کیا تحریک انصاف کے انتخابی نشان کے خلاف فیصلہ آنا چاہئے تھا یا نہیں؟ 🚨🚨
میں یہ پورا مقدمہ آسان الفاظ میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہ��ں۔ میری کوشش ہوگی کہ نیوٹرل نا ہونے کے باوجود اس فیصلے کو نیوٹرل نظریہ سے ہی پیش کروں۔
تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کا 2021 میں حکم دیا، چیف الیکشن کمشنر کو بھی تحریک انصاف نے ہی لگایا تھا لیکن تحریک انصاف نے سستی دکھائی، بروقت انتخابات نہیں کروائ�� اور بعدازاں کرونا کا بہانہ بنا دیا،
پھر دوبارہ 2022 میں حکم ہوا لیکن تحریک انصاف نے دوبارہ سستی دکھائی
پھر 2023 میں جب زبردستی الیکشن کمیشن کے ترلے منت کرنے پر انتخابات کروائے تو ایسے انتخابات ہوئے جن میں نا کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لئے کوئی فارم بنایا اور نا ہی رسمی انتخابات کے لئے کوئی طریقہ ترتیب دیا۔ اس قدر بھونڈے انداز میں معاملہ ہینڈل کیا گیا کہ انتخابات کے لئے اسلام آباد کی بجائے پشاور کے ایک گاوں کو مرکز بنایا اور بلامقابلہ اپنی مکمل تنظیم کھڑی کردی۔
دیکھا جائے تو یہ سارا معاملہ ہی غلط ہے لیکن تحریک انصاف کا بھی اس پر ایک موقف موجود ہے!
سب سے زیاد�� بڑی دلیل جو وہ اپنے دفاع میں دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ باقی پارٹیوں میں بھی تو انٹراپارٹی انتخابات ایسے ہی ہوتے ہیں۔
جی ہاں، یہ بھی سچ یے لیکن ایک بنیادی فرق ہے۔ وہاں بیشک انتخابات کے نتائج طے ہوں لیکن رسمی طور پر ہی کم از کم مخالف امیدوار کو انتخابات لڑنے کا موقع دیا جاتا ہے، کاغذات نامزدگی دئے جاتے ہیں اور پارٹی انکے الیکشن لڑنے کے حق کو صلب نہیں کرتی۔
یہ بالکل حقیقت اپنی جگہ موجود یے کہ دیگر جماعتوں میں بھی چئیرمین یا بانی ہی سب کچھ طے کرتا ہے لیکن پھر یہ فرق کم از کم ضرور موجود ہے کہ رسمی طور پر ہی سہی لیکن وہاں انتخابات ہوتے ہیں۔
دوسرا موقف یہ ہے کہ اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے رکن نہیں اور اس معاملے پر پارٹی ٹویٹ کرچکی ہے۔
رکن ہونا اور بانی ممبر ہونا بالکل مختلف ہے، عدالت نے 2017 میں تسلیم کیا کہ تحریک انصاف اکبر ایس بابر کو ناراضگی کے باوجود پارٹی کا رکن تصور کیا جائے گا۔ صر�� اکبر ایس بابر ہی نہیں 13 مزید لوگ بھی انٹرا پارٹی الیکشن میں کھڑے ہونا چاہتے تھے جن کو موقع نہیں ملا۔
اب ایک نقطہ یہ بھی آ سکتا یے کہ یہ 14 کے 14 لوگ پلانٹ کئے گئے تھے؟
میرے نزدیک یہ بالکل جائز ہے لیکن پھر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر ایسے لوگ پلانٹ ہونے تھے تب بھی آپ کم از کم انکو انتخابات لڑنے کا اختیار تو دیتے۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ آپ انکو کاغذات نامزدگی ہی نا دیں؟
لیکن پھر دیکھیں کہ پاکستان کی بڑی جماعت کو انتخابی نشان سے بالکل علیحدہ کردیا گیا ہے؟ یہ غلط نہیں۔
بالکل، کوئی بھی اسکی حمایت نہیں کرنا چاہتا لیکن فرض کیا کہ عدالت تحریک انصاف کو ریلیف دے دیتی تو کیا نتیجہ نکلنا تھا؟
1۔ پاکستان میں یہ فیصلہ مستقبل میں بھی استعمال ہونا تھا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت بغیر کسی فرد کی نامزدگی کے انٹراپارٹی الیکشن کروا سکتی ہے۔
2۔ کوئی بھی سیاسی جماعت کتنے ہی فراڈ انٹرا پارٹی الیکشن کیوں نا کروائے، کوئی اس پر سوال نہیں کرسکتا
3۔ سیاسی جماعت میں فرد واحد اپنے کارکنوں کا کھل کر استحصال کرسکتا ہے اور ت��ام کارکن مل کر بھی اسکو چیلنج نہیں کرسکتے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف ایک وقتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک مثال ہوتا ہے۔ کیا ہمیں ملک کے لئے ایسی مثال قائم کرنی چاہئے؟
اسلئے جہاں مجھے اختلاف کے باوجود کچھ افسوس ہے کہ ہم تحریک انصاف سے آمنے سامنے مقابلہ نہیں کرسکیں گے
وہاں مجھے یہ احساس بھی ہے کہ مستقبل میں ہر سیاسی جماعت کے screw tight ہونگے اور انٹرا پارٹی الیکشن اب خوف کے تحت ہر سیاسی جماعت مکمل توجہ کے ساتھ قانون پر ��مل کرتے ہوئے کروائے گی۔ اس سے پاکستان میں جمہوریت کا عمل مضبوط ہوگا۔
جب میں فائدے اور نقصانات دیکھتا ہوں تو مجھے کم از کم سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بالکل جائز لگتا ہے اور یہ فیصلہ آنا بہت ضروری تھا اگر ہم نے پاکستان میں حقیقی جمہوریت کو پروان چڑھانا ہے۔
شکریہ
@hecpkofficial I want to point out a very serious flaw in the online system. Our subject GEOLOGY is not available under any "Discipline".
What should Geology/Earth Sciences faculty members do if they want to apply for this post-doc fellowship?
PS: I lodged online complaint but of no use.
@AimalWali Zindabad de v... Most aggressive politics is the only way to deal with the cult of IK. Apologitic stance has badly damaged #PDM and greatly benefitted #PTI.. Jaise punjabi mai kehthy hein k "chuk k rak". 😜😜