جب 24 سال پہلے کسی نے عمران خان سے پوچھا آپ تو الیکشن ہار گئے ہیں کہا ہے آپ کے سپورٹرز؟
تو عمران خان نے جواب دیا میرے سپورٹرز ابھی چھوٹے ہیں، اور آج 90% عوام خاص کر نوجوان عمران خان کے سپورٹرز ہیں ♥️
بس اب بہت ہوگیا، سب پاکستانی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے کرپٹ لوگوں سے، اس ملک کی جان چھڑوانے میں عمران خان کی مدد کریں۔ آؤ اس سسٹم کو شکست دیں۔ ناکام لوگوں کو گھر بھجیں۔ انکا احتساب کریں۔ اپنا حق ان سے چھین لیں، خاموشی اب ختم کرو۔۔۔
”جب مارشل لاء لگتا ہے تو ایک جنرل اعلان کرتا ہے کہ آج سے میں بادشاہ ہوں آج سے میں نے ایک ملک کا آئین اور قانون ختم کردیا اور جو کچھ میں کہوں گا وہی قانون ہوگا پھر وہ دور جبر ظلم اور فسطائیت کا دور ہوتا ہے مگر آج جو کچھ ہورہا ہے وہ ڈیکٹیٹرشپ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے اسطرح کبھی مارشل لاء کے ادوار میں بھی نہیں ہوا“
@salmanAraja
#عمران_خان_پر_ظلم_بند_کرو
عمران خان میرے پاکستان کے تمام مفتیوں اور مولویوں پر بھاری ہے خدا کی قسم بھاری ہے وہ جہاد کر رہا کوئی ایک مولوی جہاد کر کے دکھائے ۔۔۔۔۔۔۔
قوم کی بیٹی کا ایک ایک لفظ کروڑوں کا ہے ۔۔۔۔۔
"الحمدللّٰہ! نیتِ صادق اور شفاف دامن کے ساتھ بے گناہ ہیں۔ اللّٰہ بے نیاز ہے، اور وہی مظلوم کے حق میں وقت اور حالات کے رخ موڑنے کی کامل صلاحیت رکھتا ہے۔"قریشی
شکریہ جمائمہ آپ 2007 میں بھی عمران خان کی رہائی کے لئے مشرف کے خلاف لڑ رہی تھی جب قاسم اور سلیمان چھوٹے بچے تھے
اور آپ آج بھی عمران خان کی رہائی کے لئے لڑ رہی ہیں جب قاسم اور سلیمان جوان ہیں ♥️
اگریونیورسٹی کی اتظامیہ ایک کرنل کے ڈر سے طلبا کے ساتھ زیادتی کرتی ہے تو اسکا مطلب ہے وہ تعلیمی ادارہ نہیں ایک کرنیلی چھاونی ہے اور وہاں استاد نہیں غلام پروفیسر ہیں ! ایسے ادارے میں تعلیم نہیں غلامی سکھائی جائے گی یہاں داخلہ مت لیں بائیکاٹ کریں !
"عمران خان نہایت خوددار اور باوقار انسان ہیں۔ وہ کبھی میرے والد سے ایک پیسہ بھی قبول نہیں کریں گے، نہ ذاتی استعمال کے لیے، نہ پارٹی کے لیے۔ میں پورے یقین اور ایمانداری سے کہتی ہوں کہ انہوں نے کبھی ایک روپیہ تک نہیں لیا میرے والد سے۔" جمائما خان..
پیمز (PIMS) ہسپتال اسلام آباد کا دردناک واقعہ! 💔
آج پیمز ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ وارڈ میں آگ لگنے اور معصوم بچوں کے متاثر ہونے کا واقعہ انتہائی اندوہناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔
ویڈیو میں نظر آنے والی مظلوم ماں کا غم اور چیخیں بتاتی ہیں کہ حادثے کے وقت کتنی شدید بدانتظامی اور غفلت برتی گئی:
عملے کی غیر موجودگی: ایمرجنسی کی صورتحال میں این آئی سی یو (NICU) اور وارڈ میں ڈاکٹروں یا نرسوں کی بروقت موجودگی نہ ہونا سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ریسکیو اور سیفٹی کے ناقص انتظامات: فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ اور ریسکیو آپریشن میں تاخیر نے حالات کو مزید خراب کیا۔
لواحقین کی بے بسی: سی سیکشن کے چند دنوں بعد زمین پر بیٹھ کر اپنے بچے کی فریاد کرنے والی ماں کا غم الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ انسانوں اور بالخصوص معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کا معاملہ ہے۔
اس پورے واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئیں، تاکہ تمام حقائق سامنے آئیں اور غفلت کے مرتکب افراد کا سخت سے سخت محاسبہ ہو سکے..
سب کی زباں بندی کر دو، کوئی نہ بولے۔ معصوم بچے مر گئے پھر بھی چپ رہو، خاموشی سے یہ ہولناک غم سہو اور کسی کے منہ سے کوئی آواز نہ نکلے۔۔۔
انصاف مانگنا تو دور، اب اپنے بچوں کا ماتم کرنا بھی جرم بن چکا ہے۔
اگر کرنل صاحب کی اہلیہ ہراساں کرنے پر پستول اور فائرنگ جائز ہے تو پھر عثمان ڈار، عمر ڈار، طیبہ راجہ کے والد، بھائی، ڈاکٹر یاسمین راشد ، عالیہ حمزہ کے شوہر، صنم جاوید، فلک جاوید سمیت جو پاکستان کی بیٹیاں بہنیں ہیں ان کے مردوں کو تو خودک ش بمبار بن جانا چاہیے تھا ؟