یہ شخص ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاون جیسی سوسائٹیز میں نہیں رہتا تھا
نہ اس کے امریکہ اور یورپ میں اثاثے اور جزیرے تھے
نہ اس کی اولاد دوسرے ملکوں میں زیر تعلیم تھی
نہ اس کی کروڑوں میں مراعات تھیں
نہ اس کا شاہانہ طرز زندگی تھا
یہ جوان تھا تو اگلے مورچے میں سپاہی کی طرح لڑتا ہوا ایک ہاتھ سے معذور ہو گیا
اور بوڑھا ہوا تو سپر بن کر اپنی قوم کے سامنے کھڑا ہو گیا
یہ بوترابی
یہ غزہ کے مظلوموں کا سب سے بڑا وکیل
یہ ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دینے والا
مٹی سے اٹھا
اور آسمانی رمزیں پا کر
مٹی میں اتر گیا
اس کے لیے کیا افسوس کہ یہ مزاحمت کے جس راستے کا راہی تھا اس کی خواہش اور منزل ہی شہادت تھی۔
اس نے اپنے ترکے میں ایک جائے نماز ایک تسبیح اور ایک ایسی قوم چھوڑی ہے جو امام حسین کی طرح کسی یزید کی بیعت کو تیار نہیں۔
سلام یا خامنہ ای
احمد ��رہاد
آیت اللہ خمینی کی آخری پوسٹ بڑی پاورفُل تھی جس میں انھوں نے لکھا تھا
موسی دریاۓ نیل پر اور علی اپنی ذولفقار کے ساتھ اسرائیل آرہے ہیں۔ یہ اس خطے میں بڑے اثر سوخ والے لیڈر تھے
انکی شہادت کی خبر اتنی جلدی ڈفیوز نہیں ہوگی اب آپ ہر جگہ مظاہرے دیکھیں گے
عمران ریاض خان