🚨🚨 بریکنگ نیوز
عمران خان کی زندگی کو شدید خط��ہ ہے
بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو راستے سے ہٹانے کے لیے سر توڑ کوشش میں لگے ہیں
اگر کارکنوں کو عمران خان کی حفاظت کرنی ہے تو پارٹی کے اندر اندرونی مافیا کو گھر بیج کر عمران خان کی رہائی کی تحریک اپنے ہاتھ میں لے لے
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
- 9 اکتوبر 2025
“خیبرپختونخوا کے حالات کے تناظر میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی ناگزیر تھی اور یہ ایک آئینی عمل ہے جو اس ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ہوتا آیا ہے اور اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیئے تاکہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو۔ اگر کسی نے اس میں مداخلت کی کوشش کی تو بھرپور احتجاج ہو گا۔
سہیل آفریدی کا انتخاب زمانہ طالب علمی سے ان کے آئی ایس ایف اور تحریک انصاف کے نظرئیے سے وابستگی کی وجہ سے کیا۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی الیکٹیبلز کی جگہ گراس روٹ ورکرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے بیانیے کو بھی تقویت بخشتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو بعض حلقے میرے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوا۔ میرے خاندان کے کسی فرد کا میرے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
علی امین میرے پرانے اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں لیکن وہ تنازعات کی زد میں ہیں۔ یہ تنازعات عاصم منیر کی کسی جامع سیاسی حکمت عملی اپنائے بغیر خالی گولہ بارود سے دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کی پالیسی کے باعث پیدا ہوا۔ 2025 دہشتگری کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال ہے اور خیبرپختونخوا کا صوبہ مزید اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امید کرتا ہوں کہ نیا وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی اپنائیں گے۔
میں گزشتہ ��و دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی بیان کرتا رہا ہوں۔ اسی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں دہشتگری پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔تحریک انصاف نے اس وقت کی پاکستان مخالف اور بھارت نواز اشرف غنی حکومت سے بھی مذاکرات کئے اور قبائلی عوام اور افغان پناہ گزینوں کے معاملات بھی افہام وتفہیم سے طے کئے۔
2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا۔ اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟
کبھی یہ کہا جاتا ہے پاکستان میں دہشتگردی کی ذمہ دار افغان حکومت ہے جس کی تائید سے افغانستان میں بسنے والے دہشتگرد پاکستان میں کاروائیاں کرتے ہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین کو بے عزت اور رسوا کر کے نکالنے کے باوجود دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ متضاد بیانات عاصم منیر کے مسلط کردہ عوام دشمن نظام کی بد حواسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
دہشتگردی سے نمٹنے کے حوالے سے میرا موقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے دہشتگردی کے خلاف اگر باقاعدہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے بجائے صرف طاقت کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر بنتی ہے۔ ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والا “کولیٹرل ڈیمج “ عوام کو انتقاماً ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے اور یوں یہ سلسلہ بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔
سیاسی انتقام میں میرے خلاف مسلسل بے بنیاد مقدمات نہ صرف بنائے جا رہے ہیں بلکہ بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ توشہ خانہ، القادر، سائفر، عدت اور پھر توشہ خانہ سمیت کئی چھوٹے بڑے مقدمات مجھ پر اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر صرف اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ میں جھک کر حقیقی آزادی کا عزم ترک کر دوں۔ میں اپنی قوم کو پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں ان کے سامنے نہ جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا۔”
#حق_کی_جیت_ہو_گی
“I am a believer in ‘La Ilaha Illallah’ (There is no god but Allah). This declaration liberates a believer from every form of fear and slavery. My life is in the hands of Allah, not in the hands of Asim Munir. Our faith alone is the guarantor of our ‘Haqeeqi Azadi (True Freedom)’, for it grants the strength to break free from the chains of fear.
I continue to be held in solitary confinement in an effort to break me. My personal doctors have not been permitted to examine me for one year. Access to newspapers and television is blocked for weeks at a time. Even family members and lawyers are barred from meeting me. I have not been allowed to meet my political colleagues for a year and a half. My message to Asim Munir is this: no matter how much pressure you put on me, or which of my family members you throw into prison, I will neither bow down nor accept this oppression. I will continue my struggle for true freedom, come what may.
In an attempt to appease the lobby that opposes the current government in Afghanistan, Asim Munir, in his short-sightedness, is destroying the peace that was established in the region during our tenure. Where there should have been a strong relationship, things are being made worse. It grieves me deeply that after decades of hospitality, our Afghan brothers are now being forcibly pushed out of the country. At a time when Afghanistan has been struck by an earthquake, we ought to be helping them, not expelling them.
I direct Ali Amin Gandapur to go to Afghanistan, sit with them, and hold discussions regarding mutual issues and peace and security so that the situation can be prevented from deteriorating further. The sham federal government must answer: if Maryam Nawaz can travel to Japan and Thailand, why should the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa not be able to travel to Afghanistan for peace in his province?
The ongoing military operations, drone strikes, and forced displacements of our own people in Khyber Pakhtunkhwa are, in reality, an attempt to undermine Pakistan Tehreek-e-Insaf’s government that was formed with a public mandate. Ali Amin Gandapur must firmly resist this operation. The people of the province are already devastated by floods. If drone strikes and military operations are not stopped, it will be a grave injustice. Already, many of our police personnel have embraced martyrdom. As long as this operation continues, the hardships of the people will increase, and terrorism will intensify further.
At this moment, the entire country is submerged in floods. People have suffered immense losses because of these floods in Punjab and Khyber Pakhtunkhwa. The whole nation must unite to confront this situation. I would surely be conducting fundraising and telethons if I were not in prison. From here, I call upon my nation to contribute generously and wholeheartedly to relief efforts for the assistance of flood victims.
Pakistan Tehreek-e-Insaf must also fully participate in the protest against the attack on the political gathering in Balochistan.”
Former Prime Minister Imran Khan’s message from Adiala Jail - 8 September 2025
“پوری قوم کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ گندم اور چینی سکینڈلز کا کیا بنا؟
محسن نقوی اور نگران حکومت کے دور میں اربوں روپے کا گندم سکینڈل آیا اور موجودہ فارم 47 حکومت کے دور میں چینی کا میگا سکینڈل سامنے آیا، جن کی وجہ سے آٹا اور چینی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔
کیا ان سکینڈلز کی تحقیقات ہوئیں؟ یا اس مارشل لاء میں چوروں کے لیے عام معافی کا اعلان ہے؟”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(8 ستمبر 2025)