Recite in the name of your Lord who created▫️Created man from a clinging substance▫️Recite, and your Lord is the most Generous▫️Who taught by the pen▫️Taught man that he knew not.
@YarMKNiazi@YarMKNiazi Sir could you plz compile the details of all the dams built during the PTI tenure from 2013 onwards &share them? it would be much appreciated as it would help counter the misinformation&propaganda being circulated about PTI's performance
@niazbeen93@MuzzammilAslam3
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کا گل بہار، پشاور میں قائم گلوبل ورچوئل اسکول کا دورہ۔ خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اس جدید تعلیمی منصوبے کا باقاعدہ آغاز اگست 2026 میں ہوگا۔
وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کی ہدایت پر گلوبل ورچوئل اسکول کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل تعلیم سے آراستہ ایک جدید تعلیمی مرکز کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اسکول میں سات جدید ورچوئل کلاس رومز، سات ڈیجیٹل لیبارٹریاں، تعلیمی اور آگاہی پروگراموں کی تیاری کے لیے پوڈکاسٹ اسٹوڈیو اور اساتذہ کی تربیت کے لیے جدید ٹریننگ ہال بنائے گئے ہیں۔
گلوبل ورچوئل اسکول صوبے بھر میں قائم کیے جانے والے ورچوئل تعلیمی نظام کا مرکز ہوگا، جس کے ذریعے 500 سے زائد اسکولوں میں 175 کلاس رومز کو ورچوئل کلاس رومز میں منتقل کرتے ہوئے گلوبل ورچوئل سکول سے منسلک کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تدریسی نظام بھی شامل ہے، جس سے طلبہ کو جدید اور انفرادی ضروریات کے مطابق تعلیم فراہم کی جا سکے گی۔
چیئرمین عمران خان کے ویژن کے تحت وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت نے شعبہ صحت میں ایک انقلابی اور تاریخی دور کا آغاز کیا ہے، جس کا بنیادی ہدف ہر شہری کو معیاری، جدید اور باوقار طبی سہولیات کی بلاامتیاز فراہمی ہے۔
خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور ایم ٹی آئی اصلاحات کے بعد جدید طبی سہولیات، شفاف انتظامی نظام اور مؤثر سروس ڈیلیوری کا ایک مثالی ماڈل بن کر ابھرا ہے، جو صوبائی حکومت کی صحت کے شعبے میں عملی اصلاحات کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ بطور ایک اہم تدریسی ادارہ، خیبر ٹیچنگ ہسپتال مستقبل کے ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی ماہرین کی پیشہ ورانہ تربیت میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
ہسپتال میں جدید موڈیولر آپریشن تھیٹرز، میڈیکل، سرجیکل اور پیڈز آئی سی یوز، جدید ڈائیلیسیز سنٹر، کیتھ لیب، اپ گریڈڈ او پی ڈی، کثیر المنزلہ ایمرجنسی بلاک، جدید سی ٹی سکین مشینز، ایم آر آئی مشینز، اور جدید لیبارٹری و تشخیصی سہولیات کا قیام اس عزم کا ثبوت ہے کہ عوام کو عالمی معیار کی صحت سہولیات عمران خان کے ویژن کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔
روزانہ 10 ہزار سے زائد مریضوں کو مفت، معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی اس بات کی گواہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 2013 کے بعد صحت کے نظام کو حقیقی معنوں میں عوام دوست اور قابلِ رسائی بنایا ہے۔
میرٹ پر ہزاروں ڈاکٹرز، فارماسسٹس، نرسز، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز اور انتظامی عملے کی شفاف بھرتیوں نے ادارہ جاتی کارکردگی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے اور نظامِ صحت میں اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔
صحت کارڈ جیسے تاریخی اور انقلابی منصوبے نے لاکھوں شہریوں کو مفت اور باعزت علاج کی سہولت فراہم کر کے خیبرپختونخوا کو ریاستِ مدینہ کے عوامی فلاح کے ماڈل صوبے کے طور پر متعارف کرایا ہے۔
یہ ایسے سفر کی جھلک ہے جس میں ریاست نے اپنی اصل ذمہ داری نبھاتے ہوئے عوام کی صحت، وقار اور فلاح کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔
حکومتِ خیبر پختونخوا عمران خان کے ویژن کے مطابق ایک ایسے صحت مند، محفوظ اور خوشحال معاشرے کے قیام کے لیے پُرعزم ہے جہاں ہر شہری کو بلا امتیاز بہترین طبی سہولیات میسر ہوں۔
#KPHealth #ImranKhan #MTIKTH #PTI #KPGovt #KPHealthReforms
میں روزِ اول سے یہ کہتا آ رہا ہوں کہ پاکستان میں رویتِ ہلال کمیٹی کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ جب ایک صوبے کی چھ مستند شہادتوں کو نظر انداز کیا جائے، اور خود کو عالم کہنے والے یہ دعویٰ کریں کہ ایک بھی شہادت موصول نہیں ہوئی، تو یہ سنجیدگی نہیں بلکہ ایک مذاق محسوس ہوتا ہے۔
کیا پختونخوا سے آپ کو چاند کی شہادت بھی قابلِ قبول نہیں؟ بھائی لوگوں یہاں پر عبادت سمجھ کر لوگ چاند دیکھنے کا اہمتام کرتے ہیں۔ اگر رویہ یہی ہے تو رویتِ ہلال کمیٹی پشاور زون کے اراکین کو چاہیے کہ وہ آج ہی اپنے استعفے پیش کریں۔ ان کے ایک گواہ کی شہادت تو میڈیا نے بھی ریکارڈ کی ہے۔
بہرحال، پختونخوا کے عوام کو ایک بار پھر اسلامی دنیا کے ساتھ عید مبارک۔
رویت ہلال کمیٹی کا خاتمہ پہلی نشانی ہو گی کہ ملک درست سمت میں چل پڑا ھے-
ہر پلاننگ سے پہلے فیملی پلاننگ دوسری بڑی نشانی ہو گی کہ ہمیں عقل آ گئی ھے-
پولیو کا خاتمہ تیسری نشانی ہو گی کہ ہم مہزب دنیا کا حصہ بننے جا رہے ہیں -
اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی آخری اور سب سے بڑی خوشخبری یہ ہو گی کہ مولوی مسجد تک اور فوجی بیرک تک محدود ہو گیا ھے-
جب تک ان میں سے ایک بھی حماقت باقی ھے ، تب تک سحری تین گلاس لسی پی کر اور افطاری پکوڑے کے ساتھ، عشاء کو بیس تراویح پوری پڑھ کر اگلی سحری تک سو جائیں -
کج نی ہونڑاں!