Recite in the name of your Lord who created▫️Created man from a clinging substance▫️Recite, and your Lord is the most Generous▫️Who taught by the pen▫️Taught man that he knew not.
ذرا سوچئے : "یہ برین ڈرین نہیں، برین گین ہے!"
یعنی ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی پروفیشنلز باہر جا کر دوسروں کی جی ڈی پی بڑھا رہے ہیں… اور ہم کہہ رہے ہیں "شکریہ، ہماری تعلیم و تربیت اور ٹریننگ کامیاب رہی!"
جو جا رہے ہیں، زیادہ تر وہ پڑھے لکھے ہیں۔
جو رہ رہے ہیں، وہ موقع کا انتظار کر رہے ہیں۔
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
کون سے صوبہ جرائم سے محفوظ ہے خیبر پختونخواہ یا پنجاب؟ آئیے جانتے ہیں
Kidnapping / abduction
• 2024 (SSDO report via provincial RTI data): Punjab 20,720 registered cases; KP 943. A separate national compilation cited Punjab at about 28,702 and KP at 533 for the same year—definitions (all abduction vs specific categories) differ across sources.
• Rough 2024 rate: Punjab ~16 per 100,000; KP ~2 per 100,000 on the SSDO figures (wide gap even after population adjustment). Conviction rates were extremely low in both (Punjab 16 convictions; KP 1).
• Punjab trend: Kidnapping for ransom fell from 96 (2024) to 76 (2025) in one National Police Bureau-linked dataset covering part of the year. Broader kidnapping figures remain high.
• KP trend: Jan–Oct data released via Peshawar Police showed kidnappings rising from 934 (2024) to 993 (2025). Regional full-year comparisons (Peshawar region 53→82; Hazara abductions 358→447) also indicated increases.
Car and bike snatching / vehicle theft
• Punjab (The News / National Police Bureau comparative set, 2024 vs 2025 partial-year figures): Motorcycle snatching 10,886 → 5,634 (−48%); car snatching 65 → 36; motorcycle theft 66,632 → 43,833 (−34%); car theft 1,166 → 607 (−48%). Earlier multi-year police figures showed vehicle snatching declining from 10,800 (2023) toward roughly 7,000 by 2025, and combined dacoity/robbery/snatching falling from 120,494 (2023) to 68,530 (2025). Longer-term motorcycle theft/snatching volumes in Punjab have still been very large (reports of >650,000 cases over a decade).
• KP: Province-wide totals are sparse. Peshawar-region full-year comparison showed motorcycle snatching rising 159 → 288 and motorcycle theft 260 → 386. DI Khan motorcycle theft fell sharply (247 → 107). Jan–Oct vehicle-theft figures cited in one release declined modestly (1,073 → 958). Overall property-crime pressure appears lower in absolute terms than Punjab but with localized increases.
Robbery
• Punjab: General robbery fell from 53,271 (2024) to 25,010 (2025) in the comparative dataset (−53%). Monthly snapshots (e.g., October) showed drops of around 50–60% year-on-year in some police releases after the Crime Control Department began operations. Claims of 70–80% overall crime reduction have been contradicted by fact-checks using broader Punjab Police totals (one Geo fact-check found only ~2% overall decline when full categories were compared).
• KP: Jan–Oct figures showed a slight decline (586 → 573). These absolute numbers are far smaller than Punjab’s and may reflect narrower recording or lower urban street-crime volume; terrorism-related violence is a separate and larger security problem in KP
Mobile phones stolen / snatched
Province-wide published series are weak for both. In Punjab, police reported recovering 11,788 mobile phones from criminal gangs in 2024. City-level snapshots (e.g., Lahore) have shown short-period declines in mobile snatching in some 2025–26 windows, but mobiles are frequently folded into general snatching or theft statistics rather than reported separately. Comparable KP province totals were not available in the sources reviewed.
Rape
• 2024 (SSDO): Punjab 4,641 rape cases (conviction rate ~0.4%); KP 258 (1 conviction). Gang-rape counts in another 2024 compilation: Punjab 2,046; KP 1 (plus 402 zina cases in KP).
• Rate per 100,000: Punjab roughly 3.6; KP roughly 0.6 on SSDO rape figures—still higher in Punjab after population adjustment, though under-reporting is widely acknowledged in both provinces (stigma, family pressure, low trust in outcomes).
Extortion
• Punjab: 625 cases recorded in 2025 (Crime Control Department compilation), with Multan (70) and Lahore (68) the highest districts.
• KP: CTD data for part of 2025 recorded more than 73 registered cases (87 nominated persons, most still at large), concentrated in Peshawar and Khyber (18 FIRs each) and frequently linked to proscribed outfits.
!وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی سے تاج آباد، پشاور کے رہائشی خاندان کی بچوں سمیت ملاقات!
دو ماہ سے لاپتہ 14 سالہ بیٹے طفیل کی بحفاظت بازیابی پر والدین نے وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ حیات آباد میں ایک تقریب کے دوران بچے کی والدہ نے وزیراعلیٰ سے بیٹے کی بازیابی کے لیے دادرسی کی اپیل کی تھی، جس پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ پولیس حکام کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ایس پی جاوید اختر، ڈی ایس پی عمر آفریدی اور ایس ایچ او عمران خان نے کارروائی کرتے ہوئے تھانہ پشتخرہ کی حدود سے تعلق رکھنے والے لاپتہ بچے طفیل کو موضع قاضی کلے سے بحفاظت بازیاب کرا کے والدین سے ملا دیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بچے کی بازیابی اور خاندان کو دوبارہ ملانے پر پولیس افسران کی کارکردگی کو سراہا اور انہیں تعریفی اسناد سے نوازا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حیات آباد ٹول پلازہ انڈر پاس کا افتتاح کردیا۔
افتتاحی تقریب ایک عظیم الشان جلسے کی شکل اختیار کر گئی، جس میں صوبائی صدر جنید اکبر، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک، صوبائی وزراء مینا خان آفریدی، شفیع جان، میاں عمر، عدیل اقبال پشاور کے منتخب اراکین اسمبلی و پارٹی قیادت سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
حیات آباد ٹول پلازہ انڈر پاس 1.6 ارب روپے کی لاگت سے صرف 90 روز میں مکمل کیا گیا، جس کی مجموعی لمبائی 500 میٹر اور بیرل 130 میٹر طویل ہے۔
منصوبے میں 665 پائلز اور دو لین پر مشتمل انڈر پاس شامل ہے، جو ڈی ٹور روڈ (باڑہ سائیڈ) سے رنگ روڈ کی جانب ٹریفک کی روانی کو بہتر بنائے گا۔
منصوبے کی تکمیل سے حیات آباد اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کے مسائل میں کمی، آمدورفت میں آسانی اور ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
پشاور حیات آباد ٹول پلازہ سے ناقابلِ یقین مناظر!!!🔥
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے دیکھ لو، یہ ہوتی عوامی مقبولیت، تم اسطرح عوام میں نکل کر دکھائیں تو ہم مان جائیں گے!!!
PTI and Sohail Afridi are playing this smartly here… inaugurating some incomplete projects to build momentum, energize their workers, and put pressure where it matters. Truly commendable political strategy.
Any adventure in Kp at this point could create far more chaos and instability than anyone can imagine. With an already fragile security situation in the border regions and growing political tensions, pushing the province towards confrontation could have serious and long-lasting consequences.
The better course is to settle the differences at the table. As sooner or later, every political crisis has to return to negotiations then why push the province and its people through more chaos only to sit at the table later?
Have mercy on the people and on the country. We deserve much better than another chapter of political confrontation and instability.
پشاور میں ائرپورٹ طرز کا نیا جنرل بس سٹینڈ تقریبا تیار ہو چکا ہے۔ یہ سٹیٹ آف دی آرٹ بس اسٹینڈ ہے جو دنیا کے جدید ترین شہروں کے معیار کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے۔ جس انداز میں یہ تعمیر ہوا ہے، اس کی مثال پورے پاکستان میں اور کوئی نہیں ملتی۔ یہ بس اسٹینڈ پاکستان کے کئی ائیرپورٹس سے بھی بہتر ہے۔ باقی صوبوں کے وزرائے اعلی کو بھی اسی طرز پر اپنے اپنے صوبوں میں بس اڈے بنانے چاہییں۔ افتتاح میں رکاوٹ یہ ہے کہ جی ٹی روڈ سے کنیکٹیویٹی کے لیے نیشنل ہائی وے سے ابھی تک اپروول نہیں مل رہی۔ آپریشنل ہونے کے بعد قوی امکان کے ہے کہ بی آر ٹی کی طرح یہ پروجیکٹ بھی کئی عالمی ایوارڈ جیت سکتا ہے۔
@AimalWali Da Charso chelam maska pa gharma ki Adam khana
Bya gadi wadi wayi pa nasha ki Adam khana
Sanga 8 feb bandi chi 2wanro balouchistan ta ruksat kari v agha om drama wa kna?
پاکستان میں فواد چوھدری سے گھٹیا صرف ایک انسان ہے اور وہ فواد چوھدری خود ہے اور یہ خود بتا رہا ہے کہ پاکستان War Economy پر چلتا رہا ہے۔
اور اسی ڈالری جنگ نے پختونخواہ کو راکھ کا ڈھیر بنادیا ہے اور یہی گھٹیا انسان اب اس دھشتگردی کا ذمہ دار پشتونوں کو کہتا ہے
#StopStateTerrorism
🚨ابو نے آخری بار کہا تھا، پڑھائی کرو اور اپنا وزن کم کرو، کوہاٹ دھماکے کی خبر پر بار بار ابو کو کال کی، مگر انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔ پھر گن مین کی روتے ہوئے کال سے اندازہ ہوا کہ ابو زخمی ہیں، کچھ دیر بعد خبر ملی کہ ایس پی اکبر خان شنواری شہید ہو گئے۔ خوب پڑھوں گا، چیف جسٹس بنوں گا، یا والد کی طرح پولیس فورس میں جاؤں گا۔
کوہاٹ دھماکے میں شہید ایس پی اکبر خان شنواری کے بیٹے ایمل خان کا شہید والد کے ساتھ آخری بار بات چیت