کشمیر بُحران شدید ہو گیا۔
آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر کا غیرمُنتخب ممبر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم بناکر کشمیر پر مُسلط کرنے کے فیصلے پر واضح اختلاف
گیلانی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ !!!!
پمز ہسپتال اسلام آباد کا آج کا واقعہ بہت ہی افسوسناک دل دہلا دینے والا ہے۔
کب سے بتا رہے ہیں کہ اسلام آباد کا خیال کیجئے یہاں پر تمام انفرا سٹرکچر تباہ ہو چُکا، رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، ہر طرف نا اہلی کا راج ہے۔
پُوری دُنیا کی صُلح کروا رہے ہیں اور اپنے دارالحکومت کا حال شرمناک۔
اتنا لکھنے اور بولنے کا فیصلہ سازوں پر کیا اثر ہوا؟
صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہونا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
مرحوم حبیب جالب (رح) نے 1988 میں مُحترمہ بینظیر بھُٹو کی پہلی حکومت آنے کے کُچھ عرصہ بعد کُچھ اشعار کہے جو آج بھی سچ ہے ۔۔۔۔
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن بدلے ہیں صرف وزیروں کے
اپنا حلقہ ہے حلقۂ زنجیر
اور حلقے ہیں سب امیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
وہی اہل وفا کی صورت حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
سازشیں ہیں وہی خلاف عوام
مشورے ہیں وہی مشیروں کے
بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی
وہی دن رات ہیں اسیروں کے