I extend my heartfelt congratulations to the talented son of Balochistan, Bilal Shah, for winning the Gold Medal at the South Asian Bodybuilding Championship. 🇵🇰
Bilal Shah has brought honor to Pakistan and Balochistan on the international stage through his relentless hard work and outstanding performance. His achievement is a source of pride for our youth and a remarkable example to follow.
The Government of Balochistan will continue to support and encourage such talented young individuals. My best wishes to Bilal Shah for even greater successes in the future.
💔My heart goes out to #Muntaha
It has been established that the accused, Arsalan, was not acting alone at the shop. All other individuals who were equally complicit must be prosecuted without delay.
We have already legislation that prescribes life imprisonment or the death penalty, with a mandate for trial completion within four months under the Anti-Rape (Investigation and Trial) Act, 2021.
However, as a Parliamentarian, I strongly endorse amendments to the law to ensure that persons convicted of rape, child sexual abuse and brutal murder are sentenced exclusively to “public hanging” within one month of conviction.
This Savagery must end.
پاکستان فٹبال ٹیم کو 50 سال بعد تاریخی کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ یہ فتح پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔ مجھے خصوصی خوشی ہے کہ اس کامیابی میں بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے ہمارے باصلاحیت کھلاڑی شے ��ق دوست نے نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے ملک کا نام روشن کیا۔ ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں، بطور صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان بلوچستان میں شے حق دوست کے لیے 20 لاکھ روپے اور قومی کھلاڑی علی آغا کے لیے 5 لاکھ روپے انعام کا اعلان کرتی ہوں۔ شے حق دوست کی 18 تاریخ کو کوئٹہ آمد پر ان کا بھرپور اور تاریخی استقبال کیا جائے گا۔ اسی سلسلے میں سی ایم گولڈ کپ کے ٹرائلز بھی جاری ہیں جن کا مشاہدہ FIFAکےObserver کریں گے۔ میں تمام نوجوان کھلاڑیوں سے اپیل کرتی ہوں کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اپنی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کریں
کیونکہ یہی موقع آپ کو قومی اور بین الاقوامی سطح ��ک لے جاسکتا ہے ۔پاکستان زندہ باد
Alhamdulillah, the Government of Balochistan presented a people-friendly budget today in the Balochistan Assembly.
This budget prioritizes the welfare of the common citizen of #Balochistan .The health and education sectors have been allocated the highest focus, reflecting the government’s commitment to building a healthier and more educated Balochistan.
Significant funds have been earmarked to improve hospitals, basic health units, schools, colleges , Infrastructure , roads , clean drinking water , across the province. Special emphasis has been placed on uplifting underdeveloped and remote areas to ensure equal opportunities for all.
#BalochistanBudget
@BBhuttoZardari@PakSarfrazbugti
We are proud to announce that Mr. Sultan Golden has set a #Guinness World Record. The Sports Department, Government of Balochistan, presented him with an official Guinness World Records certificate in recognition of his achievement.
The certificate was handed over to the Son of Soil #Balochistan #Pakistan initiative as a tribute to the talent and resilience of Balochistan’s youth.
This landmark achievement brings great pride to Balochistan, Pakistan, and serves as an inspiration for our young generation to aim higher and excel on global platforms.
In honor of this historic accomplishment,The CM Balochistan (@PakSarfrazbugti ) has awarded PKR, 50 million for Mr. Sultan Golden ,in December 2025 .
آج اسلام آباد میں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سے مفصل ملاقات ہوئی۔ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ہنر مندی، روزگار، تعلیم، اسکل ڈویلپمنٹ، یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرز، NAVTTC پروگرامز اور وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم میں صوبے کے حصے اور مواقع بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی۔
وزیراعظم یو��ھ پروگرام کے تحت ملک بھر کی جامعات میں یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرز کے قیام کے منصوبے میں بلوچستان کی جامعات کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ خوش آئند امر ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے متعدد تجاویز پر مثبت پیش رفت اور عملی تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
بلوچستان کے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ذرا سوچیے!!
شہناز کے اپنے گھر والے ہی اس کی سوچ اور راستے کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ ایک ماں کی آواز، ایک دادا کے لرزتے الفاظ اور خاندان کی بے بسی یہ بتا رہی ہے کہ وہ راستہ کبھی درست نہیں ہو سکتا جو اپنے ہی گھر کو دکھ، خوف اور شرمندگی میں مبتلا کر دے۔ جو اپنی سوچ اپنے گھر میں قبول نہ کرا سکی اُسے فتنہ الہندوستان نے بلوچ خواتین کو مسل�� جدوجہد کی طرف اکسانے کے لیے لاونچ کیا۔
شہناز بلوچ کی والدہ، دادا اور خاندان کے دیگر افراد نے بلوچی زبان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے وفادار ہیں اور ہر حال میں اپنے وطن کی تحفظ کےلیے ہمیشہ ساتھ کھڑے ہونگے۔ ہمیں نہ اس غلط قدم کا علم تھا اور نہ ہی اب ہمارا ��ہناز سے کوئی تعلق ہے۔ ان کے چہروں کی اداسی اور لہجے کا کرب بہت کچھ بیان کر رہا تھا۔۔۔۔۔
مگر افسوس عورتوں کو اپنی مزموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے ان دہشتگردوں کو اس درد کا احساس نہیں۔ روز باپردہ بے گناہ بلوچ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں کیمرے کے سامنے آکر اپنے ٹوٹے دلوں کی کہانیاں قوم کو سنا رہیں ہیں ۔انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ،انہیں نہ ماں کے آنسو دکھائی دیتے ہیں، نہ خاندانوں کی بکھرتی زندگیاں… بس اپنے بیرونی آقا انڈیا کو خوش رکھنا ہی انکا اصل مقصد ہے۔
کوئٹہ میں آج دہشتگردی کے دل خراش واقع کی سخت الفاظ میں مزمت کرتے ہیں ۔۔
ہندوستان کا اصل مقصد یہی ہے کہ پاکستان میں کالعدم دہشتگردوں کے زریعےعدم استحکام پیدا کر کے ترقی کے سفر کو روکے۔ امریکہ۔ایران جنگ کی ثالثی میں پاکستان کے ڈپلومیٹک کردار اور بین الاقوامی سطح پر ملنے والی پذیرائی سے ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار ہےاسی لیے وہ اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے معصوم لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔
آج ایک بار پھر ناپاک اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے کوئٹہ میں معصوم شہریوں کو اپنی بزدلانہ دہشتگردی کا نشانہ بنایا۔ چمن پھاٹک کے قریب عید کی چھٹیوں پر اپنے گھروں کو جانے والے نہتے مسافروں، خواتین اور بچوں سے بھری ٹرین پر حملہ انسانیت پر حملہ ہے۔
اس خونریزی میں بلوچستان کے عام اور بے گناہ عوام کو نشانہ بنایا گیا۔ کئی معصوم شہری اس درندگی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
عید کی خوشیوں کے موقع پر عورتوں اور بچوں کا خون بہا کر بھارت اور اس کے پراکسی بلوچ دہشتگرد ایک بار پھر اپنے مکروہ عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب کررہے ہیں۔
دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کیلئے دعائے مغفرت جبکہ لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کرتی ہوں۔
اگر مقصد واقعی بلوچ حقوق ہیں تو راستہ تعلیم، شعور، سیاست اور ترقی ہونا چاہیے نہ کہ کم عمر بچیوں کو مختلف حربوں سے ورغلا کر، دھمکا کر بارود اور شدت پسندی کی طرف دھکیلنا۔
بلوچ نوجوانوں کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے بندوق نہیں۔ بلوچ بیٹیوں کو یونیورسٹیوں میں ہونا چاہیے پہاڑوں کے عسکری کیمپوں میں نہیں۔ کیونکہ جو اسپانسرڈ عناصر بلوچ نسل کو جنگ کی آگ میں جھونک رہے ہیں وہ بلوچ قوم کے مستقبل اور تشخص کو تباہ کر رہے ہیں۔
آج سامنے آنے والی ویڈیو نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی۔ شہناز بلوچ یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ بلوچ قوم شعوری طور پر ایک مخصوص عسکری جدوجہد کا فیصلہ کر چکی ہے مگر دوسری طرف ان کے کیمپ میں جن چہروں کو تربیت دی جا رہی ہے ان میں تمام تر لڑکیاں کم عمر اور نابالغ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ��گر یہ واقعی ایک شعوری سیاسی فیصلہ ہے تو پھر معصوم بچیوں کو ورغلا کر ان کے ذریعے جنگ اور خودکش تربیت کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا معصوم ذہنوں کو جنگی نفسیات دینا انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف نہیں؟
بلوچ اور اسلامی روایت میں خواتین کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے مگر آج آزادی کے نام پر بلوچ بیٹیوں کو پہاڑوں پر عسکری تربیت دینا بلوچ ننگ، ثقافت اور تشخص کے سراسر خلاف ہے۔
یہی عناصر روز ریاستی اداروں پر بلوچوں کو اٹھانے کے الزامات لگاتے ہیں مگر جب درجنوں خواتین اور نابالغ لڑکیاں عسکری کیمپوں میں موجود ہوں تو ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ خود چاہتے ہیں ک�� ریاستی ادارے کل ان کے خاندان والوں سے تحقیقات کریں ۔تاکہ یہی عناصر دوبارہ لاپتہ بلوچ” کا بیانیہ بنائیں ؟
خواتین کی اس حد تک بے حرمتی اور نسل کشی ہر بلوچ خاتون کی راہ میں منفی اثرات اور مشکلات چھوڑتی ہیں۔
یہ اسلام آباد. لاہور یا کراچی نہیں بلکہ یہ بلوچستان ہے۔ اور یہ ہماری بہنیں بیٹیاں ہیں۔ جو دھشت گردوں کو پیغام دی رہی ہیں کہ تم چاہیں جتنا بھی کوشش کرلوں مگر ہم نے آگے بڑھنا ہے۔ پاکستان کا نام روشن کرنا ہے۔ ہم نے ہی نے اس ملک کی خدمت کرنی ہیں
���شکریہ وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی۔ شکریہ بہن مینا مجید۔ شکریہ پاکستان ❤️🇵🇰
پاکستان ہمیشہ زندہ باد ❤️❤️❤️
Youth internship and business development program Balochistan
@PakSarfrazbugti
@Meena_Majeed