PPP President Distt kashmore @gmjakhrani & Gen Sec PPP distt kashmore @miraltafkhoso attend adi faryal talpur's daughter wedding ceremony at nawab sha
براہ کرم نوٹ فرمالیں
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کل بتاریخ یکم اکتوبر بروز منگل کےدن ساڑھے 11 بجے بلوچستان ہائی کورٹ بار ہائی کورٹ بلڈنگ کے آڈیٹوریم میں وکلاء سے خطاب کریں گے، اس موقع پر وہ عدالتی اصلاحات و آئینی عدالت سے متعلق وکلاء کے سوالات کے جوابات بھی دیں گے۔
Congratulations
G. A Bhutto
الحمداللہ
Bibi Aseefa Bhutto Zardari is officially declared uncontested/unopposed for NA 207 Nawabshah-I.
بی بی کی تصویر اصف کی نظر بلاول کی پہچان بی بی اصفہ بے نظیر زندہ باد
مولانا فضل الرحمن اگر تحریک انصاف کے کندھے استعمال کر کے مرد قلندر آصف علی زرداری سے نگوشیئیٹ کرنا چاہ رہا ہیں تو میں یہ کہنے میں حق نجانب ہوں کہ مولانا نے تا عمر آصف زرداری کو پہچانا نہیں، آصف زرداری سے مروت میں جان تو مانگی جا سکتی ہے مگر کسی قسم کے پریشر یا دباؤ کے تحت آصف زرداری نامی شخص سے کچھ بھی حاصل کر پانا ممکن نہیں ہے۔
خبریں گردش کر رہی ہیں کہ محمود خان اچکزئی کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے پیچھے مولانا فضل الرحمن بھی شامل ہیں اور اس کا مقصد پیپلزپارٹی پر پریشر ڈالنا ہے۔
سب ہی جانتے ہیں کہ آصف علی زرداری یہ انتخاب جیت جائینگے، ہارنا وہ افورڈ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ان کی سیاسی ساکھ کو سوٹ نہیں کرتا۔
آصف زرداری نے محترمہ بینظیر کی شہادت کے بعد اپنی سیاسی قابلیت کا لوہا منوایا ہے، آصف زرداری نے مفاہمت و بات کے ذریعے سیاست و سیاسی ماحول کے آگے چلنے کی بنیاد قائم کی، آصف زرداری ایک مکمل طور پر فعال صدر پاکستان پہلے بھی رہے ہیں اور اب بھی وہ ملک کی بہتری کے اپنا بھرپور کردار ادا کرینگے، ایوان صدر فقط ایک ڈمی ہاوس نہیں ہوگا۔
نمبر گیم کا پریشر آصف زرداری کو دباؤ میں نہیں ڈال سکتا، اگر مولانا تحریک انصاف والوں کے مشورے لینے لگ گئے ہیں تو ان کی سیاست کا وقت مکمل ہی سمجھیے، تحریک انصاف والوں کے لیے محمود خان اچکزئی کل غدار تھا اور آج محب وطن بن چکا ہے، دوسری جانب مادر ملت فاطمہ جناح کو غدار قرار دینے والے جنرل ایوب کا پوتہ تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم کا امیدوار ہے اسی سے تحریک انصاف کی سیاسی سنجیدگی و جمہوریت پسندی کا پول کھل جاتا ہے، اس کشتی میں اگر مولانا فضل الرحمان بھی سوار ہو رہے ہیں تو میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ جو انسان خود پر کیسز بنوا کر پولیس افسران کو ترقیاں دلوا سکتا ہے وہ دوستی میں تو مولانا کو نواز سکتا ہیں مگر بلیک میلنگ کے ذریعے تو انہوں نے اپنی پوری جوانی جیل میں گزار دی پر دباؤ میں نا آئے۔۔
باقی مولانا صاحب کی مرضی!