پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔
جماعت اسلامی کی سیاست کا خلاصہ:
📖 کتاب: خلافت
🏛️ عمل: آمریت
🧕 کردار: منافقت
🧠 عقل: بند
🤝 اتحاد: ہر اُس سے جو عوام دشمن ہو
#نقلی_اسلام#JamaatDrama#جماعتی_منافقت
جماعت کو فیصلہ کرنا ہوگا: وہ تب غلط تھی یا آج؟
لیکن جو بھی سچ ہو، ذلت، تضاد اور کمینگی کا طوق اب جماعت کے گلے میں ہی رہے گا۔ تاریخ نے چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
#جماعتی_منافقت
https://t.co/ciYkloSg5b
جب لاکھوں پاکستانیوں کو جہاد کا نعرہ دے کر روس کے خلاف بھیجا گیا، تب کا بیانیہ اگر درست تھا، تو آج کی روسی شراکت جرم ہے۔ اور اگر آج کی شراکت درست ہے، تو تب قوم کو گمراہ کیا گیا۔
#جماعتی_منافقت
میرے آقا مخبر صادق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سچ ہے ۔ اے پروردگار ہم گواہی دیتے ہیں اس قوم نے اس کو عورت سربراہی کے لئیے منتخب نہیں کیا تھا ۔ اے اللہ جو اس عورت کو دھونس اور دھاندلی سے لے کر آئے ان پر اپنا غضب نازل فرما
تحریک انصاف میں مختلف سوچ، فکر اور انداز کے کروڑوں لوگ عمران خان کے جھنڈے کے نیچے متحد ہیں-
ہر کسی کی اپنی صلاحیتیں ہیں، کوئی نرم گو، کوئی شعلہ بیان، کوئی عوام اکٹھا کرنے والا، کوئی تنظیمی ماہر، کوئی قانونی و پارلیمانی جنگ لڑنے والا-
بیرسٹر گوہر اور شیر افضل مروت کی آج شام کی تصویر دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی-
انصافینز بھی پارٹی کے اندرونی معاملات اندر ہی حل ہونے دیا کریں اور اس جنگ کے ماحول میں اپنا فوکس عمران خان کو باہر لانے اور اپنا مینڈیٹ واپس لینے پر رکھیں-
جہاں پارٹی کی کمی کوتاہی لگے تو آپ سب اندرونی طور پر اپنی بات پہنچا سکتے ہیں اور جواب مانگ سکتے ہیں- ایک آدھ پوسٹ کرنی بھی پڑ جائے تو ایسے کریں کہ اس سے اختلافات نہ بڑھیں اور سب لوگ مقصد سے ہٹ کر اس موضوع پر نہ شروع ہو جائیں-
جب تک عمران خان اور بشرٰی بی بی باہر نہیں آ جاتے تب تک آپسی اختلافات بھلا دیں-
اگر میں آج یہاں پر کھڑی ہوں تو یہ میرے ڈی جی خان کی عوام کے ووٹ کی طاقت سے گھڑی ہوں میرا ذاتی ایک ووٹ بھی نہیں ہے مجھے سب کے سب ووٹ عمران خان کی وجہ سے ملے ھے