وزیر اعلی سہیل آفریدی، سپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر اب باقاعدہ مسنگ پرسن شمار کئے جائیں
پشاور ہائیکورٹ نے کازلسٹ سے ان کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت ختم کردیں
وہ کام جو مارشل لاء ادوار میں نہیں ہوا وہ کام صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوگیا ۔
وفاقی آئینی عدالت کے آرڈر کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے ہر قسم کی رٹ درخواستیں entertain کرنے سے انکار کردیا۔ چنانچہ معاملہ شخصی آزادیوں سے بھی آگے چلا گیا ۔ اب تو رینٹ کے معاملے میں بھی پشاور ہائیکورٹ میں رٹ entertain نہیں ہوگی ۔ تاہم بار کی اس معاملے پر مکمل خاموش ھے ۔
مخصوص نشستوں والے کیس میں PTI جسٹس امین الدین صاحب کی عدالت کو مسلسل کہتی رہی کہ فلاں فلاں ہمارا MNA ہے مگر وہ نہیں مانے۔ اب JUI نے اسی امین الدین کی عدالت سے کہا کہ صدف احسان ان کی سینیٹر نہیں ہے مگر امین الدین صاحب نے فیصلہ دیا کہ نہیں وہ تمہاری سینیٹر ہے۔ سب کہو سبحان اللہ:سجاد یوسف زئی
@Sajjad_Yousafza
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
مریم نواز نے پنجاب کو تباہی کے کس دہانے پر پہنچا دیا ہے کہ مہنگائی سے تنگ آ کر پولیس اہلکار بھی مبینہ طور پر شراب، آئس اور دیگر منشیات فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر پولیس اہلکار تنخواہوں میں گھر کا چولہا نہیں جلا پا رہے اور بچوں کی روٹی پوری نہیں کر سکتے تو وہ پیسوں کی خاطر شراب اور منشیات فروخت کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو پولیس اہلکار پیسوں کے لیے شراب، آئس اور نشہ فروخت کر سکتے ہیں، کیا وہ پیسے لے کر لوگوں کی جان نہیں لے سکتے؟ کیا ایسے اہلکاروں سے کسی بھی غیر قانونی کام کی توقع نہیں کی جا سکتی؟
اور دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب صاحبہ ہیں، جو عوام کی ان مشکلات کے دوران بھی بھنڈی انجوائے کرتے ہوئے ٹک ٹاک ویڈیوز بنوانے میں مصروف ہیں
راولاکوٹ اور کشمیر سے متعلق سوال پوچھنے پر چیف سیکرٹری کی جیو نیوز کے نمائندے حیدر شیرازی کو دھمکی، کہا کہ اگر یہ ویڈیو یا سوال میڈیا پر آیا تو اچھا نہیں ہو گا۔ اندازہ لگائیں کیا صورت حال ہے۔۔۔
قانون پر تجزیہ کرنے والوں کو ماہر قانون کہتے ہیں،
عالمی حالات پر رائے دینے والوں کو ماہر بین الاقوامی امور کہتے ہیں،
سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ایک عضو کو دیکھ کر، اس عضو کی کارکردگی کی تفصیلات بتانے والوں کو کیا کہیں گے ماہرِ ۔۔۔۔۔؟؟؟
عمران خان کی حکومت خلاف جب مولانا فضل الرحمٰن نے سری نگر ہائی وے بند کی تھی تو اُس وقت سب کچھ ٹھیک تھا۔ مولانا کی جماعت بڑی منظم اور اُن کا احتجاج جمہوری حق قرار دیا جا رہا تھا۔
لیکن حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ حالات کے ساتھ اپنا مؤقف کیسے بدل لیتے ہیں۔ کل تک جو مولانا درست تھے، آج جب انہوں نے موجودہ حالات پر ذرا اختلاف اور تنقید شروع کی ہے تو اچانک وہ ریاست مخالف ہو گئے، ان پر قبضے کرنے اور ریاست کو چیلنج کرنے جیسے الزامات لگنے شروع ہو گئے۔
آج کل یہی الزامات آپ کو مختلف رنگوں کے نیوز چینلز پر بیٹھے بعض صحافیوں کی زبان سے سننے کو ملیں گے۔۔
یہ ہمیں اشتعال دلانا چاہتے ہیں، ہم مشتعل نہیں ہونگے۔ لیکن ایک حد ہوتی ہے، اگر میرے گھر کے اندر جھانکو گے تو پھر اُس آنکھ کو نیزے سے پھوڑ دیا جائے گا۔ شریعت میں اگر کوئی آپکے گھر کے اندر جھانکتا ہے تو اسکی آنکھ پھوڑنے کا کوئی قصاص نہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں طلباء کنونشن سے خطاب
دو پرندے آپس میں لڑ رہے تھے۔ بلی آئی اور دونوں پرندے کھا گئی اور بولی: ’’اگر میں وقت پر نہ آتی تو بہت نقصان ہو جاتا۔‘‘ یہی کردار ہماری اسٹیبلشمنٹ ادا کر رہی ہے۔ صرف پرندے نہیں کھا رہی، فاٹا اور بلوچستان کی معدنیات بھی کھا رہی ہے۔ اسعد محمود
#pakistan@AsadMahmoodJUI
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
وزیرِ دفاع ہارا ہوا ہے،ایک پچھتر سالہ بزرگ خاتون ریحانہ ڈار نے چاروں شانے چت کر دیا، اور آج یہ باتیں کر رہا ہے۔ حافظ حمد اللہ
@iHafizHamdullah
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan