منتظر دشتِ جاں ہے، بارش ہو
ابرِ غم تُو کہاں ہے، بارش ہو
دل نے کھولی ہے یاد کی کھڑکی
آنکھ بھی مہرباں ہے بارش ہو
یہ روایت ہے ہر زمانے کی
چشمِ پُرنم جہاں ہے بارش ہو
ہیں عناصر فضا میں سب موجود
ہجر، نوحہ، فغاں ہے بارش ہو
بھیج مولا گھٹائیں رحمت کی
خشک تر ارضِ جاں ہے بارش ہو
نعیم ضرار
@Saqiflance@AdamLeemax5 “کتنا مشکل ہے جلانا کسی رستے میں چراغ
کتنا آسان ہے ہواؤں کو اشارہ کرنا
زندگی ہم تو چلو مان گئے سہ بھی گئے
ایسا برتاؤ کسی سے نہ دوبارہ کرنا