🚨پشاور کے سینئر صحافی عارف حیات کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے چار اہم اور دوٹوک سوالات
1 !! تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کا اختیار ڈپٹی کمشنرز کو کیوں دیا گیا؟
2 !! آپ صوبے کے وسائل اور حقوق کی جنگ لڑنے کی بات کرتے ہیں، یہی مؤقف تو پی ٹی آئی کا بھی تھا، پھر اختلاف کس بات پر تھا؟
3 !! ایمرجنسی زدہ اضلاع کی ترقیاتی کونسل میں علاقائی عمائدین کی نامزدگیاں کس طریقۂ کار کے تحت کی گئیں؟
4 !! پوسٹنگ اور ٹرانسفر کی منظوری وزیراعظم کے سپرد کیوں کی گئی؟ کیا اب خیبرپختونخوا کے فیصلے پشاور کے بجائے اسلام آباد میں ہوں گے؟
نواز شریف کی منہ بولی بیٹی بھی اب دنیا کو انڈیپینڈینٹ صحافت سکھائیں گی۔ سوشل میڈیا نے ان کا لبادہ اتار دیا۔ انکے چہرے پر سے مکر فریب اتار دیا۔ اب یہ تڑپ رہیں ہیں۔ زخمی سانپ کی طرح۔ سمجھ نہیں آ رہی کسی کو کاٹیں۔ جس کو مرضی کاٹیں۔ آپ کا لبادہ اتر چکا۔ اب ساری دنیا آپ کو جان چکی
پشاور کے سنئیر صحافی عارف حیات کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے 4 اہم سوالات
1. تھری ایم پی او کا اختیار ڈپٹی کمشنرز کو کیوں دیدیا گیا؟
2. آپ وسائل کے مقدمے کی بات کرتے ہیں، یہی مقدمہ تو پی ٹی آئی بھی لڑ رہی تھی تو پھر مسئلہ کیا تھا؟
3. ایمرجنسی والے اضلاع کے لیے ترقیاتی کونسل میں علاقائی عمائدین کی نامزدگی کے طریقے سے ہوئی؟
4. پوسٹنگ ٹرانسفر کی منظوری وزیراعظم کے پاس چلی گئی، تو کیا یہ صوبہ اسلام آباد سے چلایا جائے گا؟
بڑا سے بڑا مجرم بھی ہو تو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے یہاں صوبے کا وزیراعلی پچھلے دس دن سے اغواء ہے اور ہماری عدلیہ کیس کو لٹکا رہے ہیں!!
امید ہے آج عدالت عمران خان کی بہنوں کی رہائی کا حکم دے گی۔ تین بزرگ خواتین سے حکومت کو امن عامہ کا خطرہ تھا پہلے دن ہی بھونڈا مذاق تھا۔ اب 30 دن بھی گزر گئے اور لانگ مارچ بھی ختم۔ اب کیوں گرفتار ہیں یہ بے گناہ خواتین؟؟؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے وکیل بشیر وزیر رہا، پشاور ہائیکورٹ واپس پہنچ گئے
آئی ایل ایف کے مطابق پشاور ہائیکورٹ اور وکلاء کی مداخلت پر بشیر وزیر کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے احکامات واپس لے لیے گئے
بریکنگ نیوز 🚨: پارلیمانی پارٹی والو! آپ مذاکرات کی باتیں کر کے اپنی اہمیت صفر مت کریں۔ آپ عمران خان کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ آپ ایسی باتیں کر کے اس سسٹم کو وقعت دے رہے ہیں۔۔۔!! جاوید ہاشمی
عمران خان کو مہنگائی،معیشت پر نہیں نکالا وہ سب ٹھیک چل رہا تھا، خواجہ سعد رفیق کہے رہا کہ عمران خان ،2 تہائی اکثریت حاصل کر کہ صدارتی نظام لگانا چاہتے تھے،
کیا غلط تھا ملک ٹھیک ہو جاتا