1970 میں خان قیوم کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات میں حصہ لیا جس پر میرا دو لاکھ پچاس ہزار خرچہ ہوا
چند دن بعد میرا شاہی باغ چارسدہ جانا ہوا تو وہاں باچا خان نے بلایا اور کہا کہ سنا ہے کہ آپ نے الیکشن کمپین پر بہت خرچہ کیا ہے۔۔۔ میں خاموش رہاـ
1/1
1970 میں خان قیوم کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات میں حصہ لیا جس پر میرا دو لاکھ پچاس ہزار خرچہ ہوا
چند دن بعد میرا شاہی باغ چارسدہ جانا ہوا تو وہاں باچا خان نے بلایا اور کہا کہ سنا ہے کہ آپ نے الیکشن کمپین پر بہت خرچہ کیا ہے۔۔۔ میں خاموش رہاـ
1/1
@TabishAli115736@Intl_Mediatior Joke of the century
We have seen ok s foreign policy
He himself admitted everything was run by bajwa
Remember Kuala lumpur summit ????
بدقسمتی یہ ہے کہ افغان ڈائسپورا، جہالت، تعصب اور عصبیت کی باتیں کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود افغانستان کے اندر پختون، ازبک، تاجک اور ہزارہ سب ایک ہی ریاست میں رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اکٹھے رہیں گے، لیکن وہ ہمیں کہتے ہیں کہ تم پختون ہو، تمہیں پنجابی، سندھی اور بلوچ کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے۔ بھائی! اگر افغانستان میں پختون ازبک، تاجک اور ہزارہ کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو ہم بھی پاکستان میں اپنے پنجابی، سندھی اور بلوچ بھائیوں کے ساتھ خوشی سے رہ سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پختونوں کے لیے پاکستان ایک نعمت ہے۔ دنیا میں پختونوں کا سب سے بڑا شہر کراچی ہے، جہاں لاکھوں نہیں بلکہ ملینز کی تعداد میں پختون کاروبار کرتے ہیں، روزگار کماتے ہیں اور عزت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ تاریخ بھی واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین مختلف ادوار میں مختلف سلطنتوں کے زیر اثر رہی، حتیٰ کہ احمد شاہ ابدالی کی درانی سلطنت بھی زیادہ عرصہ قائم نہیں رہی۔ اس بنیاد پر یہ دعویٰ کہ پورا خیبر پختونخوا یا اٹک تک افغانستان کا تھا، تاریخی طور پر درست نہیں۔پشاور پر درانی حکمرانی رہی بھی تو مردان، صوابی، ملاکنڈ، سوات اور دیر افغانستان کا حصہ نہیں تھے۔ چترال ایک الگ ریاست تھی، ہزارہ کا اپنا تاریخی پس منظر تھا۔ اب آتے ہیں اس بار بار دہرائی جانے والی بحث پر کہ ڈیورنڈ لائن سرحد نہیں ہے۔ یہ سرحد نہ ماننے سے افغانستان کو کیا ملا؟ داود نور محمد ترہکئی، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل، ڈاکٹر نجیب اللہ، حامد کرزئی اور اشرف غنی سب کے نتائج عدم استحکام اور مہاجرت کی صورت میں سامنے آئے۔آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ دو سپر پاورز کو شکست دی گئی، لیکن جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا، ببرک کارمل روسی ٹینکوں کے نیچے کابل میں آیا، اور افغان شہری ان پر پھول نچھاور کر رہے تھے۔ پانچ ملین افغان مہاجر بن کر پاکستان اور دیگر ممالک چلے گئے۔ 2001 میں امریکہ کے حملے کے بعد بھی لاکھوں افغان مہاجر پاکستان آئے، اور پاکستان نے انہیں پناہ دی۔افغانستان میں تعلیم کا نظام کمزور ہے، اسپتال اور ڈاکٹرز نہیں ہے، بنیادی انفراسٹرکچر موجود نہیں۔ ان مسائل پر توجہ دو ، ڈیورنڈ لائن کی بحث لاحاصل ہے۔۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ افغانستان پاکستان کو حقیقی ہمسایہ تسلیم کرے، نفرت اور پرانی بحثوں کو ختم کرے اور امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ خطے کا مستقبل تعلیم، تعاون اور ترقی میں ہے، نہ کہ ماضی کے تنازعات کو بار بار زندہ کرنے میں۔
افغانستان کے ٹی وی چینل امو سے بات چیت
بدقسمتی یہ ہے کہ افغان ڈائسپورا، جہالت، تعصب اور عصبیت کی باتیں کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود افغانستان کے اندر پختون، ازبک، تاجک اور ہزارہ سب ایک ہی ریاست میں رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اکٹھے رہیں گے، لیکن وہ ہمیں کہتے ہیں کہ تم پختون ہو، تمہیں پنجابی، سندھی اور بلوچ کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے۔ بھائی! اگر افغانستان میں پختون ازبک، تاجک اور ہزارہ کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو ہم بھی پاکستان میں اپنے پنجابی، سندھی اور بلوچ بھائیوں کے ساتھ خوشی سے رہ سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پختونوں کے لیے پاکستان ایک نعمت ہے۔ دنیا میں پختونوں کا سب سے بڑا شہر کراچی ہے، جہاں لاکھوں نہیں بلکہ ملینز کی تعداد میں پختون کاروبار کرتے ہیں، روزگار کماتے ہیں اور عزت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ تاریخ بھی واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین مختلف ادوار میں مختلف سلطنتوں کے زیر اثر رہی، حتیٰ کہ احمد شاہ ابدالی کی درانی سلطنت بھی زیادہ عرصہ قائم نہیں رہی۔ اس بنیاد پر یہ دعویٰ کہ پورا خیبر پختونخوا یا اٹک تک افغانستان کا تھا، تاریخی طور پر درست نہیں۔پشاور پر درانی حکمرانی رہی بھی تو مردان، صوابی، ملاکنڈ، سوات اور دیر افغانستان کا حصہ نہیں تھے۔ چترال ایک الگ ریاست تھی، ہزارہ کا اپنا تاریخی پس منظر تھا۔ اب آتے ہیں اس بار بار دہرائی جانے والی بحث پر کہ ڈیورنڈ لائن سرحد نہیں ہے۔ یہ سرحد نہ ماننے سے افغانستان کو کیا ملا؟ داود نور محمد ترہکئی، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل، ڈاکٹر نجیب اللہ، حامد کرزئی اور اشرف غنی سب کے نتائج عدم استحکام اور مہاجرت کی صورت میں سامنے آئے۔آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ دو سپر پاورز کو شکست دی گئی، لیکن جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا، ببرک کارمل روسی ٹینکوں کے نیچے کابل میں آیا، اور افغان شہری ان پر پھول نچھاور کر رہے تھے۔ پانچ ملین افغان مہاجر بن کر پاکستان اور دیگر ممالک چلے گئے۔ 2001 میں امریکہ کے حملے کے بعد بھی لاکھوں افغان مہاجر پاکستان آئے، اور پاکستان نے انہیں پناہ دی۔افغانستان میں تعلیم کا نظام کمزور ہے، اسپتال اور ڈاکٹرز نہیں ہے، بنیادی انفراسٹرکچر موجود نہیں۔ ان مسائل پر توجہ دو ، ڈیورنڈ لائن کی بحث لاحاصل ہے۔۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ افغانستان پاکستان کو حقیقی ہمسایہ تسلیم کرے، نفرت اور پرانی بحثوں کو ختم کرے اور امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ خطے کا مستقبل تعلیم، تعاون اور ترقی میں ہے، نہ کہ ماضی کے تنازعات کو بار بار زندہ کرنے میں۔
افغانستان کے ٹی وی چینل امو سے بات چیت
@EPropoganda1 Yes
Totally wrong translation
Afghanistan minister is saying
As health minister, my only enemy is illness caused by germs
Will do everything to prevent diseases