میرے مرشد کی آج قیدِ تنہائی میں 1044ویں رات گزر رہی ہے
(میری اس ٹویٹ میں خان صاحب کے لیے دعا لکھی ہوتی ہے)
آج ہمارے مرشد کی ایک اور رات اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر رہی ہے۔
میرے مرشد، میرے رہبر، میرے محسن
قیدِ تنہائی میں
اپنی بہنوں سے، اپنے گھر والوں سے،
اپنی عوام سے، اپنے چاہنے والوں سے
اپنے سکون سے، اپنے بستر سے، اپنے گھر سے دور
کتنی راتیں اور کتنے دن گزر گئے ہیں۔
میرے مولا تو گواہ ہے
کوئی ایسی رات نہیں گزری
کوئی ایسا دن نہیں آیا
کوئی ایسا لمحہ نہیں گزرا
جب ہم نے اپنے مرشد عمران احمد خان نیازی کے لیے دعا نہ کی ہو
جب ہم نے مرشد کا ذکر نہ کیا ہو۔
میرے مولا
اس عرصے میں مرشد پر ظلم کی انتہا کر دی گئی
مرشد کو مکمل تنہا کر دیا گیا
مرشد کی بہنوں سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی
ملاقات کے لیے جاتے ہیں تو آدھی آدھی رات تک بٹھا کر تذلیل کی جاتی ہے
میرے مولا
یہ صرف قید نہیں
یہ انتقامی تشدد ہے
یہ ظلم ہے
یہ بربریت ہے۔
مرشد کو چہل قدمی سے روکا گیا
کمرے میں بند کر کے اذیت دی گئی
ذہنی دباؤ، تذلیل، خوف
کوئی ایسا حربہ نہیں جو مرشد پر آزمایا نہ گیا ہو۔
لیکن میرے مولا
اس سب کے باوجود
میرے مرشد آج بھی ڈٹ کر کھڑے ہیں
اپنی عوام کی حقیقی آزادی کے لیے
وہ نہ جھکے ہیں
نہ بکنے پر آمادہ ہیں
نہ یزید کی بیعت کر رہے ہیں۔
مرشد کے چاہنے والوں کو تنگ کیا گیا
مرشد کے مریدوں پر زمین تنگ کر دی گئی
اور 26 نومبر کو
سینکڑوں بے گناہوں کو شہید کر دیا گیا۔
میرے مولا
اس سب کے باوجود
مرشد آج بھی حق کے ساتھ کھڑے ہیں
اور عوام آج بھی مرشد کے ساتھ ہے۔
اگر میرے مرشد آج جیل میں نہ ہوتے
اور ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہوتی
تو پاکستان کب کا ترقی کی بلندیوں پر پہنچ چکا ہوتا۔
میرے اللّٰه
تو سب کچھ دیکھ رہا ہے
تیری نظروں سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔
اے میرے مولا
مجھے بھی میرے مرشد کی طرح ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرما
میرے اللّٰه
ہمارے شہیدوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما
ہمارے شہیدوں کے خون کا حساب لے
میرے اللّٰه
میرے مرشد عمران احمد خان نیازی کو رہائی کا پروانہ عطا فرما
اس مردِ حق نے بہت قربانیاں دی ہیں
میرے مرشد کو رہا کر دے۔
میرے اللّٰه جتنے اسیران ہیں
مرد اور خواتین سب کو رہائی کا پروانہ عطا فرما
یا اللّٰه تیری خدمت میں 1043دنوں اور راتوں کی دعائیں اور آج رات کی دعائیں پیش کرتا ہوں
یا اللّٰه یا رحمن یا رحیم یا کریم
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو اپنے حفظ و امان میں رکھ
یا اللّٰه ہمارے مرشد پہ اپنا خصوصی نظر و کرم کر دے
یا اللّٰه ہمارے مرشد کی زندگی میں برکت ڈال دے
یا اللّٰه ہمیں ہمارے مرشد کے منہ سے میرے پاکستانیوں دوبارہ سننے کی توفیق عطا فرما دے
یا اللّٰه ہمارے مرشد کے ایک ایک بال کی حفاظت فرما
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو رہائی کا پروانہ عطا فرما دے
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو اس زندان میں سرخرو کر دے
یا اللّٰه ہمارے مرشد کی عزت اور جان کی حفاظت فرما
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو مزید عروج کی بلندی عطا فرما
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو اس حقیقی آزادی کی جنگ میں غازی بنا دے
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو فتح عطا فرما
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو فاتح بنا دے
یا اللّٰه کوئی بھی شخص ہمارے مرشد کے پاس مرشد کو نقصان پہنچانے کے لیے جائے تو تو ایسے تمام لوگوں کو عبرت کا نشانہ بنا دے
یا اللّٰه مرشد کے حق میں انصاف کے فیصلے لکھوا دے
یا اللّٰه مرشد کی زندگی میں اضافہ کر دے
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو محفوظ رکھ
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو اپنی پناہ میں رکھ
یا اللّٰه مرشد کی حفاظت کے لیے فرشتے بھیج دے
یا اللّٰه جس طرح تو نے ہمارے مرشد کو باقی راتوں میں اپنی پناہ میں رکھا
آج رات بھی مرشد کو اپنی پناہ میں رکھ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِهِ وَسَلِّمْ
آمین یا رب العالمین
(حیدر سعید)
اب وقت آ گیا ہے کہ خان صاحب کی بہنوں کو اس قیادت پر مزید اعتماد کرنا چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔۔
کتنی بار یہ آپ سے جھوٹ بولیں گے اور آپ یقین کریں گے۔۔۔۔
ہمیشہ اس قیادت نے آپ سے جھوٹ بولا ہے
خدارا اب ان کی باتوں میں مت آئیں
یہ قیادت آپ کے بھائی کی دشمن ہے
آپ کو چاہیے کہ اس قیادت کو کھل کر ان کی اصلیت بتائی جائے۔۔۔۔
خان صاحب کی زندگی کا مسئلہ ہے
خان صاحب ہیں تو پارٹی دوبارہ بن جائے گی
حکومت دوبارہ بن جائے گی
سب کچھ خان صاحب کی زندگی اور رہائی سے جڑا ہوا ہے۔۔۔۔
وقت بہت ضائع ہو چکا ہے اور وقت بہت کم ہے۔۔۔۔
خان صاحب کی رہائی میں خلل یہ قیادت ہی ڈال رہی ہے۔۔۔۔
اس قیادت سے جان چھڑانے کا وقت آ چکا ہے۔۔۔۔
آپ کو اب آگے آنا ہوگا۔۔۔۔
اب آپ کو لیڈ کرنا ہوگا۔۔۔۔
اب آپ کو قیادت سنبھالنی ہوگی۔۔۔۔
خان صاحب کی رہائی کے لیے آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔
جب خان صاحب کو پمز لے کر گئے تھے تو پمز ہسپتال کے آس پاس پولیس کے ڈالے کھڑے تھے
ہسپتال کے احاطے میں نامعلوم افراد تھے
خان صاحب کو دل کے ایمرجنسی گیٹ سے اندر لے کر گئے تھے۔۔۔۔
جب خان صاحب کو اندر لے کر گئے تھے تو کوئی پرندہ بھی ہسپتال کے اندر پر بھی نہیں مار سکتا تھا۔۔۔
میں جانتا ہوں، میرا اللّٰہ جانتا ہے اور میرے ساتھ میری والدہ جانتی ہیں کہ میں نے کتنی مشکل سے ویڈیو بنائی تھی اور کتنی مشکلات سے ادھر سے بچ کے نکلا تھا
لیکن کل رات کو شاہد خٹک اور باقی ڈراما بازوں کو دیکھا۔۔۔
یہ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟
کس کو اُلّو بنا رہے ہیں؟
اب ان کا ڈرامہ مزید نہیں چل سکتا ہے اور میں ان کو خان صاحب کے نام پر مزید ڈرامے کرنے نہیں دوں گا۔۔۔۔
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
وجاہت سعید خان کی تصویر پوسٹ کرنے پر لبرل طبقات پہلی مرتبہ پاکستان کے مڈل کلاس ، دیہی ، مذہبی ، کم تعلیم یافتہ مردوں کو کوئی الزام نہیں دے پارہے۔
تمہارے کلچر ، تمہاری تہذیب ، تمہاری زبان ، تمہاری یونیورسٹیز کا تمہارا لونڈا۔ تم جانو تمہارے اخلاقیات جانیں۔
اس طرح دا لیف لٹ بنا کے جس وچ عمران خان دی لائف اچیومنٹ تے پرزنمنٹ دی ہسٹری ہوئے، تمام بیرون ملک پاکستانی اپنے اپنے سیاسی نمائندگان نو ای میل کرن۔ نا کوئی خط لکھن دا جھنجٹ نا سملیرٹی دا ایشو۔
اس طرح کم چکو سب۔
@agentjay2009
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرو 🚨
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرو 🚨
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرو 🚨
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرو 🚨
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرو 🚨
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرو 🚨
یہ علیمہ خان کا مکمل انٹرویو ہے۔
اسے غور سے سنیں۔ آپ کو سمجھ آئے گی کہ عمران خان کو توڑنے اور راستے سے ہٹانے کے لیے کم ظرف دشمن اور اندر کے غدار کیسی گھناونی سازشیں کر رہے ہیں۔
علیمہ خان کا انٹرویو اس بات کا ثبوت ہے کہ انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ورنہ کبھی علیمہ خان نے کسی کا نام نہیں لیا۔ اب ایک ایک لفظ سننے والا ہے، اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے، اب فیصلہ کارکن نے کرنا ہے۔
سب سے پہلے تو یہ کہ یہ اکاونٹ ان اکاونٹس میں سے نہیں ہے جنہیں ملک کی “نظریاتی سرحدوں” کا دفاع ٹھیکے پر دیا گیا ہے۔ یہ اور اس جیسے مزید کچھ اکاونٹس براہ راست آئی ایس پی آر کنٹرول کرتا ہے۔ یہ اکاونٹ اب پاک فوج کی آفیشل پالیسی دے رہا ہے کہ “دہشتگردوں کے ہاتھ پکڑے جانے والے فوجی اپنے آپ کو شہید تصور کرلیا کریں کہ دہشتگردوں سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہونے چاہییں “۔
سب سے پہلے تو یہ کہ ایسا پالیسی بیان دینے کی نوبت کیوں ؛
اگر فوج آج اغواء کاروں کے مطالبات مانے گی تو اغواءکاروں کے ہاتھ ترپ کا پتہ آجائے گا۔ وہ ایسی اغواکاریوں کی بدولت ہر دوسرے دن فوج کو جھکا لیا کریں گے اور پھر قیدیوں کے تبادلے میں جو لوگ رہا کیے جائیں گے وہ تربیت یافتہ لوگ کل کو مزید فوجی اغواء کرکے اپنے مزید کچھ لوگ رہا کروا لیا کریں گے۔ اگر فوج کی پالیسی ہی یہ ہوگی کہ اغواء شدہ لوگوں پر کوئی مذاکرات نہیں کرنے تو اغواء کاری اور بلیک میلنگ کا سلسلہ ختم ہوجائے گا( یہ فوج کا خیال ہے)۔
اب یہاں ہمیشہ کی طرح فوج کے تضادات بھی ہیں اور مسائل بھی؛
سب سے پہلے تضادات ، اگر پاک فوج 1971 میں بھارت سے مذاکرات کرکے سرینڈر نا کرتی تو پاک فوج مکتی باہنی کے ہتھے چڑھتی اور وہ ویسا انتقام لیتے جیسے ان سے مظالم ہوئے تھے۔ جی ایچ کیو پر ٹی ٹی پی نے قبضہ کرلیا ، فوج نے ان سے مذاکرات کیے اور قبضہ چھڑوایا۔ ابھی اگلے روز ایک حاضر کرنل کو کلاچی سے بھائیوں سمیت ٹی ٹی پی اٹھا لے گئی۔ ان کو تاوان اور قیدیوں کے تبادلے کے عوض پاک فوج نے رہا کروایا۔ لیکن اب عام گھرانوں کے سپاہیوں کے لیے پاک فوج بے رحمی سے پیش آنے کی کوشش کررہی ہے۔
اب بات کرتے ہیں مسائل کی ، سب سے پہلے تو پاک فوج کے خفیہ اثاثوں نے بغیر یہ سوچے کہ یہ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کا دور ہے فورا سے پہلے اپنے اثاثوں کی مدد سے اغواء ہونے والے سپاہیوں کو اپنا ماننے سے انکار کردیا۔ یہ ایک بہت بڑا پی آر ڈیمیج تھا اور بن چکا ہے کہ فوج اپنے سپاہیوں کو اپنا نہیں رہی۔ یہ پرانا دور نہیں ہے کہ خبر دبا لی اور میڈیا پر فوٹیج نشر نا ہونے دی اور لوگ آسانی سے مرنے دیے۔ بی ایل اے کے پاس یقینا سیٹلائٹ انٹرنیٹ ہوگا اور وہ ہر گھنٹے مغویوں کی فوٹیج جاری کرسکتے ہیں اور جیسے انہوں نے دو چار ویڈیوز کی مدد سے اب اس اکاونٹ سے فوج کو انہیں کم از کم اپنا تسلیم کرنے پر مجبور کیا ہے۔
اب بھی پاک فوج دماغ سے نہیں سوچ رہی۔ جس طرح ابھی علیحدگی پسندوں نے چند ویڈیوز کی مدد سے آپ کو بے رحم ، اپنوں سے اظہار لاتعلقی کرنے والا اور سپاہ کو بطور چارہ استعمال کرنے والا ثابت کیا ہے اب آپ کی لاتعلقی اور “ کوئی مذاکرات نہیں “ والا فارمولا بھی نہیں چلے گا۔ اب علیحدگی پسند بغیر کچھ لوگ رہا کروائے بھی اغواء کاریوں کی مدد سے آپ کی ساکھ کو تباہ کیا کریں گے اور سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو روکنا آپ کے بس کی بات نہیں ہوگی۔
اب اسکے دو پہلو ہیں۔ سب سے پہلے یوتھیا پہلو ! ایک تو جرنل صاحب ، آپ نے جو کچھ تحریک انصاف اور عمران خان کیساتھ کیا آپ کو اس کا ردعمل دکھائی دے رہا ہے۔ آپ رکھیں عمران خان کو قید میں ، آپ کریں اس پر سختیاں ، یہ لوگ اس کے بدلے میں ، آپ کی نفرت میں ہر اس چیز کو پھیلائیں گے جو آپ کو تکلیف دیتی ہے۔ اب جیسے آپکو بی ایل اے کی ان ویڈیوز کو جگہ جگہ دیکھ کر شدید تکلیف ہورہی ہے آپکی یہ تکلیف بڑھتی جائے گی۔ شدید ہوجائے گی۔ کیونکہ آپ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے مضبوط حصار میں تو بڑھکیں وغیرہ مار لیں ، آپ کو پتہ ہے کہ دو صوبوں میں آپ نے حالات کس نوبت تک پہنچا رکھے ہیں۔ اور عوامی ردعمل کا تو ابھی نقطہ آغاز ہے۔
دوسرا ہے انسانی اورپاکستانی پہلو ، کیا آپ بلوچستان کو آزاد الیکشن دینے کو تیار ہیں؟ انکے مرضی کے نمائندے منتخب ہونے دینے کو تیار ہیں؟ آپ علیحدگی پسندوں سے پاکستان کے جس آئین کو منوانا چاہتے ہیں کیا آپ اس آئین پر خود عمل کرنے کو تیار ہیں؟ آپ نے جو کچھ مشرقی پاکستان میں کیا آپ نے اس سے سبق کیوں نہیں دیکھا؟ پچاس پچپن سال سے بلوچستان میں فوج کشی جاری ہے یہ مسئلہ پھیلتا کیوں چلا جارہا ہے؟ کیا یہ مسئلہ ایک فرد واحد کے اقتدار ، توسیع ، اور حکمرانی کا ہے؟ یا اسکے پیچھے پلاٹ مراعات اور ریٹائرمنٹ پیکج والی سوچ کارفرما ہے؟ ہر نئے دن آپ کی حالت گزشتہ سے پتلی کیوں ہوتی چلی جارہی ہے؟ اور اس سب کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
ان سبھی سوالات کے درست جوابات پاکستان کا کوئی بھی بالغ شہری دے سکتا ہے۔ جرنل صاحب ، اب یہ قوم کی امید ناز کا آپ سے مان تو نہیں رہا لیکن پھر بھی سبق سیکھ لیجیے ورنہ آپ روز سبق تو سیکھ ہی رہے ہیں ایک دن پھر سبق سکھا دیا جائیگا۔
یہ جو چند ویلاگز والی شکلیں آپکو دکھائی دیتی ہیں نہ انکا نا سہیل آفریدی سے کوئی لینا دینا ہے نہ علیمہ خان سے نہ علی امین سے نہ عمران خان سے،
بہت واضح سی بات ہے چند ایک کے علاوہ باقی سب کسی نہ کسی گروہ کا حصہ ہیں اور اپنا چینل چلا رہے ہیں۔
اگر کسی سے کوئی اختلاف ہے تو وقت آنے پر بس اپنا اپنا سکور سیٹل کر رہے۔
بوقت ضرورت اپنے گروہ کے مخصوص مقاصد یا اپنے لوگوں کی پروموشن کے لئیے کوشش کرتے ہیں۔
باتیں دو سالوں سے گھما پھرا کر آپ سب کو وہی سنائی جا رہی ہیں
عمران خان ہار نہیں مان رہا
عمران خان ڈٹ گیا ہے
عمران خان نے کہا جیل میں موت قبول ہے جھکنا نہیں
یہ وہ لوگ ہیں جنکی ان آواز اُونچی اور وزن دے کر کہی گئی باتوں کو آپ لوگ سن کر واہ واہ واہ کر اٹھتے ہیں
قصور انکا نہیں آپ لوگوں کے آئی کیو کا ہے
وہ وہی باتیں دہراتے ہیں آپ ہر بار لکیر کے فقیر بنے وہ سب پوسٹ کرتے ہیں
کوئی عقل کریں
بس کریں لوگوں کی لکیروں پر فقیر بننا
کیوں آپ لوگ اپنا دماغ استعمال ہی نہیں کرنا چاہتے۔
کتنی بار آپ نے سننا ہے عمران خان ڈٹا ہوا ہے؟
آپ نے خود کیا کرنا ہے؟
بس کریں ہر ایک کی ڈائیلاگ بازی پوسٹ کرنا۔
خان نے آپکو لوگوں کی رائے پر چلنا نہیں سکھایا
عمران خان نے آپکو سکھایا کہ اللّٰہ نے پر دئیے ہیں تو چینٹیوں کی طرح کیوں رینگ رہے ہو۔
بس کریں ڈائیلاگ بازیاں پوسٹ کرنا۔
عمران خان کے علاوہ کچھ پوسٹ نہ کریں۔
جو شخص ایک ماہ تک خان صاحب کی زندگی اور صحت کی مکمل گارنٹی دے سکتا ہے وہ سامنے آئے، میں اس کی "فورس" میں سب سے پہلے اپنا نام لکھوں گا۔
میرا پیارا بھائی ہے سہیل لیکن میں بطور ایک ورکر اور ایک عام پاکستانی ایک ماہ انتظار کرنے کے حق میں نہیں