کشمیر الیکشن میں ن لیگ کے بدترین حالات کی فرسٹریشن کی وجہ سے پہلے سعد رفیق اب رانا ثناءاللہ مغلظات بدترین الزام تراشی پر اتر آئے ن لیگ کی جو حکومتی کارکردگی ھے دعا کریں کہ لوگ جوتے نہیں مار رہے ان کو۔وہ دن بھی نزدیک ہیں ورنہ ہمت ھے تو شہباز شریف علی پرویز اویس لغاری کو بھیجو عوام میں
@Abbasbugti52 کہاں ہیں سیکورٹی فورسز حکومت ۔ مکمل طور پر ان دہشت گردوں نے حکومت کو مفلوج کرکے رکھ دیا جس وقت چاہیں جہاں چاہیں یہ تباہی پھیلا دیتے ہیں اور حکومت سوشل میڈیا پر ان کو تباہ وبرباد کئے بیٹھی ھے مگر گراؤنڈ پر صرف ان کا راج ہے
@MaryamNSharif Wonderful performance superb governance but performance of Shahbaz govt. ruined this all. Particularly fuel and wapda bills.
U have to show some intent to this otherwise all this in vain.
کشمیر کے باہر موجود 12 نشستوں کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے اگر ان نشستوں خالصتاً مہاجرین کی بجائے کشمیر کے اندر کی آبادی اور ان مہاجر کشمیریوں کی مشترکہ نشستوں میں تبدیل کرتے ھوئے مکس ووٹرز پر حلقہ بندی کی جائے مگر ن لیگ ان مفت کی نشستوں کو نہیں چھوڑے گی
@FarhanKVirk یہ نواز شریف کی اقتدار کی وہ انمٹ بھوک ھے کہ جس نے مجھے کیوں نکالا کا ورد کرکے لندن پہنچایا یقین کریں یہ بندہ یونین کونسل کا وزیر اعظم بننے کو بھی تیار ھے۔ حد ھے ندیدے ہن کی۔ ایک بھائی اپنی نااہلی سے پاکستان برباد کر چکا ھے بیٹی کاسمیٹک منصوبوں سے پنجاب کو کھربوں کا مقروض کر چکی
لاہور ہائیکورٹ میں نئے ججز کی تقرریوں کا معاملہ
چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس
اجلاس میں سید فرہاد علی شاہ
امجد پرویز
اسد باجوہ
غلام سرور نہنگ
شیریں عمران
عثمان غنی راشد چیمہ
منور دوگل
امیر عجم ملک
خالد ابن عزیز
اجمل خان کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی منظوری..
No comments
اصل میں ملا جی کو اقتدار کی ھڈی میں سے حصہ نہ ملنے کی وجہ سے فرسٹریشن کی آخری حدود کو چھو رھا ھے ملا اس بارے میں حق بجانب ہے کہ حصہ ملتا کیوں کہ نیازی کے خلاف ملا کی کارکردگی کافی نمایاں تھی مگر ملاں نے شہداء کو بھونک کر عوامی رائے عامہ خلاف کرلی اور ایک چھوٹا سا نو مئی برپا کر دیا
ایران عرب ممالک پاکستان سمیت بیشتر مسلمان ممالک کو کب عقل آئے گی کب تک یہ امریکہ اسرائیل کی پراکسیز بن کر اپنے وسائل دولت برباد کرتے رہیں گے آخر کب تک؟؟!
ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ اور عرب ممالک کا کردار
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سی��ست کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عرب دنیا کے سیاسی کردار پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ برسوں میں یہ تنازع صرف دو یا تین ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے، عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں تک پھیل چکے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کا مؤقف یہ ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور جوہری سرگرمیاں ان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور دفاع کے حق کا استعمال کر رہا ہے اور اسرائیلی و امریکی اقدامات جارحیت پر مبنی ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
اس پوری صورتحال میں عرب ممالک کا کردار یکساں نہیں رہا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، عمان، اردن اور مصر نے عمومی طور پر خطے میں جنگ کے پھیلاؤ سے بچنے اور سفارتی حل پر زور دیا، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی بھی بڑی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان خود مشرقِ وسطیٰ کو ہوگا۔ تاہم مختلف عرب ریاستوں کی خارجہ پالیسیاں، امریکہ اور ایران کے ساتھ تعلقات اور قومی مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اسی لیے ان کے عملی اقدامات بھی مختلف رہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جبکہ بعض نے اس سے فاصلہ برقرار رکھا۔ دوسری طرف غز�� اور فلسطین کے معاملے پر عرب عوام کے جذبات حکومتوں کی پالیسیوں سے کئی مواقع پر مختلف دکھائی دیے، جس سے داخلی سیاسی دباؤ بھی پیدا ہوا۔
اس تنازع کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جنگ سے انسانی جانوں کا ضیاع، مہاجرین میں اضافہ، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی تجارت خصوصاً آبنائے ہرمز کے راستے متاثر ہونے کا خدشہ اور علاقائی عدم استحکام پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث بنتے ہیں۔
پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے دانشمندانہ سفارت کاری، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی حمایت کرے۔ مستقل امن صرف مذاکرات، خودمختاری کے احترام اور انصاف پر مبنی سیاسی حل سے ہی ممکن ہے، کیونکہ جنگ کسی بھی فریق کے لیے دیرپا کامیابی کی ضمانت نہیں بنتی بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
@awarahgard چوھدری صاحب ۔ اگر مروان خان پہلے باہر آ گیا تو یہ سب دال چاول بیچتے نظر آئیں گے اور اگر پھٹے پر آئے گا تو پھر ان کی نسلیں تک موج میلہ کریں گی ورنہ سب جانتے ہیں کہ جب وہ باہر تھا تو ان خانماں برباد خانموں کو گھاس کوئی نہیں ڈالتا تھا ۔
ن لیگ تباہی سے اگربچنا چاہتی ھے تو پھر شہباز شریف کی چھٹی کروا کر بقیہ مدت کے لیے مریم نواز کو وزیراعظم بنا دے پنجاب میں حمزہ کو وزیر اعلیٰ کے اتنے اختیارات دے جیسے کسی زمانے میں دوست محمد خان کھوسہ کو بطور وزیر اعلی دئیے گئے تھے مریم پنجاب بھی نگرانی میں رکھے
@MaryamNSharif
@waqarsatti اس ملک کو ہر بد بخت ۔ے مندر کا گھنٹہ سمجھا ھوا ھے کبھی کوئی ملا بھونکتا ھے کبھی کوئی قوم پرست اب اس جیسی دو ٹکے کی عورت ۔ حکومت کو صبح شام ایک ہی کام ھے کہ اپنی عیاشیوں کے لیے لوگوں سے خون کیسے نچوڑنا ھے