عدالتی حکم کےباوجود گرفتاریوں ہورہی ہیں آپ دوبارہ عدالت کیوں نہیں گئے @Farah_mehfar1
ہم توہین عدالت میں جارہےہیں,صورتحال یہ ہےکہ ہمارےتمام عہدیداران سہیل ستی،راجہ سجاد،ملک رفیق،راجہ نجم،ندیم کھوکھر،ملک کامران،توقیرشاہ،سردارنومان،علی نقوی،حافظ وسیم،چوہدری احسن،چوہدری اشتیاق، 2/1
27 ستمبر کا لانگ مارچ ظلم کے نظام کے خلاف ایک پکار ہے ۔
اِس بار منزل تک پہنچے بِنا واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
سید مراد حسین بخاری
ریجنل صدر انصاف یوتھ ونگ اسلام آباد
@ImranKhanPTI@PTIofficial
یہ ہمیں”کلٹ“ کہتے ہیں کیونکہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ ہم عمران خان کی اتنی عزت کیون کرتے ہیں۔
ایک بار کوئی سچا مسلمان یہ UNGA Speech دیکھ لے، وہ بھی ہماری طرح عزت اور احترام کرے گا عمران خان کا
کیا دل سے ہمارے نبی ﷺ کی بات کی تھی دنیا کے سامنے۔ دل جیت لیا تھا پوری امت مسلمہ کا-
جتنا ظلم اسلام آباد میں ہو رہا ہے پورے پاکستان میں کہیں بھی نہیں ہو رہاہے۔ اسلام آباد کے کارکنان پر ایک کڑوں FiR درج کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر شہباز گل نے اسلام آباد کے کارکنان کے حق میں آواز بلند کر دی۔ تھینکس @SHABAZGIL
ہمارے بچوں پر بندوقیں تانی جا رہی ہیں، ہم نے سوال اٹھائے تو جواب میں ہم پر بندوقیں تان دی گئیں۔
مگر یاد رکھیں، ظلم اور جبر کے سامنے ہمارا جواب خوف نہیں، بلکہ اللہ پر کامل بھروسہ ہے
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
مانسہرہ: صوبائی نائب صدر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کمال سلیم سواتی پر سرکاری وردیوں میں ملبوس اہلکاروں کی جانب سے قاتلانہ حملہ اور گرفتار کرنے کی ناکام کوششں۔ کمال سلیم سواتی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا پیغام۔
وردی کے سائے میں خوف پھیلایا جا سکتا ہے، آوازیں دبائی جا سکتی ہیں، مگر تحریکوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
#PTI #KhyberPakhtunkhwa
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے مگر سوال یہ ہے کہ فیصلہ تو سپریم کورٹ نے بھی دیا ہے کیا اس پر عمل ہوا؟
علیمہ خانم کی اسلام ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو
@PTIofficial@ImranKhanPTI
اسلام آباد کے نڈر و بے باک صحافی احتشام علی عباسی پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔
احتشام علی عباسی ایک زمہ دار صحافی و شہری ہیں اس طرح کی بزدلانہ حملوں سے نوجوان صحافی کو ڈرایا نہیں جاسکتا۔
پولیس فلفور حملہ آوروں کو قانونی گرفت میں لائے۔
2023میں مجھ سے زبردستی بندوق کی نوک پہ پریس کانفرنس کروائ گئی۔ اسکے باوجود تب سے لیکرآج تک خواہ وہ 2024 کا جنرل الیکشن ہو یا پارٹی کاکوئ بھی جلسہ جلوس یا ریلی،میں ہر جگہ پارٹی کا پرچم تھامے عمران خان کے نظرئیے کا ساتھ کھڑا ہوں۔بندوق کی نوک پرنظرئیے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ملک ساجد
ظلم کی رات چاہے کتنی ہی لمبی ہو،حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔کمال خان سیکرٹری اطلاعات یوتھ ونگ شمالی پنجاب کو ناحق قید میں46 دن مکمل ہو چکے،اور جیل میں ہمارے اسیران کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ہماری جنگ عمران خان صاحب کی رہائی اور اس ملک کی حقیقی آزادی کے لیے ہے
پشاور وزیر اعلی ہاؤس میں 27 ستمبر کے مشاورتی اجلاس میں مرکزی جنرل سیکرٹری مبشر عباسی اپنے خیالات کا اظہار خیال کرتے ھوئے 27 ستمبر کو نہ رسائی نہ دوائی بلکہ خان کی رہائی تک یوتھ لانگ مارچ کرے گی ، 8 فروری کو قوم نے ووٹ صرف عمران خان کی رہائی کے لیئے دیا تھا ،
#IYW#Pti#ImranKhan
پشاور وزیر اعلی ہاؤس میں 27 ستمبر کے مشاورتی اجلاس کے سلسلے میں یوتھ کی نمائندگی کرتے ھوئے مرکزی جنرل سیکرٹری مبشر عباسی اپنے خیالات کا اظہار خیال کرتے ھوئے ، 27 ستمبر کو نہ رسائی نہ دوائی بلکے خان کی رہائی تک یوتھ لانگ مارچ کرے گی ، 8 فروری کو قوم نے ووٹ صرف عمران خان کی رہائی کے لیئے دیا ھے ، سوشل میڈیا کے دوست صرف اس لیئے تنقید کرتے ہیں کیونکہ وہ صرف خان کی رہائی چاہتے ہیں
انشاءاللہ یوتھ ونگ کسی اختلاف کا حصہ نہیں بنے گی بلکے لیڈر شب جو حکم کرے گی ملک بھر میں تمام نوجوان صفِ اول میں ھوں گے انشاءاللہ
کراچی کے بدمعاش کو,
بشریٰ انصاری نے کھری کھری سنا دی!!
تمھاری ہمت کیسے ہوئی, بچوں کے لواحقین سے بدتمیزی کرنے کی, تم ہوتے کون ہو!!
اگر لوگ تمھارے گریبان کو نوچتے تب بھی خاموش رہتے, تمھیں شرم آنی چاہیے مصطفیٰ کمال!!
پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے
جو لوگ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف صرف شہروں کی جماعت ہے تو وہ دیکھ لیں یونین کونسل پھلگراں اسلام آباد کی دیہاتی یونین کونسل ہے۔وہاں کی عوام بھی عمران خان کو پسند کرتی ہے۔ ووٹ صرف خان کہ ہر دیہات ہر گلی محلہ شہر یونین کونسل حلقہ صرف عمران
اشتیاق خان وینٹی لیٹر پر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں—اور اس بربریت کا کوئی حساب لینے والا نہیں!
نبی اکرم ﷺ کی ولادت کی پرنور محفلِ میلاد کو پولیس کے بے لگام غنڈوں نے مقتل بنا دیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اور زبیر نیازی کے حلقے میں پرامن اجتماع پر پولیس نے جس بے دردی اور افراتفری کے ساتھ دھاوا بولا، اس نے ایک معصوم انسان کی زندگی داؤ پر لگا دی ہے۔
شدید ہنگامہ آرائی اور اندھا دھند تشدد کے دوران اشتیاق خان کھولتے ہوئے تیل کی دیگ میں جا گرے۔ اس وقت وہ وینٹی لیٹر پر انتہائی نازک حالت میں ہیں۔ ان کا پورا جسم جھلس چکا ہے، ڈاکٹرز جواب دے چکے ہیں اور ان کی بچنے کی امیدیں ختم ہو رہی ہیں۔ ایک ہنستا کھیلتا انسان، جو ایک مقدس محفل میں شریک تھا، آج ہسپتال کے بستر پر آخری سانسیں گن رہا ہے۔
ان کا خاندان اس وقت جس قیامت اور کرب سے گزر رہا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ عوامی تحفظ کے نام پر پلنے والے پولیس کے یہ درندے آخر کب تک شہریوں کو یونہی اپاہج اور قتل کرتے رہیں گے؟
اشتیاق خان کے جسم کا ایک ایک زخم اس ریاست کی بے حسی اور سستے نظامِ عدل پر تمانچہ ہے۔ ہم اس مجرمانہ بربریت پر خاموش نہیں رہیں گے۔ اس وحشیانہ کارروائی کے ذمہ دار تمام اہلکاروں اور ان کے افسران کو فوری گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
”کل کے واقعے کے بعد پوری قوم خصوصاً اسلام آباد کے رہنے والے تمام بھائی، بہنیں، دوست شدید غم سے نڈھال ہیں۔ سب کے علم میں ہے کہ کل ہمارے 15 معصوم بچے شہید ہو گئے، یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ہسپتال انتطامیہ کسی ختمی نتیجے پر نہیں پہنچی اور نہ ہی پولیس نے کوئی تقتیش شروع کی ہے۔ جس سے نہ صرف انکی بے حسی واضح ہوتی ہے، بلکہ نظر آتا ہے کہ اس واقعہ کو بھی کمیٹیوں کی نذر کر کے ختم کر دیا جائے گا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر صحت اس معاملے پر استعفیٰ دے، ہسپتال انتظامیہ کو معطل کیا جائے اور نئی انتظامیہ کو ڈیوٹی پر لگایا جائے۔ یہ جو کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں۔“
ایڈووکیٹ شعیب شاہین
پولیس زبیر نیازی کی والدہ سمیت شرجیل نیازی، سعدیہ ایوب، مبین احمد، خالد اعوان اور دیگر پاکستانی شہریوں جو عوامی لنگر کا انتظام کر کے بیٹھے ہوئے تھے، گرفتار کر کے لے جا رہی ہے۔