شفیع جان صاحب بھی ٹک ٹاک میں جان ڈال رہے ماشاءاللہ ۔
مریم نواز کی تھرڈ کاپیاں لگ رہے واہ رے عمران خان کن چھوکروں کو عُہدے دے دیے ۔
یہ کہاں رہائی تحریک کہاں یہ تو خود کی رنگ رلیوں سے نہیں نکل رہے ۔
اللہ عمران خان کی حفاظت کریں کیسے بُز دل لوگوں سے اُمیدیں وابسطہ ہیں ۔
دیکھنا کہی جہادی فورس اسرائیل نا نکل جائے ۔
کُچھ لوگ کہتے ہیں ۔
تعلقات قائم رکھنے کیلیے اندھا ، بہرا اور کبھی گونگا بننا پڑتا ہے ۔
اپنا اصول ۔
میں ایسے تعلقات کی بہن کو بھی نہیں یہتا بندہ اکیلا ٹھیک ہے منافقت سے 🔥
#kharalaDaMunda
ادھر جتنے بیٹھے ہیں خیر بھروسے مند تو نہیں ۔
لیکن یہاں ایک بے نامی تحریک والا رومی دلا بیٹھا اس نے بھی خان کے نام سے دُوکان چمکائی ۔
پھر #KRBT کے نام سے اپنا چکلا چلانے کی کوشش کی خیر سمجھدار لوگ تو اس چکلے میں انٹر نہیں ہوئے ہوں گے ۔
اس نے سپورٹ خان کی بہنوں کے نام سے حاصل کی آجکل مُحترم کیلیے وہ بھی کمپرومائز ہو گئی ہیں ۔
اس وجہ سے کے سُہیل آفری نے بجٹ پاس کر دیا اور انہوں نے اُن کا ساتھ دیا ۔
اوئے بغیرت آدمی دلے وہ کر بھی کیا سکتی ہیں سوچنے کی بات ہے نا تو اُن کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ ۔
وہ قیادت کے خلاف بیان دے پوری کُتا پارٹی قیادت اُن کو جُڑ جاتی جو انہوں نے گروپ رکھے ہوئے ۔
اگر اُن کی طرف بیان دے کہ جو وہ کر رہے بہتر ہو گا تو پھر تُم جیسے کُتے بلے کمپرومائزڈ کا سرٹیفکیٹ بانٹنا شروع کر دیتے ۔
تُم لوگوں کے لیے ایزی ٹارگٹ ہے خان کی بہنیں جب کوئی نا ملا سارے گروپ اُن پے چڑھ دوڑے ۔
چھوکری یاویوں تُسی فری دی لکی ارانی سرکس کھول کے بیٹھے ہوتے ۔
جیسے تُم لوگ ویسے ہی گھٹیا تُم لوگوں کے سپورٹر شرم کرو پہلے علی امین تھا اُس کھسی کا ایک گروپ تھا پھر سہیل آفریدی صاحب آئے ۔
جس کو ایک سال ہونے والا یہ نہیں پتہ چل رہا کرنا کیا ہے ۔
اور تُم لوگ کُتوں کا ٹبر یہاں عقیدت مندی کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ۔
کیا چوتیاپا ہے ۔
عمران خان کے دور میں بیرل 91 کا تھا ریٹ 150 پھر آئی معشیت کی اُڑان والی حکومت ایک جنرل صاحب کی زبانی ۔
انہوں نے روکا 258 پے لے جا کہ بیرل ریٹ اُس ٹائم 90 تھا ۔
آج کے دن بیرل ریٹ 80 ہو گیا ہے اور قیمت 73 روپے کمی کے ساتھ 300 کیا پُھدو بنایا ہوا ہے عوام کو تُم لوگوں نے ۔
اوئے کنجروں ویسے تو تم لوگ ریلیف دے نہیں سکتے جو ریٹ ہے اُس کے مطابق کم تو کرو ۔
شرم نہیں آتی اس شہباز سپیڈ اور اس کے سہولتکاروں کو کہ عوام پے مہنگائی کے پہاڑ اور یہ صاحب کہتے ایک روٹی چار بھائی ۔
اور اُدھر میڈم کے جہاز کی منٹینیس اور ٹوپا ٹاپی کے لیے 150 ارب واہ رے غریب ُملک یا قبرستان عوام ۔
پنجاب اسمبلی میں آج عمران خان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے خلاف گونج سنائی دی۔ قیدِ تنہائی میں رکھنا اور ان کی صحت کو نظر انداز کرنا بدترین سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔یہ ظلم و جبر اب اپنی حدیں پار کر چکا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہمارا عزم اٹل ہے؛ جب تک عمران خان کی آزادی یقینی نہیں بنائی جاتی، یہ احتجاجی لہر تھمے گی نہیں۔
پھدو محکمہ کے مطابق کشمیر سے باہر رہنے والوں کا کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینا ان کا حق ہے ۔۔۔
پھر پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانیوں سے ووٹ کا حق کیوں چھینا ؟؟؟
موجودہ پی ٹی ائی قیادت سے تو زیادہ ہمت والا یہ بچہ نکلا وہاں پے ایک صوبے کا ایگزیکٹو پی ٹی ائی کا ۔
اُس پے تو اَب ترس آتا بچارہ
دس دن بعد نکلتا چار لوگوں کو چُمیاں دے کہ پھر وزیر اعلی ہاوس میں ۔
او بھائی آپ سے ہم نے خانصاب کی رہائی کی امید لگائی ہوئی اور آپ میک کپ کر کے نکلتے پانچ ٹک ٹاک بنا کے پھر واپس ۔
کُچھ خدا کا نام لو
پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں اس ٹائم سیٹوں کی تعداد سو سے زائد ہے ۔
صوبائی کی پنجاب میں 92 اور خیبر پختونخواہ میں میرے خیال سے 95 ہے ۔
باقی صوبے فلحال چھوڑ دے
اور جب اِنکو کال دی جاتی کہ دس ہزار بندہ نکالنا ہے جو اڈیالہ پہنچے ۔
تو یہ خود بھی نہیں آتے اور جب ان ذلیلوں سے پوچھا جائے تو عوام نئی نکلتی ۔
اوئے کنجروں جتنے تم لوگ بنتے خود بھی آو تو تم لوگوں کے گارڈ ڈرائیور ڈال کے دس ہزار بن جاتا ۔
حقیقت میں تُم لوگ خود خان کو نکلوانا نہیں چاہتے ۔
جو چند لوگ اڈیالہ آتے وہ عوام ہی ہوتی ۔
اے کہانی ساڈے شہر دی اے ۔
سُنا تھا سیاسی تبادلوں پر پابندی ہے لیکن ٹٹی حکومت نے
ڈی پی او حافظ آباد کامران حامد کا تبادلہ ایک ٹٹی کے مسلے پے کر دیا ۔
واہ رے ٹٹی مریم نواز تیرے رولے
@MaryamNSharif