آپ کبھی بھی کچھ بھی کر لو۔۔!!
اک زہریلے انسان کی فطرت کبھی نہیں بدل پاؤ گے.
چاہے اسے کتنی ہی محبت
توجہ
حفاظت کیوں نہ دو
اپنا وقت اور توانائی ہی ضائع کرو گے.
اور
وہ اچانک
بنا کسی وارننگ کے تمہیں ڈس لے گا.
آپ سانپ کو بھلے شہد ہتھیلی پر انڈیل کر چٹاؤ
وہ ہتھیلی کو بلا تردد کاٹے گا.
یہ درد کچھ نہیں مگر اک ذریعہ..!!
جو ڈی ٹاکس کرتا.
وقتی
اسکی چبھن تمہیں دل میں محسوس ہوتی ہے
اور
بے چین کرتی ہے
مگر
درحقیقت یہ تمہیں فیکٹری ریسیٹ کر رہی ہوتی ہے
جیسے کلورین ملا پانی چھبتا ہے
مگر
جراثیم کو مار دیتا.
ایسے ہی یہ درد وقتی مٹھاس چھینتا
مگر تمہیں مکمل صحت یاب کر دیتا.
ایک انسان خود سے تین بار غداری کرتا ہے..!!
پہلی بار:
اس تعلق میں رکے رہو
جس نے تمہیں ذہنی طور تھکا ڈالا
جبکہ
سب واضع تھا.
دوسری بار:
تم اسکی چاہ رکھو
جو تمہارے ساتھ کھیلا اور بس زخم دیے.
تیسری بار:
پھر سے اسی پر بھروسہ جس نے دھوکے دیے.
یعنی وہ دھوکے احتیاط سکھانے کو ناکافی تھے.