محاصرے میں دوسرا دن۔
عاصم منیر تمہارے پاس کیا جواز ہے۔ تمہاری وجہ سے عوام فوج سے نفرت کرتی ہے!
میں اس جرنیلی مافیا کا آخری دم تک مقابلہ کروں گا۔ یہ اس قوم کو نوچ کھا رہے ہیں۔
عاصم منیر چلے جاو۔ ورنہ بے آبرو ہو کر نکل دیئے جاو گے۔
میاں بیوی کی برہنہ ویڈیو بیٹی کو بھیجنے والے ، ججز کے بیڈ رومز میں کیمرے لگانے والے ، بیٹی کو باپ کے سامنے برہنہ کرکے سیاسی جماعت چھڑانے والے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے محافظ ہیں؟ استغفراللہ۔ استغفراللہ۔
جس وقت افغانستان میں جہاد کے نام پر پاکستان کو دھکیلنا تھا تو علماء اس کے حق میں فتوے دے رہے تھے اور کچے مذہبی ذہنوں کو یہ اسلام کی جنگ لگ رہی تھی۔جس وقت علماء دہشتگردی کے خلاف جنگ کو مقدس فریضہ قرار دے رہے تھے اس وقت بھی کچے ذہن اسکے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ اب پاک فوج ایک بار پھر اپنی ڈالری جنگ کو کسی مقدس مشن سے جوڑ کر کچے ذہن خراب کررہی ہے۔
ابھی کچھ مہینے پہلے جب پاک فوج کے افسر جگہ جگہ بیانیے بنانے جارہے تھے تو ایک یونیورسٹی میں ایک میجر جنرل نے کشمیر کے موضوع پر فرمایا کہ کشمیریوں کو اپنی جنگ خود لڑنی ہے ہم ان کے لیے دعا کرسکتے ہیں۔ یہ اتنی بڑی فوج ، اتنا بجٹ ، کشمیر اور انڈیا کے لیے تھا۔ یہ فوج کشمیر کا ایک انچ نہیں لے پائی اور بھارت سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے بچے کھچے دریاؤں پر بھی آبی پراجیکٹس بنائے جارہا ہے۔ ایک لاکھ کشمیری انہیں پکارتے پکارتے شہید ہوگئے یہ ادھر کا منہ نہ کرسکے۔
یہ جنگ اگر اس قدر مقدس تھی تو کٹھ پتلی پارلیمنٹ میں ہی اس کا معاہدہ پیش کردیا جاتا۔ کیوں اسے چوری کے مال کی طرح چھپایا جارہا ہے؟ مذہب جذبات کے نام پر بہت الو بن لیے اور بہت نقصان کروا لیا۔ ایران کی جنگ ، سعودی عرب کی جنگ یا امریکہ کی جنگ پاکستان کی جنگ نہیں ہے۔ وہ فوج جو آئین ، جمہوریت اور عوام کے ساتھ مخلص نہیں وہ پھر اسلام کے ساتھ بھی مخلص نہیں۔ یہ جنگ ہماری جنگ نہیں۔
جن لوگوں نے صحافی جمال خاشقجی کو آری سے کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا آج وہ یمن میں معصوم بچوں، خواتین اور نہتے عوام کو قتل سفاکیت کا نشانہ بنا رہے ہیں، یہی سعودی نظام ہے اس کے بارے میں سب کو جاننا چاہئیے۔
#Yemen
کلائمکس کی شوٹنگ سے کچھ ہی دیر پہلے نانا پاٹیکر کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ سینے میں تکلیف ہوئی تو انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے انہیں آرام کا مشورہ دیا لیکن دوسری طرف فلم کا کلائمکس تیار تھا۔ سیٹ لگ چکا تھا، بڑی تعداد میں جونیئر آرٹسٹ موجود تھے اور شوٹنگ ملتوی کرنا ممکن نہیں تھا۔۔۔ شوٹنگ ہو رہی تھی نانا پاٹیکر کی مشہور فلم 'کرانتی ویر' کی۔۔
نانا پاٹیکر ہسپتال میں رکنے کی بجائے ڈاکٹر کو ساتھ لے کر سیٹ پر پہنچ گئے۔ یہ وہ منظر تھا جس میں ان کے کردار پرتاپ کو پھا۔۔نسی دی جانی تھی۔ نانا نے ہدایت کار مہول کمار سے کہا کہ انہیں معلوم ہے سین کیا ہے لیکن وہ یہ سین بار بار نہیں کر سکتے۔ چنانچہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ کیمرے لگانے کو کہا تاکہ ان کی پرفارمنس کا کوئی لمحہ ضائع نہ ہو۔
پھر دوپہر تقریباً ڈھائی بجے کیمرے تیار کیے گئے اور نانا پاٹیکر نے بولنا شروع کیا۔ نانا کے اپنے بیان کے مطابق انہیں صورتحال معلوم تھی، کردار معلوم تھا لیکن آگے کیا بولنا ہے، وہ اسی لمحے سامنے آتا گیا۔ انہیں کوئی سکرپٹ نہیں دی گئی۔ اس وقت ان کی زبان سے وہ الفاظ نکلے جو آج بھی ہندی سنیما کے مشہور ترین مکالموں میں شمار ہوتے ہیں۔ 'آ گئے میری مو۔ ت کا تماشا دیکھنے؟۔۔۔'
اس کے بعد پرتاپ اس معاشرے سے سوال کرتا ہے جو ظل۔ م کو دیکھ کر خاموش رہتا ہے۔ وہ مذہب کے نام پر انسانوں کی تقسیم پر سوال اٹھاتا ہے اور خو۔ ن کی مثال دیتے ہوئے پوچھتا ہے کہ اگر انسانوں کا خو۔ ن ایک ہی رنگ کا ہے تو پھر اسے ہندو اور مسلمان کے خون میں کیسے تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ نانا پاٹیکر بولتے چلے گئے۔ ایک جملہ دوسرے جملے کو جنم دیتا گیا اور منظر ایک طویل مونولاگ میں بدل گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کلائمکس کئی دن میں مکمل ہونا تھا لیکن نانا نے اسے چند گھنٹوں میں مکمل کر دیا۔ شوٹنگ تقریباً ڈھائی بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک ختم ہوگئی۔ ایک انٹرویو میں نانا پاٹیکر نے کہا کہ انہیں خود یاد نہیں کہ اس دن انہوں نے کیا کیا کہا تھا۔ یعنی جس مکالمے کو بعد میں لوگ لفظ بہ لفظ یاد کرنے لگے تھے اسے بولنے والے اداکار کو خود اس کی ایک ایک لائن بھی یاد نہیں تھی۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ ’کرانتی ویر‘ کے اس کلائمکس میں اداکار کی جسمانی کیفیت، کردار کا غصہ، منظر کی شدت اور اس لمحے کی بے ساختگی سب کچھ ایک ساتھ شامل ہوگیا تھا۔ اسی لیے نانا پاٹیکر کو بڑے سے بڑا اداکار استاد مانتے تھے۔۔۔
جنت دوزخ کا فیصلہ تو اللہ کے پاس ھے
میں مشرک کے لئیے دعا بھی نہیں کر سکتا کیونکہ سورہ توبہ کی آیت نمبر 113 مجھے روکتی ھے
بہرحال یہ بہت اچھا انسان تھا کتنے ھی گھروں کے چولہےاس شخص کی وجہ سے چلتے تھے اتنی شہرت کے باوجود بھی اس میں تکبر نہیں تھا انسانوں کے ایک ہجوم نما جھنڈ سے انسانیت سے بھرپور شخص چلا گیا
کاش یہ مسلمان ھوتا.
اللہ سے دعا ھے کہ ایسے لوگوں کو مسلمانوں کے گھروں میں پیدا کرے تاکہ ہم کم از کم دعا کر سکی 😢🤲
میں اپنی بیٹی جویریہ کے گھر میں نظر بند ہوں۔ میرے 5 اور 7 سال کے نواسوں، محمد اور اسماعیل کو آج سکول جانے سے روک دیا ہے۔ بجلی کال سے کاٹ دی ہے، کھانا پینا تو دور کی بات، پانی کا گلاس تک گھر کے اندر نہیں آسکتا۔
دشمن کے بچوں کو تو پڑھانے کا شوق تمہیں ہے۔ کیا تم میرے بچوں کو اُن سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتے ہو؟
جب PTI کے مطالبات واضح ہیں جن پر سودے بازی نہیں ہو سکتی تو کچھ لوگ بار بار مولانا فضل الرحمان کے گداز چڈوں میں گھسنے کیوں چلے جاتے ہیں۔
ایک بات سمجھ لیجیئے PTI کا کوئی بڑا مطالبہ کسی بات چیت سے پورا ہونا خارج از امکان ہے۔ اس کیلئے طاقت کے بھرپور مظاہرے کے سوا کوئی آپشن ہی نہیں
ایک دوست نے کہا نانا پارٹیکر کا ذکر چھوڑیں وہ مسلمان نہيں تھا۔ ہندو تھا۔
مجھے عرب حکمران یاد آگئے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اسرائیل کے غلام ہیں۔ غاصبوں کے ساتھی ہیں۔ لبیا کا فیلڈمارشل حفتر یاد آگیا جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔ اس کے جرائم یاد آگئے۔ ایک دو اور فیلڈمارشل بھی یاد آگئے۔ ان کے کارنامے بھی آنکھوں کے سامنے گھوم گئے۔
خیر قرآن مجید کہتا ہے کہ اچھے لوگ دوسرے مذاہب میں بھی ہیں جو نیک ہیں، جو ایمان اور نیک عمل پر قائم رہتے ہیں۔ ان کا انجام اچھا ہو سکتا ہے۔
سورۃ البقرہ، آیت 62
معنی: بے شک جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی ہوئے، اور نصاریٰ، اور صابی، ان میں سے جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اسی مفہوم کی آیت سورۃ المائدہ 5:69 میں بھی تقریباً اسی الفاظ میں دہرائی گئی ہے۔
سورۃ آل عمران، آیات 113–115
یہاں اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ کی تعریف کی گئی ہے۔
معنی: وہ سب یکساں نہیں۔ اہلِ کتاب میں سے ایک جماعت سیدھی راہ پر قائم ہے، رات کے اوقات میں اللہ کی آیات پڑھتی ہے اور سجدہ کرتی ہے۔ وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، اور بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں، اور یہی لوگ نیک ہیں۔ اور جو نیکی وہ کریں گے اس کا انکار نہیں کیا جائے گا، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔
یوتھیو ! میں ہر طرح کے حالات کا موازنہ ان خاموش شاموں سے کرتا ہوں جب زمان پارک کے باہر ایک رجسٹر رکھا ہوتا تھا۔ آنے جانے والوں کا ایک سپاہی اندراج کرتا تھا۔ لوگ پارٹی چھوڑ رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر سب کو سانپ سونگھا ہوا تھا۔ جیسے سانپ اپنے شکار کے گرد خود کو لپیٹ کر کس لے۔ جیسے کوئی کمزور جانور مگرمچھ کے جبڑوں میں پھنس جائے۔
اگر آپ کو پڑھنا آتے ہوں تو یہ لائکس ، شئیرز اور ریچ جھوٹ نہیں بولتے۔ یہ رحجان بتاتے ہیں۔ سوشل میڈیا یوزرز کا سیمپل سائز ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سے زیادہ ہے۔ یعنی ممکن ہے ووٹنگ ٹرن آوٹ اکثریتی آبادی کی رائے کا عکاس نہ ہو۔ ممکن ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اکثریتی رائے کی عکاسی نہ کریں ناممکن ہے۔
چند لوگ بچے تھے اور بھی ڈرے ڈرے سہمے سہمے۔ اب ہزاروں لوگ ہیں جو دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ ہر طرح کی دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر۔ بہت سارے نقصانات اٹھائے ہوئے۔ نفرت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے اور آگ اگلتے ہوئے۔ اگر ہم اس خاموشی سے نکل آئے ہیں تو اب تو ہم طاقتور ہی بہت ہوچکے۔ دشمن کے چہرے پر ناکامیاں ہی بہت ملی جاچکیں ، جگہ جگہ پھنس چکے۔
ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں اور دشمن غلط سمت میں۔ ہماری جو کمزوریاں تھیں وہ ختم ہوتی جارہی ہیں اور دوسری طرف مشکلات بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ وہ واپس نہیں مڑ رہے اور ہمارے قدم رک نہیں رہے۔ انکے آگے تباہی ہے اور ہمارے آگے کامیابی۔ ڈٹے رہے ، پر امید رہو اور چڑھ کے رہو۔ یہ جیت نہیں سکتے ہم ہار نہیں سکتے۔
عمران خان ووٹ سے مقبول ثابت ہوچکا۔ عمران خان سٹریٹ پاور سے ثابت ہوچکا۔ عمران خان جیل میں اپنی استقامت ثابت کرچکا۔
اور اب فوج جوتے کھا کر ماننا چاہتی ہے؟
جب پاکستان اور ترکیہ میں فلسطینی جھنڈا لگانے پر بھی پابندی تھی، مظاہرہ کرنے والوں پر کریک ڈاؤن ہوتا تھا، تب یمن کے دارالحکومت صنعاء میں فلسطینیوں کے حق کے لئے ملین مارچ ہوتے تھے۔