فیصل آباد ایئرپورٹ پر گزشتہ رات عقل و شعور کا وہ جنازہ اٹھا کہ فرشتے بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہوں گے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ ایک بائیس سالہ طالب علم اعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہ رہا تھا۔
نوجوان طالب علم جب امیگریشن کاؤنٹر پہنچا تو سب کچھ ٹھیک تھا۔ کاغذات دیکھے گئے، کمپیوٹر میں انٹری ہوئی اور پاسپورٹ پر ایگزٹ کی مہر ثبت کر دی گئی۔ یہ مہر اس بات کی سند تھی کہ ریاست کو اس نوجوان کے باہر جانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ مگر ابھی یہ سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ اچانک ایئرپورٹ کے ایک ارسطو اہلکار کو نجانے کیا سوجھی کہ اس نے طالب علم کو بازو سے پکڑ کر ایک طرف کر لیا اور تفتیش شروع کر دی۔
اس طالب علم کی سب سے بڑی خطا یہ تھی کہ اس نے ایک ایسے ملک کا نام لے لیا جس کا نقشہ شاید ہمارے ان جاہلِ اعظم اہلکار صاحب نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا۔ "لیتھوینیا!" نام سنتے ہی اہلکار صاحب کے ماتھے پر یوں بل پڑے جیسے کسی نے ان سے کوانٹم فزکس کا فارمولا پوچھ لیا ہو۔ ان کے نزدیک دنیا صرف دبئی، سعودی عرب اور لندن تک ختم ہو جاتی ہے، یہ "لیتھوینیا" بیچ میں کہاں سے ٹپک پڑا؟
اہلکار صاحب کی منطق کا عالم دیکھیے، انہیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اگر لیتھوینیا کوئی ملک ہے، تو اس کا سفارت خانہ فیصل آباد کی کچہری یا کم از کم اسلام آباد کی کسی گلی میں کیوں نہیں؟ طالب علم نے بیچارگی سے دہائی دی کہ "جناب! یہ ملک براعظم یورپ میں ہے، اور چونکہ پاکستان میں ان کا دفتر نہیں، اس لیے مجھے ویزے کے لیے پہلے باکو (آذربائیجان) جانا پڑے گا"۔
مگر صاحب! وردی کی اکڑ اور معلومات کی کمی جب آپس میں گٹھ جوڑ کر لیں تو منطق خودکشی کر لیتی ہے۔ اہلکار کے دل میں شک کا وہ ناگ بیٹھا کہ ہلنے کا نام نہ لیا۔ چونکہ اہلکار صاحب نے خود تو کبھی میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا، اس کی نظر میں وہ یونیورسٹی کا ایڈمیشن لیٹر اور 30 لاکھ روپے کی فیس کی رسیدیں محض ردی کے ٹکڑے تھے۔ اسے لگا شاید یہ لڑکا لیتھوینیا کے بہانے مریخ پر جا کر وہاں کی شہریت لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
طالب علم نے ایڑیاں رگڑیں، فیس کی رسیدیں لہرائیں، واسطے دیے، مگر اہلکار صاحب اپنی دانشورانہ ضد پر قائم رہے۔ نتیجہ؟ ڈھائی لاکھ کا ٹکٹ آف لوڈ کی نذر ہو گیا اور 30 لاکھ کی فیس اب لیتھوینیا کی یونیورسٹی میں پڑی ہے۔
واہ رے نظام! جہاں پہلے مہر لگائی جاتی ہے اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ "میاں، تم ہو کون؟" ایئرپورٹ پر بیٹھے شخص کو یہ تو پتہ ہے کہ رشوت کیسے لینی ہے یا رعب کیسے جھاڑنا ہے، مگر یہ نہیں پتہ کہ دنیا کے نقشے پر کون سا ملک کہاں واقع ہے۔
حکومتِ پاکستان اور ایف آئی اے (FIA) کو چاہیے کہ ایسے ارسطوؤں کو ایئرپورٹ کے بجائے کسی پرائمری سکول کے جغرافیے کی کلاس میں بٹھائیں، تاکہ آئندہ کسی اور طالب علم کا مستقبل اس جہالت کی بھینٹ نہ چڑھے۔
دنیا میں سب سے بڑا بادشاہ ہے وقت ⏳
وقت کا کہنا ہے کہ میں کل پھر نہیں آؤں گا ⏰
مجھے خود نہیں پتہ ہے کہ تجھے ہنساؤں گا 😊
یا رلاؤں گا 😢
جینا ہے ✨
تو بس اس پل کو جی لے 🌺
کیونکہ میں کسی بھی حال میں 🤝
اس پل کو اگلے پل تک روک نہیں پاؤں گا 🍃
#اردو_زبان#سرائے_سخن#skmalik
ہم اپنے ملک سے کتنی محبت کرتے ہیں اس کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگائیں
ہم ہمیشہ اپنی یوم آزادی اسی جوش اور جزبہ سے مناتے ہیں یہ ہی ہمارے اپنے ملک سے محبت کا ثبوت ہے
خواہش اگر حد سے بڑھ جائے تو سکون چھین لیتی ہے۔
فیض احمد فیض کا شعر ہے کہ :
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
مسجد قبا اسلام کی پہلی مسجد ہے جو مدینہ منورہ میں مسجد نبوی سے تقریبا 4 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اس کی بنیاد نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ ہجرت کے موقع پر رکھی تھی، مسجد قبا میں نماز پڑھنے کی فضیلت بہت زیادہ بیان کی گئی ہے۔
جشن آزادی کے موقع پر پورا پاکستان جھنڈوں، جھنڈیوں اور سبز اور سفید روشنیوں سے سجادیا جاتا ہے اور یہ منظر نہ صرف انتہائی حسین اور دلکش معلوم ہوتا ہے بلکہ پاکستانی قوم کے اپنے ملک سے سچے جذبے کی بھی عکاسی بھی کرتا ہے۔
پرچم،جھنڈا یا عَلَم کسی بھی ملک و قوم کا امتیازی نشان اور اس کے عزت و وقار کی علامت ہوتا ہے ۔۔۔ قائداعظم محمد علی جناح کی ہدایت پہ “ امیر الدین قدوائی کا مرتب کیا یہ سبز ہلالی پرچم پہاڑوں کے سنگم ، دریا کنارے ، خوبصورت نظاروں میں بھی ہم اپنی زینت ، اپنی شان ، اپنی آن بنائے آج بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔
#HappyIndependenceDay
1947 کے خواب سے 2047 کے وژن تک — پاکستان کے روشن مستقبل کا سفر جاری ہے۔ 🇵🇰
ایک ایسا پاکستان جہاں نوجوان قیادت کریں، جدت ترقی کی رفتار بنے، اور اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ہو۔ ہماری اصل قوت ہماری نوجوان نسل، اس کا عزم، صلاحیت اور خواب ہیں۔
پاکستان وژن 2047 — ایک قوم، ایک خواب، ایک روشن اور لامحدود مستقبل۔
مستقبل صرف ہمارا انتظار نہیں کر رہا، ہمیں مل کر اسے تشکیل دینا ہے۔ 🇵🇰
#PMsYouthProgramme
#YouthLovesShehbaz
Don’t expect anything from anyone !
It’s not the مخلوق but the خالق who runs the show.
So be fair with people. It’s not the people but اللّٰہ who will actually pay you back.