بھارت میں واقع ہے۔
اسے 1989 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں دنیا کے سب سے بڑے درخت کے طور پر بھی درج کیا گیا تھا۔
🌿🍃🥀🌾🌱
.
.
.
.
#trees#treeplanting#plants #plantation
#islamabadbeautyofpakistan #islamabad #islamicrepublicofpakistan #Pakistan #beautifuldestinations #beauty #blogger #bloggersofinstagram #margallahills #mountains #li #dawndotcom #morning #northernareasofpakistan #rain #winter #islamabad #lahore #trending #rain #etribune #potraitphotography #mountainview #lhr #LahoreRang #lahore
#MangoSeason🥭
ملتان کو آم کی پیداوار کی وجہ سے بھی شہرت حاصل ہے لیکن ملتان کے علاوہ کچھ اور اضلاع بھی ہیں جو آم کی پیداوار کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی مشہور ہیں جن میں سرفہرست صوبہ سندھ کا ضلع "میرپور خاص " ہے ملتان کی طرح میرپور خاص کو بھی Mango City کا درجہ حاصل ہے اور میرپور خاص کی تحصیل سندھڑی کے نام پر آم کی ایک قسم کا نام رکھا گیا ہے جو اپنے بڑے سائز اور ذائقہ کی وجہ سے آموں کا بادشاہ کہتا ہے اور ملک کے طول وعرض میں Mango Milk Shake میں استعمال ہوتا ہے۔
میرپور خاص کے علاوہ آم کی پیداوار میں ضلع رحیم یار خان، مظفرگڑھ، لودھراں اور وہاڑی، مٹیاری، حیدرآباد اور سانگھڑ بھی کافی اہمیت کے حامل ہیں۔
تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کراچی سے میرپورخاص جنکشن کے درمیان چلنے والی شاہ لطیف ایکسپریس ٹنڈوجام کے قریب آم اور کیلوں کے سرسبز باغات میں سے گزر رہی ہے۔
Guddu Pakistani📸
#mango #summer #season #mirpurkhas #mangocity #nature #greenery #photography
#sindh #tandojam #hyderabad
🌹🥰🌹🫀
ہم میں سے
95 فیصد لوگ گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘
🥰
میں اکثر لوگوں سے پوچھتا رہتا ھوں کہ
آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ اپنے والد سے بہتر زندگی نہیں گزار رہے؟“
🤨 ہر شخص ہاں میں سر ہلاتا ہے!!
آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں‘
🫀
آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ 😡
آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا ہوتا تھا اور پورا خاندان ”اوئے پکھا ادھر کرئیں“ کی آوازیں لگاتا رہتا تھا!
😆 سارا گھر ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا🥹
لوگ دوسروں کے گھروں سے بھی برف مانگتے تھے!
ہمسایوں سے سالن مانگنا‘ شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا بھی عام تھا!
😆بچے پرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے!
لوگوں نے باہر اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے🤣‘
دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا!
سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول اور کھیر بنتی تھی!مرغی صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی اور بیمار بے چارے کو اس کا بھی صرف شوربہ ملتا تھا!
پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہوتا تھا 😂
ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دعا کی طرح دیکھا جاتا تھا 🫡
بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جوتے عید پر ملتے تھے۔😇
سائیکل خوش حالی کی علامت تھا!
🤣 اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا!
🫣 گاڑی صرف کرائے پر لی جاتی تھی‘ بس اور ٹرین کے اندر داخل ہونے کے لیے باقاعدہ دھینگا مشتی ہوتی تھی
اور کھنے سیک دیے جاتے تھے اور کپڑے پھٹ جاتے تھے!
😂😂گھر کا ایک بچہ ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے وقف ہوتا تھا!
😆 وہ آدھی رات تک ”اوئے حمزے “ کی آواز پر دوڑ کر چھت پر چڑھ جاتا تھا اور انٹینے کو آہستہ آہستہ دائیں سے بائیں گھماتا رہتا تھا اور اس وقت تک گھماتا رہتا تھا جب تک نیچے سے پورا خاندان ”اوئے بس“ کی آواز نہیں لگا دیتا تھا۔😂😂
پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ ہوتا تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا😂😂
سارا بازار مسجدوں کے استنجا خانے استعمال کرتا تھا‘ نہانے کے لیے مسجد کے غسل خانے کے سامنے قطارلگتی تھی!
نائی غسل خانے بھی چلاتے تھے‘ یہ سردیوں میں حمام کے نیچے لکڑیاں جلاتے رہتے تھے اور لوگ غسل خانوں کے اندر گرم پانی کے نیچے کھڑے رہتے تھے اور نائی جب ان سے کہتا تھا ”باﺅ جی بس کردیو پانی ختم ہو گیا جے!
🫣🫣
اور لوگ کپڑے کے ”پونے“ میں روٹی باندھ کر دفتر لے جاتے تھے!
🥰🥰بچوں کو بھی روٹی یا پراٹھے پر اچار کی پھانگ رکھ کر سکول بھجوا دیا جاتا تھا اور ”لنچ بریک“ کے دوران یہ لنچ پھڑکا کر نلکے کا پانی پی لیتے تھے
🤨🤨
اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں کھانا‘ کھانا نہیں ہوتا تھا روٹی ہوتا تھا!
😇😇 امیر ترین اور غریب ترین شخص بھی ڈنر یا لنچ کو روٹی ہی کہتا تھا‘ لوگ لوگوں کو کھانے کی نہیں روٹی کی دعوت دیتے تھے اور یہ زیادہ پرانی بات نہیں‘ چالیس اور پچاس سال کے درمیان موجود اس ملک کا ہر شخص اس دور سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔🫀🫀
آپ کسی سے پوچھ لیں آپ کو ہر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا🤣🤔😆
اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہوں گی اور کوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہوا بھی!
ہم سب نے یہاں سے زندگی شروع کی تھی!
🫀🌹‘
اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا!
آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بہت کم لوگوں کو دیتی ہے!
🌹
آج اگر یورپ کا کوئی بابا قبر سے اٹھ کر آ جائے تو اسے بجلی‘ ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا
🥹🥰
جب کہ ہم اگر صرف تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دنیا میں جا گریں گے۔😆🥰
لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟😡😡
میں جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے
🤔🤔
ناشکری!
ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے
😡😡
اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔🤨🤨
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا لوگ پانی پیتے ہیں لیکن پانی پینے کے باوجود ان کی پیاس نہیں بجھتی
🫣🫣
‘ یہ برف تک گھول کر پی جائیں گے لیکن اس کے باوجود ان کی زبان باہر لٹک رہی ہو تی ہے!
🤔🤔
ہم میں سے کچھ لوگ ”آل دی ٹائم“ بھوکے بھی ہوتے ہیں‘ یہ کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں لیکن ان کی بھوک ختم نہیں ہوتی!
اپنے انجینئیر دوستوں کے نام ۰۰
دوستوکبھی ان بابا جی کا دن بھی منالیا کرو ، ممکن ہو تو ان کے نام کی کوئی یاد گار ہی بنا ڈالو ۰۰ کوئی بہت بڑی لائیبریری ۰۰۰ کوئی مثالی انجینیرنگ لیب ۰۰۰ ان کے نام کا کوئی ایوارڈ ۰۰۰ کوئی اسکالر شپ ۰۰۰ کچھ تو ۰۰۰۰ یہ بھی نہ ہو سکے تو کبھی ان کے نام یا ان کی تصویرکو پھولوں ہی سے مہکا دیا کرو ۰۰۰ یہ کتنا بڑا احسان ہے ڈنشا جی کا ہماری نسلوں پر کہ وطن عزیز کے لاکھوں انجینئرز نے اپنے سپنوں کی تعبیر محض ان کی وجہ سے پائی ۰۰
لائق صد احترام نادر شا ایدل جی ڈنشا نے قیام پاکستان سے ۲۷ سال قبل گویا ۱۹۲۰ میں اپنا تن من دھن سب کچھ لگاکر سٹریچن روڈ کراچی پہ ایک مثالی درس گاہ (انجینیرنگ کالج )بنائی جو ان ہی کے نام سے موسوم ہوئی اور بعد ازاں این ای ڈی انجینیرنگ یونیورسٹی کہلائی ۔
مجھے یہ بتا تے ہوئے اچھا لگ رہا ہے کہ اس گھر سے تھوڑی سی نسبت مجھے بھی رہی ۰۰۰ این ای ڈی کی قابل ترین نواسی فرشتہ ڈنشا، ٹی آر سی میں میری ساتھی رہیں ۔ ڈنشا جی کی صاحب زادی ، فرشتے کی امی اور گویا میری قابل احترام آنٹی ارنواز ڈنشا طویل عرصے تک اے ایم آئی ( ایسوسی ایشن آف مانٹیسوری انسٹی ٹیوٹس ) سے وابستہ رہیں ۰۰ میں قسم کھا کے کہتا ہوں میں نے ان دونوں ماں بیٹیوں کو فروغ علم اور تربیت اساتذہ کے حوالے سے جس لگن اور جنون سے کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کی کوئی اور مثال مجھے کہیں نظر نہیں آتی ۔
ایک روز میں نے آنٹی ارنواز سے فرشتے کی شکایت کی اور کہا کہ ۰۰ آنٹی اپنی بیٹی کو سمجھائیں ۰۰ یہ کس قدر کام کرتی ہے ۰۰ میں نے کبھی اسے سکون سے بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا ۰۰ مجھے ڈر لگتا ہے اسے کچھ ہو نہ جائے ۰۰۰ آنٹی جو اس وقت گھر کے کسی کام میں مصروف تھیں ، اسی محویت سے کام کرتے ہوئے کہنے لگیں ۰۰ کام کرتے ہوئے کب کسی کو کچھ ہوتا ہے ۰۰ کام ہی تو زندہ رکھتا ہے ہمیں ۰۰۰ کام کرتے ہوئے آج تک فرشتے کی ماں کو کچھ نہیں ہوا تو یقین کرو کہ اسے بھی کچھ نہیں ہو گا ۔
کیسی دوربین نگاہ رکھنے والے لوگ !! میرے لیئے تو رول ماڈل تھے اور ہمیشہ رہیں گے ۔ ہمہ وقت تتعلیم کے فروغ کے لیئے کچھ نہ کچھ کرتے رہنے والے ،لوگوں کو ہنر مندی کے سبق دینے والے ۰۰۰۰ سچ مچ کتنے بڑے ، کتنے اچھے ۰۰۰ بہت جلد اس مثلث پہ ایک مفصل مضمون لکھوں گا ۰۰ وعدہ رہا ۔
ڈنشا جی، ارنواز آنٹی اور فرشتے ۰۰ ہماری محبتیں ، عقیدتیں ، ہماری دعائیں اور شبھ کامنائیں سب آپ تینوں کے لیئے ۔
ایک مقدمے میں جج نے ملزمہ سے پوچھا : تمہیں اپنے شوہر کوچاے میں زہر ملا کر دیتے وقت ترس نہیں آیا ملزمہ : آیا تھا ۔ جب اس نے دوسری پیالی مانگی 🤣😀💯
•
•
•
•
•
•
#ڈاکٹرکامیڈن#islamabadbeautyofpakistan#Islamabad#islamicrepublicofpakistan#pakistan#fnumankhan #beautifuldestinations #ApnaHaLEDiLSialkot
#beauty #blogger #bloggersofinstagram #margallahills #mountains #li #dawndotcom #morning #northernareasofpakistan #rain #winter #islamabad #lahore #trending #rain #etribune #potraitphotography #mountainview #lhr
#LahoreRang #Lahore #lahorephotographylahore
کراچی کا ڈرائیو ان سینما۔
سن 80 کی دھائی میں پہلی بار یہاں آئے. گاڑیوں کی لائینیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گاڑی کے ساتھ پارکنگ کی مخصوص جگہ پر ایک پول بھی نصب تھا جس پر لاؤڈسپیکر رکھا تھا جس سے ہر گاڑی میں بیٹھے افراد کو آواز سنائی دیتی تھی.
سردیوں کے دنوں میں اس لاؤڈسپیکر جسکے پیچھے تار بھی لگی ہوتی تھی اسکو اٹھا شیشہ بند کرکے گاڑی کے اندر رکھ لیا کرتے تھے اور سامنے کثیرالمنزلہ عمارت کی پیچھے والی سفید دیوار تھی یعنی یہ فلم کا پردہ تھا - اسکو "ڈرائیوان سینما" کہتے تھے جہاں روزانہ رات کو اندھیرا ہونے کے بعد فلم شروع ہوتی تھی۔ اس میدان میں بچوں کے کھیلنے کے لیئے جھولے بھی تھے اور اسکے ساتھ کافی بڑی کینٹین بھی تھی جہاں کھانے پینے کی اشیاء ملتی تھیں.
ایک بہترین تفریحی جگہ تھی یہ ڈرائیوان سینما کراچی کے راشد منہاس روڈ پر , جہاں اب کراچی کا مشہورومعروف "میلینیم شاپنگ مال" موجود ھے۔