Law Associate at SMALA , Studied at LLB (Hons) Shariah and Law(International Islamic University, Islamabad) , Former Vice President @ Law Students Council Pak
اک رنج بہ پیرایۂ زر کیوں نہیں جاتا
کشکولِ حوس ہے تو یہ بھر کیوں نہیں جاتا
جب روح سے کہتے ہو کہ لبیک حسینا
پھر دل سے یزیدوں کا ڈر کیوں نہیں جاتا
کہتے ہو کہ ہو اُسوہءِ شبیر پہ قائم
دربار میں کیوں جاتے ہو، سَر کیوں نہیں جاتا
نہ حرفِ حق ، نہ وہ منصور کی زباں ، نہ وہ دار
نہ کربلا ، نہ وہ کٹتے سروں کے نذرانے
نہ با یزید ، نہ شبلی ، نہ اب جنید کوئی
نہ اب و سوز ، نہ آہیں ، نہ ہا و ہو خانے
نصیر ! اشک تو پلکوں پہ سب نے دیکھ لیے
گزر رہی ہے جو دل پر ، وہ کوئی کیا جانے
عجب مذاق رَوا ہے' یہاں نظام کے ساتھ
وہی یزید کے ساتھی ' وہی امام کے ساتھ
میں رات اُلجھتا رہا ' دِین اور دُنیا سے
غزل کے شعر بھی کہتا رہا 'سلام کے ساتھ
یہ جھوٹ موٹ کے درویش پھر کہاں کُھلتے
کہ میں شراب نہ رکھتا اگر طعام کے ساتھ
گلے شکوے کہاں تک ہوں گے آدھی رات تو گزری
پریشاں تم بھی ہوتے ہو پریشاں ہم بھی ہوتے ہیں
وہ آنکھیں سامری فن ہیں وہ لب عیسیٰ نفس دیکھو
مجھی پر سحر ہوتے ہیں مجھی پر دم بھی ہوتے ہیں
داغؔ دہلوی
نہ حرفِ حق ، نہ وہ منصور کی زباں ، نہ وہ دار
نہ کربلا ، نہ وہ کٹتے سروں کے نذرانے
نہ با یزید ، نہ شبلی ، نہ اب جنید کوئی
نہ اب و سوز ، نہ آہیں ، نہ ہا و ہو خانے
نصیر ! اشک تو پلکوں پہ سب نے دیکھ لیے
گزر رہی ہے جو دل پر ، وہ کوئی کیا جانے
یہ ہے مجلسِ شہِ عاشقاں کوئی نقدِ جاں ہو تو لیکے آ
یہاں چشمِ تر کا رواج ہے، دلِ خونچکاں ہو تو لیکے آ
یہ فضا ہے عنبر و عود کی، یہ محل ہے وردِ درود کا
یہ نمازِ عشق کا وقت ہے، کوئی خوش اذاں ہو تو لیکے آ
نصیر ترابی