اکثرھم فاسقون
مجھے ذرا بھر بھی تعجب نہیں ہوتا ناہی ہوسکتا ہے کیونکہ اہل تشیع
تاریخ کے حقائق سے جعلی تبلغ ،اور روایات کو تنسیخ کرنے کی فاسقانہ مہارت سے ازل سے ہی مشاہدہ کرتے آئیں ہیں نہ روایات کو بدلنے سے ایمان کامل ہوپایا ہے اور نہ مکارانہ رویہ خواہ سلفی داڑھی ہی کیوں نہ ہو
بسمه تعالی
سرپرست ایک نعمت ہے !
چیف ایجوکیشن آفیسر (ناظم و منتظم اعلی )بڈگام کی اچانک طبیعت
نامسائد ہونے پر خداوند متعال کی رحیم وکریم ومسبب الاسباب
بارگاہ میں جلیل القدر کی شفاء عاجل وکاملہ کے لئے دعا گوہیں
جملہ اساتذہ کرام گورئمنٹ ہائ اسکول چوندہ پورہ
یوم استاد یعنی عالم روحانیت ،انسانیت ،تربیت اور جہالت پر نور حق کی حاکمیت کا تاریخ سازدن ہے حقیقی ومجازی والدین کے بعد روئے زمین پر جس شخصیت ووجود فیض نفع کا نعم البدل پرے از امکان
اور محال تصور ہے سربلند حشمت وعظمت ،قدرت انفرادیت ،اور حساسیت وطاغوتیت شکن کردار کا نام استاد ہے۔
سوانح اور تاریخ
اردوادب میں حیات سعدی اور یادگار غالب سنہری تاریخ ہے
لیکن یادگار غالب کو اسلئے امتیاز وفوقیت حاصل ہے کیونکہ حضرت غالب کے حالات وواقعات نشیب وفراز کا حالی نے بہ چشم خود مشاہدہ ومطالعہ کیا تھا لہذا زر وتوانائ نہ تاریخ تنسیخ کر سکتی نہ حق کو باطل
پیام اسکول
دراصل مستقبل کی نئی دنیا سنوارنے میں مصروف عمل ہے
پیام ہر فرد ،ہر نسل ، باشعور وغیور اور سماج میں وعلی بابھا
کی تفصیل وتاویل وضع کرنے ،سننے اور سنانے والے کے لئے
روحانی پیغام ہے قوم علم وادب ہنر اور استقامت وعزیمت سے مالا مال ہوں یہ درد واقعی معماروں کا ہی شعار ہے
اناللہ وانا الیہ راجعون
کوچ کرنے کون نہیں آیا ہے
بس کرب وحزن ،وحشت واذیت
ہے دنیا تعلیم دہندگان کی یوں دلخراش
اموات سے تعلیمی حلقوں کی شہہ رگ
میں تیر نیم کش کی سی صورت حال ہوا
کرتی ہے (رنج والم اور افسوس )
جملہ متعلقین کی خدمت میں تعزیت وتسلیت
عرض ہے
(علی )رافضی نام سے جتنی خباثت ،کثافت ، حسد
و کینہ دوزی کا مقلدین (-)میں عیاں ہوتاہے
اور بغض وجلن کا مظاھرہ کرتے ہیں ہمیں اتنی ہی
مسرت وانبساط کا احساس وسکون ملتاہے
ہمیں علی علی علی علی اعلی مبارک
آ پ کو ھندہ جگر خوار کا نقش وتربیت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیک یا ثاراللہ وابن ثار
ماتم گزار تیغ وسنان کی فضا میں ہیں
ہم کربلا سے آج تلک کربلا میں ہیں
لبیک یا ابا عبداللہ الحسین المظلوم
ایثار باپ عبرت آمیز
صحت افزا مقامات جا سیرو تفریح کم ایثار کی آماجگاہ زیادہ باپ کی قربانیوں کا حق ادا ہونا دونوں جہاں میں واقعی تربیت اور علم ومعرفت کی نفع بخش ازمائیش ہے
خداوند متعال جملہ پس ماندگان کو صبر جمیل عطا کرے
ایک طرف حضرت ذبیح اللہ علیہ السلام کی عشق الہی سے لبریز
قربانی کا فلسفہ دامن گیر تاکہ بامعرفت خلق اللہ اپنی انا جو نہ فقط مہلک ایمان ہے بلکہ دین اسلام کی بابصیرت تعلیمات پر بد نما داغ ہے تو وہ وہی دوسری جانب وادی گلریز کے واقعات قوم ثمود ، عاد ،اسرائیل کا برملا ترجمان ہے