جب والدین کی عمر بڑھ جاتی ہے تو وہ اُس بیٹے یا بیٹی کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو نرم مزاج، محبت کرنے والا، بردبار اور کشادہ دل ہو؛
جو اُن سے تنگ نہ ہو، اُن پر جھنجھلائے نہیں، اور جس سے وہ ناراض ہونے کا خوف محسوس نہ کریں، بلکہ جس پر وہ بے جھجھک بہت سا حق جتاسکیں۔
پھر وہ اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات، اپنے طبی معائنے کے اوقات طے کرنے، تقریبات میں ساتھ جانے، اور خاص ملاقاتوں میں رفاقت کے لیے اسی پر زیادہ بھروسا کرتے ہیں۔
یہ والدین کا وہ اطمینان ہے جو خریدا نہیں جا سکتا، بلکہ اللہ کی طرف سے اُس بیٹے یا بیٹی کے لیے ایک خاص عطیہ ہوتا ہے۔
پس خوش نصیب ہے وہ جسے اُس کے والدین نے اپنے سب بہن بھائیوں میں چن لیا، اور اپنی تھکن میں پناہ، اور اپنی ضرورت میں سہارا بنا لیا۔
اس نے کہا عاصم منیر مقدر کا سکندر ہے۔ جب کبھی لگتا ہے یہ کہیں پھنسنے والا ہے کوئی اچانک سے غیبی مدد آتی ہے اسکے ٹولے کو مشکل سے امن امان باہر نکال کر کھڑا کردیتی ہے۔ اس نے دو چار مثالیں گنوا دیں۔ الیکشن نتائج چوری کرنے کے بعد کا عوامی دباؤ برداشت کرلیا۔ پاک بھارت محاذ آرائی کے بعد ٹرمپ مدد کو آ پہنچا۔ معاشی ناکامیاں منہ کو آنے لگیں تو عرب ممالک نے دفاعی معاہدوں ، اور اپنی پراکسی جنگوں میں گھسیٹ کر سہارا دیا۔ ایران امریکہ جنگ میں اچانک سے امریکہ کو مذاکرات کا ناٹک رچانا پڑا تو پھر عاصم منیر کام آگیا۔
میں زرا سی دیر کو خاموش ہوگیا۔ اسکی بات درست محسوس ہورہی تھی۔ رجیم چینج کو چار سال گزر گئے ہیں۔ کسے معلوم تھا کہ دس اپریل کی رات کو جب پورا پاکستان سڑکوں پر تھا اس کے باوجود اتنا وقت لگے گا؟ آٹھ فروری جیسی شاندار کامیابی کے باوجود مزید دو سال گزر جائیں گے۔ کس نے سوچا تھا کہ اس قدر بے پناہ مقبولیت کے باوجود عمران خان قید تنہائی میں ہوگا اور اسکے پارٹی کے لوگ عہدوں اسمبلیوں اور وزارتوں میں بیٹھے ہونے کے باوجود اپنی کمزوریوں کی تاویلیں کرتے پھررہے ہوں گے۔ میں یہی سب سوچ رہا تھا اس کی طرف دھیان نہیں تھا۔
توجہ کی تو موضوع ٹکر کارلسن کی روزانہ کی فیس بک ویڈیوز تھیں۔ پھر ایپسٹین فائلز کے متعلق بے تحاشا معلومات ، پھر امریکہ ایران جنگ ، پھر کرپٹو کرنسی کے اتار چڑھاؤ ، پھر نیویارک ٹائمز ، رائٹرز، پھر کائنات ، مذہب ، وہ سب جو ہمارا روزانہ کا معمول ہے۔ پھر فون بند ہوا تو میرا دماغ واپس اسی جگہ پر پہنچ گیا۔ کیا واقعی ہم رفتہ رفتہ ناکام ہوتے جارہے ہیں؟ کیا واقعی ہم جس مقصد کے لیے کھڑے تھے وہ فوت ہوچکا؟ کیا واقعی یہ ہر مشکل سے نکلتے چلے جارہے ہیں اور ہمارے لیے مسائل بڑھتے چلے جارہے ہیں؟
دماغ نے سوچنا شروع کردیا۔ سسٹم سارا تباہ کرچکے۔ عدالتیں ، انتظامیہ ، جمہوریت ، کس لیے؟ تاکہ ایک شخص کا رستہ روکا جا سکے۔ معیشت تباہ ہوگئی کیونکہ اہلیت بھی نہیں تھی اور ترجیحات بھی۔ صرف تحریک انصاف کے خلاف تھے۔ رفتہ رفتہ اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے تحریک لبیک ، اہل تشیع ، قبائلی علاقے ، عورت مارچ ، کرکٹ کے کھلاڑی ، علمائے دین کوئی طبقہ ایسا بچا نہیں جسے اپنا مخالف نا کیا ہو۔ ٹرمپ کی رسی کو اس قدر مضبوطی سے تھام لیا ہے کہ عرب ممالک کیساتھ تعلقات میں جگہ جگہ بارودی سرنگیں بھردی ہیں۔
شہداء کے نام پر بنانے والے ادارے فروخت کردیے، شہداء کے نام پر لی جانے والی زمینیں لے کر پلاٹ بنا کربڑے افسروں کو نواز دیا ، فوجی گرفتار ہوئے تو اپنا ماننے سے انکار کردیا ، ہسپتالوں پر بمباری ، معصوم بچوں پر ڈرون حملے کیے غرضیکہ کپڑے اترتے چلے گئے۔ ایک گڑھے سے نکلتے ہیں دوسرے میں جا گرتے ہیں اور پچھلے گڑھے ویسے کے ویسے۔ ہر گزرتے دن کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ کچھ نا کچھ کھو کر ، ضائع کرکے اور تباہ کرکے۔ کبھی اس ملک کے ادارے ، کبھی معیشت ، کبھی اپنی ساکھ ، کبھی اس ملک کی ساکھ۔ ہر گزرتا دن ان کو تباہی کے قریب لارہا ہے اور ہمیں کامیابی کے۔
آہستہ آہستہ وہ لوگ ختم ہوتے جا رہے ہیں جو سحری کو " سرغی " کہا کرتے تھے اور اذان کو بانگ کہا کرتے تھے ظہر کو پیشی اور عصر کو دیگر کہا کرتے تھے اور مغرب کو نماشاں کہا کرتے تھے عشاء کو کفتاں یعنی ہمارے بزرگ لوگ🥲
ہم وہی ہیں جن کے موبائل فون کا وال پیپر عمران خان ہے۔ جنکے فون کے کور کے پیچھے تحریک انصاف کا جھنڈا ہے۔ بیڈروم کے دراز میں ایک پاکستان کےجھنڈے کا بیج رکھا ہوا ہے ایک تحریک انصاف کا۔ ہماری الماریوں میں عمران خان کی تصویر والی شرٹ لٹک رہی ہے۔ ہمارے سینوں میں عمران خان محبوب بن کر بیٹھا ہے۔
ہم وہی ہیں جو اسکے ہر جلسے اسکی ہر ریلی میں پہنچتے رہے۔ دور ہوتے تو اسکے جلسے والے دن سارا دن ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے۔ جیسے جیسے کراوڈ بڑھتا جاتا ہمارے اندر خون کی مقدار اور گردش دونوں بڑھتی جاتی۔ پھر جب وہ تقریر کرتے ہوئے ہاتھ اٹھاتا کیمرہ اسکی پشت پر ہوتا سامنے ہزاروں لاکھوں کا جگ مگ جگ مگ مجمع ویڈیو یا تصویر ٹھک ہماری ٹائم لائن پر ہوتی ہمارے سٹیٹس پر ہوتی ہماری سٹوری پر ہوتی۔
ہم وہی ہیں جو کبھی عمران خان کی گاڑی سے لپک لپک جاتے تھے۔ ہم وہی ہیں جو شیلنگ اور پولیس گردی کی دیوار کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے۔ ہم وہی ہیں جو اسکی ایک آواز ایک کال پر لبیک کہتے رہے۔ وہ ہم جیسے ہی تھے جو نو مئی کو شہید ہوئے، چھبیس نومبر کو شہید ہوئے ، پولیس گردی ، فوج گردی اور دہشتگردی کے پیچھے والی وردی کا نشانہ بنے۔
ہم ڈرا ضرور دیے گئے ہیں۔ ہمیں واقعی خوفزدہ کیا گیا ہے۔ ہمیں اپنی بوڑھی ماں کا خیال آجاتا ہے۔ ہمیں اپنے ضعیف والد کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ جوان بیٹی یا بہن کا خیال آتا ہے۔ ان کے نام پر ہمیں دھمکایا جاتا ہے۔ خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ چپ کروایا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم زرا سہمے سہمے سے رہتے ہیں۔
لیکن ہم ہیں تو وہی۔ ملک کے طول و عرض میں اسکی آواز سننے کو پہنچنے والے ، اسکو دیکھنے جانے والے ، اسکے جلسوں میں تل دھرنے کی جگہ ختم کرنے والے ، اسکے پولنگ بکس پرچیوں سے بھرنے والے ، اسکے نام پر آلو بینگن گوبھی کو جتوانے والے۔ ہم اپنی جگہ پر جمے ہوئے ، ڈٹے ہوئے۔ اپنی تکلیفوں ، اپنی کمزوریوں اور فوج کی وحشتوں کو اندر ہی اندر گھولتے ہوئے۔
تم جس دن مکمل ناکام ہوجاؤ گے ، ہم موت کی طرح تمہارے سامنے آکھڑے ہوں گے۔ وہی ، عمران خان کی تصویر کے وال پیپر والے ، کور کے پیچھے جھنڈے والے ، دراز میں پڑے بیج والے ، الماری میں لٹکی شرٹ والے ، سینے میں دھڑکتے عمران والے ۔
اے دہائیوں سے بچھڑے یوسف علیہ السلام کو اپنے والد سے ملانے والے رب عمران خان کو رہائی عطا فرما تاکہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو دیکھ سکے اُنکو راحت پہنچا سکے 🥲🙏🙏🙏
ایک بات تو کنفرم ہے
اس قوم کے لیے دوبارہ کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ارشد شریف یا عمران خان نہیں بنے گا۔ یہ قوم ایسے مخلص اور بےلوث لوگوں کے قابل ہی نہیں ہے۔
عمران خان کو چاہیے کہ اِس مُردہ قوم پر لعنت بھیجے اور اپنے بچوں کے پاس چلا جائے۔ جاتے وقت پارٹی کو ختم کرنے کا اعلان کر دے تا کہ بِلوں میں چھپے بیٹھے نمک حرام کھمبے جو عمران خان کے مرنے کا انتظار کر رہے، ان کا مزار کے مجاور بن کر سیاست جاری رکھنے کا خواب مٹی میں مل جائے۔
سہیل آفریدی کا چہرہ دیکھا ؟ جس وقت وہ جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہہ رہا تھا نام ہے عمران احمد خان نیازی۔ نہیں تم نے نہیں دیکھا۔ اگر تم وہ دیکھ لیتے تو اسکی تاب نہ لاتے ہوئے مر جاتے۔ غصہ اسکی آنکھوں سے ابل رہا تھا۔ اس کا چہرہ اسکے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے سرخ تھا۔ کیا اسکی یہ حالت تمہارے خوف سے تھی؟ نہیں یہ صاف صاف تمہاری نفرت تھی۔ لیکن افسوس تم چہرے نہیں پڑھ سکتے۔ تم جذبات نہیں پرکھ سکتے۔
عمران خان نے سرخ آنکھوں والے ، کالے بالوں والے ، تیس چالیس سال کے نوجوان تمہارے سامنے لاکھڑے کیے ہیں۔ تم نے یقیننا سہیل آفریدی کے پیچھے کھڑے لوگ بھی نہیں دیکھے۔ کبھی دیکھنا۔ کالے سر اور نوجوان۔ جلسے کی ویڈیوز اور تصاویر دیکھنا۔ جتنے سر دیکھو گے کالے سر دیکھو گے۔ یہ کالے سر تمہاری موت کا پیغام ہیں۔ یعنی تم نے اس نسل سے جنگ چھیڑ لی ہے جو جس وقت تمہاری عمر کو پہنچے گی تو اس وقت تک تمہاری ہڈیوں کا چورہ بن گیا ہوگا۔ تم نے جن اپاہجوں پر جواء لگایا وہ خود تمہاری بیساکھیاں تھامے کھڑے ہیں۔ جن سے تم نے دشمنی لگالی ہے وہ تم سے آدھی عمر کے۔
آج سے بیس سال بعد عاصم منیر، نواز شریف ، آصف زرداری ، عاصم ملک ، ندیم انجم یہ سب یا تو مر چکے ہوں گے یا پھر کسی ہسپتال کے کمرے میں بے سدھ پڑے ہوں گے۔ لیکن عمران خان کے مراد سعید ، سہیل خان ، عمران خان کے کالے سروں والے وارث ابھی ساٹھ کے بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔ ہک ہا کیسی بدترین شکست کا سامنا کرے گی یہ فوج۔ کیسے تار تار ہوں گے یہ چھوٹے چھوٹے فرعون۔ کس قدر نفرت ، کس قدر تضحیک۔ ہائے ہائے وحشت۔