غزہ کی ننھی جانوں کو ایسے درد اور تکالیف سے گزرنا پڑ رہا ہے جو ان کی سمجھ اور عمر سے کہیں زیادہ بڑے ہیں
غزہ میں ازرائیلی بمباری سے 4 سالہ "تالا البیاع" اپنا دایاں بازو کھو بیٹھی۔
معصوم بچوں کا بہتا ہوا خون اور سسکیاں مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ بےحسی پر ایک ابدی لعنت ہیں۔
https://t.co/0qHh6uhX0w
استغفر اللہ العظیم۔۔
چھوٹے سے غزہ میں اتنی بھاری تعداد میں مسلمان پھنسے ہوئے ہیں کہ کہیں بھی ایک گولی بھی چلاؤ تو کوئی نہ کوئی مسلمان شہید ہوتا ہے۔۔ اور یہ بدبخت کافر خنزیر بموں کی بارش کر رہے ہیں۔۔ اگ لگا رہے ہیں۔۔
اور ان سے زیادہ ناپاک مسلمان حکمران تماشہ دیکھ رہے ہیں امت خاموش ہے۔ پوری مسلمان دنیا میں کہیں بھی فلسطین کے لیے مظاہرے نہیں ہو رہے مزاحمت نہیں ہو رہی اواز نہیں اٹھائی جا رہی۔۔۔ مکمل خاموشی۔۔ موت کی خاموشی۔۔ کیونکہ امت مر چکی ہے۔
جب اسپین میں چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیل ہلاک ہو جاتے ہیں
اور اذیت دیتے ہوئے کہتے ہیں
"یہ تو کھیل ہے"
اور جب ڈنمارک میں ہزاروں افراد سینکڑوں ڈالفن کو قتل کر دیتے ہیں
(یہاں تک کہ سمندر سرخ ہو جاتا ہے)
یہ کہتے ہیں
"یہ تو ایک تہوار ہے"
اور جب یہودیوں کا ایک گروہ ہزار مرغیوں کو پتھر پر مار دیتے ہیں ان کے مطابق اس طرح ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں
وہ کہتے ہیں
"یہ ہمارا عقیدہ اور مذہب"
اور جب عیسائی نئے سال کے دن بھارتی پرندوں کو ذبح کرتے ہیں اور اس کو اپنا مقبول کھانا کہتے ہیں
لیکن جب مسلمان اللہ کی خاطر کسی جانور کو قربان کر کے اتنا احتیاط برتے کہ چھری تیز ہو جانور کو چارہ اور پانی ڈال کے اور پھر یہ خیال رکھ کے کہ سامنے کوئی اور جانور بھی نہ ہو پھر انکا گوشت مساکین میں تقسیم ہو تو کفار کے پلے ہوئے سوشل میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں
وجہ یہ ہے کہ اسلام دین حق ہے اور حق سے شیطانوں کو تکلیف ہوتی ہے
انا للہ وانا الیہ راجعون
شکار پور سندھ
مایہ ناز عالمِ دین معروف شخصیت مولانا علی شیر بروھی عید نماز دوران سجدے کی حالت میں اللہ کو پیارے ہوگئے"
موت ہو تو ایسی
اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائیں
آمین یا رب العالمین
یہ انسانی تاریخ کے سب سے بدترین دل دہلا دینے والے ظُلم کے مناظر ہیں جس میں اس بچے اور اس کے والد کو گولیوں اور بمباری کے درمیان پھنسے ہوئے دیکھا جا رہا ہے جبکہ ہرسمت سے بمب ان پر آ رہے تھے ان کی قسمت آج تک نامعلوم ہے کہ یہ زندہ ہیں یا شہادت پا چُکے اسرائیل ظالم ترین دہشتگرد ہیں
عشرۂ ذوالحجہ کی فضیلت اور اہمیت
سال کے بارہ مہینوں میں اللّٰه تعالیٰ نے کچھ ایام کو خاص فضیلت عطا کی ہے۔ ان میں سب سے افضل دن وہ ہیں جو ذو الحجہ کے پہلے دس دن کہلاتے ہیں
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
" وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ"
" قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی " (سورة الفجر)
علمائے کرام کے مطابق یہ دس راتیں ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں جن کی اللہ نے قسم کھائی اور یہ صرف ان ایام کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللّٰه کو نیک عمل اتنے محبوب ہوں جتنے ان دس دنوں میں۔
(صحیح بخاری)
یعنی ان دنوں کا صدقہ، ذکر نماز اور ہر عمل عام دنوں سے بڑھ کر اجرو ثواب کا باعث ہے۔
ان دنوں میں کیا کریں؟
زیادہ سے زیادہ اللّٰه کا ذکر کریں
روزے رکھیں خاص طور پر 9 ذوالحجہ کو)
صدقہ و خیرات کریں
توبہ و استغفار کریں
نمازوں کی پابندی کریں
اپنے والدین اور محتاجوں کا خیال رکھیں
اور جن کو توفیق ہو، قربانی کریں
اللّٰه تعالیٰ ہمیں ان بابرکت دنوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے، اور ہمیں اپنی رحمت سے نوازے آمین ثم آمین
یہ ایک نہایت نایاب اور اعلیٰ معیار کی ویڈیو ہے جو ۱۳۵۶ ہجری / ۱۹۳۸ء کے حج سیزن میں فلمائی گئی تھی یعنی آج سے ۸۸ سال پہلے۔
اس میں پیدل آنے والے حجاج بھی دکھائی دیتے ہیں، اپنے ملکوں سے اونٹوں پر آنے والے بھی اور گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے والے بھی۔
ساڑھے چار منٹ کی یہ ویڈیو ایسی ہے کہ انسان کی زبان خاموش ہو جاتی ہے، تاکہ آنکھیں ان تاریخی مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔
اے اللّٰہ والوں کی بلند ہمتو!
اللّٰہ کے سوا کسی پر قناعت نہ کرو
اے عبادت گزارو!
سالکوں کے قافلے کو جمع کرو، اپنے مولا کی محبت کے لیے خود کو خالص کردو، اور اس کے خوف و امید دونوں کو اپنے دل میں جمع رکھو، اور اس کے ذکر سے لذت حاصل کرو
اے محبت کے راز رکھنے والو!
محبت کے کعبے کا طواف کرو، رکوع کرو، صفا کی صفائی اور مروہ کی مروّت کے درمیان دوڑو، عرفاتِ معرفت میں کھڑے ہوکر گڑگڑاؤ، پھر مزدلفۂ قرب کی طرف بڑھو، پھر منیٰ کی مرادوں کی طرف لوٹ آؤ اور جب قربانی کا وقت آئے، تو اپنی روحوں کو قربان کرو، بخل نہ کرو
آج راستہ بالکل واضح ہوچکا، لیکن سچے مسافر کم ہیں اور دعوے دار بہت زیادہ،
اگرچہ میں بیت اللہ تک نہ پہنچ سکا، لیکن میں اس ذات کی طرف حج کرتا ہوں جو کبھی نگاہ اور ذکر سے اوجھل نہیں ہوتی
میں نے اپنی عادتوں اور خواہشوں کو چھوڑ کر احرام باندھا اور باطن کی پاکیزگی اور نیکیوں میں طواف و سعی کی۔
میرا صفا یہ ہے کہ میں اپنی صفات سے خالی ہو جاؤں اور میری مروّت یہ ہے کہ دل اللّٰہ کی محبت کے سوا ہر چیز سے فقیر ہوجائے
اور میرا عرفات، اللّٰہ کے ساتھ اُنس و محبت کا مقام ہے اور میری مزدلفہ، قیامت تک اس کے قرب کی آرزو ہے
اللّٰہ والوں کا یوم عرفہ کس حال میں گذرتا تھا؟
عرفات کے میدان میں سچے لوگوں کی حالتیں مختلف ہوا کرتی تھیں۔ کچھ پر خوف غالب ہوتا، کچھ پر حیا چھائی ہوتی
مطرف بن عبد الله بن الشخير اور بكر المزني عرفات میں کھڑے تھے ان میں سے ایک نے کہا:
"اے اللّٰہ! میری وجہ سے آج اہلِعرفات کو محروم نہ فرمانا"
اور دوسرے نے کہا:
"یہ کتنا عظیم اور امید بھرا مجمع ہے اگر میں ان میں شامل نہ ہوتا"
فضيل بن عياض رحمہ الله عرفات میں کھڑے تھے، لوگ دعائیں مانگ رہے تھے اور وہ ایسے رو رہے تھے جیسے کوئی غم زدہ ماں اپنے جوان بچے کی موت پر روتی ہے رونے نے انہیں دعا سے بھی عاجز کردیا تھا جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوا تو آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہنے لگے:
"اے اللّٰہ! اگر تو معاف بھی کردے تب بھی مجھے اپنی رسوائی پر شرم آتی ہے"
ایک خوف زدہ شخص غروب کے قریب پکار اٹھا:
"مولا تیرا خطا کار حاضر ہے، اس پر اپنا در عفو کھول دے، واپسی کا وقت قریب آگیا پتہ نہیں تُو نے ان محتاجوں کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ہوگا"
میں تیرے خوف اور امید کے درمیان ایسا ہوں، گویا موت اور زندگی دونوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں،،پس ایک خوف زدہ تائب پر کرم فرما، جو تیرے در پر آکر نجات و پناہ مانگ رہا ہے
جب کوئی قیدی کسی سخی بادشاہ سے پناہ مانگتا ہے تو وہ اسے پنای دے دیتا ہے
خدایا دست امان دراز ہو! میرا بوجھ بہت بھاری ہے، میرے گناہ گنے جائیں تو ختم نہیں ہوتے میرے گناہوں نے مجھے ہلاک بھی کیا اور جکڑ بھی لیا، کیا میرے لیے نجات کی کوئی راہ ہے؟
اور بعض عارفین کا حال یہ تھا کہ عرفات میں امید کے دامن سے لپٹے رہتے تھے
عبد الله بن المبارك رحمہ الله فرماتے ہیں:
"میں عرفہ کی شام سفيان الثوري کے پاس آیا۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے،،میں نے پوچھا:
اس مجمع میں سب سے بدحال کون ہے؟
فرمایا:
وہ شخص جو یہ گمان کرے کہ اللّٰہ اسے آج بھی معاف نہیں کرے گا"
فضيل بن عياض نے لوگوں کے رونے اور سسکیوں کو دیکھ کر فرمایا:
"اگر یہ سب لوگ کسی آدمی کے پاس جا کر ایک دانق (درہم کا چھٹا حصہ) مانگتے، تو کیا وہ انہیں خالی لوٹاتا؟
لوگوں نے کہا: نہیں,
فرمایا: "اللّٰہ کے لیے انہیں بخش دینا اس آدمی کے دانق دینے سے بھی زیادہ آسان ہے"
میں اللّٰہ سے اس کی معافی مانگتا ہوں، اور یقین رکھتا ہوں کہ اللّٰہ معاف فرماتا اور بخش دیتا ہے گرچہ لوگوں کے گناہ بہت بڑے ہوں، اللّٰہ کی رحمت کے سامنے وہ چھوٹے ہوجاتے ہیں
اور عنقریب تمہارے بھائی عرفات کے میدان میں کھڑے ہوں گے،،پس خوش نصیب ہے وہ شخص جسے اللّٰہ وہاں حاضر ہونے کی توفیق دے، وہ جلتے دلوں اور بہتے آنسوؤں کے ساتھ اللّٰہ سے فریاد کریں گے
کوئی خوف سے بے چین ہوگا، کوئی شوق کی آگ میں جل رہا ہوگا، کوئی اللّٰہ کے وعدے پر حسنِ ظن رکھے ہوگا، کوئی سچی توبہ کے ساتھ آیا ہوگا، کوئی گناہوں سے بھاگ کر اللّٰہ کے دروازے پر پناہ لینے والا ہوگا
وہاں کتنے ہی ایسے ہوں گے جو جہنم کے مستحق تھے مگر اللّٰہ انہیں آزاد کردے گا، کتنے گناہوں کے قیدی ہوں گے جنہیں وہ رہائی عطا فرمائے گا
پھر اس وقت سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا رب ان پر نظرِ رحمت فرمائے گا، آسمان والوں کے سامنے ان پر فخر فرمائے گا، قریب ہوکر فرمائے گا:
یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟
جسے اس سال عرفات میں کھڑے ہونے کا موقع نہ مل سکا، وہ اللّٰہ کے ان حقوق کی حفاظت کرے جنہیں وہ جان چکا ہے
جو مزدلفہ میں رات نہ گزار سکا، وہ اللّٰہ کی اطاعت کا پختہ ارادہ اپنے دل میں جگا لے
جو منیٰ کی وادیوں تک نہ پہنچ سکا، وہ خوف اور امید کے ساتھ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوجائے
جو منیٰ میں قربانی نہ کرسکا، وہ یہاں اپنے نفس اور خواہشات کی قربانی دے دے
اور جو بیت اللہ تک نہ پہنچ سکا کیونکہ وہ دور ہے، وہ بیت کے رب کا قصد کرے، کیونکہ وہ پکارنے والے اور امید رکھنے والے سے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے
ان دنوں میں اُنس و محبت کی ایک نسیم چلتی ہے، جو عالمِ قدس کے باغوں سے ہر اس دل کو چھوتی ہے جو اللہ کی پکار پر لبیک کہے
++
خالقِ کائنات سبحان اللّٰہ
یہ ایڑی اتنا دباؤ کیسے برداشت کرتی ہے؟
آپ کی ایڑی کے اندر ایک حیرت انگیز دنیاِ انجینئرنگ ہے، جو اللّٰه نے بے مثال درستگی کے ساتھ پیدا کی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ چلتے پھرتے یا دوڑتے ہوئے آپ کی ایڑی کبھی کبھی آپ کے جسم کے وزن سے کئی گنا زیادہ دباؤ برداشت کرتی ہے؟
اس تصویر میں انسانی ایڑی کا ایک شاندار اناتومیکل کراس سیکشن دکھایا گیا ہے، جہاں عضلات، ٹینڈنز، اعصاب اور خون کی نالیاں ایک نرم اور spongy چربی کی تہہ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں جو قدرتی کشن کا کام کرتی ہے۔ یہ تہہ چلنے پھرنے کے دوران ہڈیوں کو صدمات سے بچاتی ہے۔
اللّٰه کی تخلیق کے سب سے بڑے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ چھوٹا سا ڈھانچہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کھڑا ہونے، توازن برقرار رکھنے اور لمبی دوریاں طے کرنے کے قابل ہوتا ہے بغیر یہ جانے کہ اس کے اندر کیا ہو رہا ہے۔
اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ﴾
(سورۃ الذاریات: 21)
"اور تمہارے اپنے اندر بھی، کیا تم دیکھتے نہیں؟"
﴿وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾
"اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکتے۔"
اپنے جسم کے اندر کتنی نعمتیں ہیں جنہیں ہم بھول چکے ہیں؟
اللّٰه کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں دو پاؤں پر چلنے کی نعمت عطا فرمائی۔
اس ذاتِ پاک کی ذات ہمیشہ پاک اور بلند ہے جس نے انسان کی تخلیق کو اتنی حیرت انگیز درستگی کے ساتھ کامل کیا۔
@GlobalSmart_T@AshCrypto You are wrong @GlobalSmart_T
This tweet was confirmed and posted 11 hours ago. You may see yourself
Source: https://t.co/p7Fff9yc7R
🛑مغرب میں بھی عوام آواز اٹھانے لگے
تمہارا دل اسرائیلی بچوں کی ہلاکتوں پر ٹوٹتا ہے لیکن تمہارا دل فلسطینی بچوں کی ہلاکتوں پر کیوں نہیں ٹوٹا؟
ایک خاتون کے سوال پر حاضرین کی زبردست تالیاں.🔥💥
بریکنگ نیوز 🚨امریکا اسرائیل کو بہت بڑا دھچکا لگ گیا، چوہدراہٹ ختم ہوگئی۔ خُوف ختم ہوگیا، یورپی ممالک خود فیصلہ کرنے لگ گئے۔ آئرلینڈ نے باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا باقاعدہ دُنیا کے سامنے کھڑے ہوکر اعلان کردیا۔ سلام انکو 🔥
"جب ہم جنت جائیں گے تو وہاں لیموں اور انار سے کھیلیں گے اور مزے کریں گے۔ ہم وہاں ہیلی کاپٹر، ڈائنوسار، گھوڑا اور گدھا بھی لیں گے۔ ہم وہاں گیند سے کھیلیں گے، جھولے لیں گے اور غبارے بھی اڑائیں گے۔"
غزہ کے ننھے شہید عبداللہ اور عمر العبادلہ کی ایک وائرل ویڈیو!
🔴 ناروے میں ایک تقریب میں اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے 5753 فلسطینی بچوں کے نام 8 گھنٹے 45 منٹ تک بغیر کسی وقفے کے پڑھے گئے۔جو لگن اسلامی ممالک کے عوام کو دیکھانا چاہئیے وہ غیرمسلم ممالک کے عوام دیکھا رہے ہیں۔آپ کم از کم اتنا کر سکتے ہیں کہ فلسطین کی بات کرنا مت چھوڑیں