🚨🚨والدین لازمی پڑھیں ، اور سیکھیں کہ بچوں کا کئیریر روڈ میب کیسے بنانا ہے
آج کے دور میں ایک عام آدمی کے لیے اپنے بچوں کا کیریئر بنانا آسان کام نہیں، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں مقابلہ بہت زیادہ ہے اور مواقع محدود ہیں۔ صرف اچھی تعلیم کافی نہیں رہی، بلکہ شروع سے درست منصوبہ بندی ضروری ہے۔
بچے کو کیا پڑھانا ہے، کس شعبے میں لے جانا ہے، اور اس کی شخصیت، صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق راستہ کیسے منتخب کرنا ہے، یہ فیصلے بہت اہم ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں کام کرنے اور مختلف نظام دیکھنے کے بعد میں نے جو سیکھا اور دیکھا ہے کہ جو بچے بعد میں بڑی کمپنیوں، ملٹی نیشنل اداروں یا اعلیٰ عہدوں تک پہنچتے ہیں، ان کی تیاری بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے۔
اس کے لیے چند چیزیں ضروری ہیں:
1-بچے کی صلاحیت اور مزاج کو جلد پہچاننا
2- اچھی کمیونیکیشن اور انگلش اسکلز پر توجہ دینا
3-ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اسکلز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے واقفیت پیدا کرنا
4-اسکول اور کالج کے دوران متعلقہ کورسز اور سرٹیفکیٹس حاصل کرنا
5-رضاکارانہ سرگرمیوں، سوسائٹیوں اور لیڈرشپ پروگراموں میں حصہ لینا
6-انٹرن شپ اور عملی تجربہ حاصل کرنا
7-پیشہ ور افراد اور اداروں سے نیٹ ورکنگ کرنا
8-ایک مضبوط سی وی اور پروفیشنل پروفائل بنانا
کیریئر کی دوڑ دراصل یونیورسٹی سے نہیں بلکہ بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ جب یہ تمام چیزیں وقت پر اور درست سمت میں کی جائیں تو بچے کا سی وی اتنا مضبوط بن جاتا ہے کہ وہ صرف سفارش نہیں بلکہ اپنی قابلیت اور میرٹ کی بنیاد پر دنیا کی بہترین کمپنیوں، عالمی اداروں اور اعلیٰ عہدوں تک پہنچ سکتا ہے۔
والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری صرف فیس ادا کرنا نہیں بلکہ بچوں کے لیے ایک واضح کیریئر روڈ میپ بنانا ہے، کیونکہ درست عمر میں کیا گیا درست فیصلہ مستقبل کے کئی سالوں کا رخ متعین کر دیتا ہے۔
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also endorsed by me as the mediator. The signing of this agreement at the highest level of the respective governments demonstrates the commitment of both sides to a diplomatic resolution of the conflict. Islamabad MoU shall enter into force with immediate effect and as a first step, Islamic Republic of Iran will instantly reopen the Strait of Hormuz and the United States of America will immediately lift the naval blockade.
I offer my heartfelt congratulations and sincere appreciation to the President of the United States, Donald J. Trump whose steadfast commitment to diplomacy and preference for peaceful resolution have once again helped end a conflict that could have led to devastating consequences for the region and beyond. I also commend the dedication and tireless efforts of the United States negotiating team, including J.D. Vance, Steve Witkoff and Jared Kushner, for their invaluable contributions to this achievement.
I express my profound respect and appreciation to His Eminence Ayatollah Seyyed Mojtaba Hosseini Khamenei, the Supreme Leader of Islamic Republic of Iran and President Masoud Pezeshkian for their wisdom, foresight and statesmanship in embracing the cause of peace. I also wish to recognize the efforts of the Iranian negotiating team, including Mohammad Bagher Ghalibaf, Abbas Araghchi and Eskandar Momeni, whose patience, perseverance and commitment to constructive engagement were instrumental in bringing this agreement to fruition.
I would especially like to acknowledge the sincere efforts and constructive engagement of the leadership of the State of Qatar in helping reach this point. I also highly commend the leadership of the Kingdom of Saudi Arabia, the Republic of Türkiye and the Arab Republic of Egypt for their indispensable role and invaluable contributions in this regard.
I would also like to make special mention of Field Marshal Syed Asim Munir, whose tireless efforts, selfless dedication and instrumental role were critical in facilitating this breakthrough and advancing the cause of peace and regional stability.
May this Memorandum of Understanding serve as an enduring foundation for greater understanding, mutual respect and shared prosperity for the complete region.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
بجٹ آرپا ھے ۔ ٹیکسوں کا موسم ھے ۔ میرے پاس سگریٹ کے جائز کاروبار والے حضرات آر ہے ھیں۔ ان کا کہنا ھے کے ٹیکس کی شرح کم کریں تو اس سیکٹر میں ناجائز سیگریٹ کا کا روبار کم ھو گا اور ملکی خزانے کی آمدن زیادہ ھو گی۔ میں اس تاویل سے عمومی طور پہ اتفاق کرتا ھوں۔ماضی قریب میں ناجائز اور چوری کی سگریٹ فیکٹریوں پہ سختی کی گئی تو یہ ایک صوبے سے نکل کر باقی صوبوں پھیل گئی ھیں۔ پرانے زمانے میں لاھور کے ایک کونے میں ایک کاروبار ھوتا تھا۔ حکومتوں نے وہ کاروبار بند کروایا تو وہ سارے لاھور میں پھیلُ گیا۔ اب سنا ھے کے ناجائز سگریٹ بنانے والوں نے پولٹری فارموں کے اندر مشینیں لگا لی ھیں ۔
ایک اندازے کے مطابق سگریٹ کے informal یا ناجائز کاروبار پہ حکومت کو ٹیکس کی مد میں 300ارب روپے کا نقصان ھے ۔
ایک راۓ ھے کہ ٹیکس گھٹانے سے چوری کی ترغیب کم ھو جاۓ گی اور زیادہ لوگ ٹیکس ادا کرنے پہ راضی ھو جائیں گے۔ صرف ایک نقصان ھو گا ٹیکس collect کرنے والے بے ایمان حکومتی اھل کار حرام کی کمائی سے محروم ھو جائیں گے۔آپ ھماری مارکیٹوں کا سارے ملک میں حجم دیکھیں اور وہ ٹیکس کتنا دیتے ھیں وہ چیک کر لیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ھے ٹیکس ٹھیک جمع ھو تو ھم بین الاقوامی مالی اداروں کی غلامی سے آزاد ھو۔
انسان اپنے آخری دن کی صبح بھی ویسے ہی اٹھتا ہے جیسے ہمیشہ اٹھتا تھا۔
وہ چائے یا قہوہ پیتا ہے، گھر والوں سے باتیں کرتا ہے، ہنستا ہے، مسکراتا ہے، مستقبل کے منصوبے بناتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ یہ اس کی زندگی کی آخری صبح ہے، آخری مسکراہٹ ہے، آخری گفتگو ہے، آخری سانسوں کا دن ہے۔
زمین پر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے، مگر آسمان پر اس کے نام کا آخری حکم صادر ہو چکا ہوتا ہے۔
پھر اچانک وہ لمحہ آ جاتا ہے جس سے کوئی بادشاہ بچ سکا، نہ کوئی فقیر، نہ کوئی طاقتور، نہ کوئی کمزور
موت کا حکم نامہ لیکر
فرشتے اترتے ہیں۔
اگر بندہ مؤمن ہو تو رحمت کے فرشتے جنت کی خوشخبری لے کر آتے ہیں، اور اگر بداعمال ہو تو عذاب اور انجام کی خبر سنانے والے فرشتے اس کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔
یہ اس سفر کا پہلا مرحلہ اورآغاز ہے جس سے واپس لوٹ کر کوئی نہیں آیا۔
پھر روح نکلنے کا دوسرامرحلہ شروع ہوتا ہے۔
ملک الموت اللہ کے حکم سے روح کو جسم کے پاؤں سے کھینچنا شروع کرتے ہیں۔
آنکھوں کی چمک مدھم پڑ جاتی ہے۔
زبان خاموش ہونے لگتی ہے۔
طاقت جواب دینے لگتی ہے۔
وہ شخص جو کل تک اپنے فیصلوں پر ناز کرتا تھا، آج اپنے ہاتھ تک نہیں ہلا سکتا۔
وہ سب کو دیکھ رہا ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ دنیا اس کی نظروں سے دور ہوتی جا رہی ہوتی ہے۔
پھر تیسرا وہ مرحلہ آتا ہے جب روح سینے سے اوپر اٹھتے ہوئے ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جس کا نقشہ قرآن نے کھینچا ہے:
﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِي وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ﴾
"ہرگز نہیں! جب جان ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے، اور لوگ کہتے ہیں: کون ہے جو اسے بچا لے؟(آج کوئی نہیں بچا سکتا )اور وہ خود یقین کر لیتا ہے کہ اب جدائی کا وقت آ گیا ہے۔"
اس وقت ڈاکٹر بے بس ہو جاتے ہیں۔
دوائیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔
مال و دولت خاموش کھڑے رہتے ہیں۔
اولاد کچھ نہیں کر سکتی۔
دوست کچھ نہیں کر سکتے۔
دنیا کا ہر سہارا ٹوٹ جاتا ہے۔
پھر روح حلقوم تک پہنچ جاتی ہے۔
کمرے میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔
کوئی روتا ہے۔
کوئی دعا کرتا ہے۔
کوئی بے بسی سے چہرہ دیکھتا رہتا ہے۔
مگر موت کا سفر کسی کے لیے نہیں رکتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ﴾
"ہرگز نہیں! جب جان حلق تک پہنچ جاتی ہے، اور تم اسے دیکھ رہے ہوتے ہو، اور ہم اس سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔"
یہ چوتھا مرحلہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو وہ سب کچھ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے جس پر وہ زندگی بھر ایمان لانے یا انکار کرنے کے درمیان کھڑا رہا تھا۔
پھر اچانک...
ایک سانس آتی ہے۔
اور واپس نہیں جاتی۔
آنکھیں ایک جگہ ٹھہر جاتی ہیں۔
ہونٹ خاموش ہو جاتے ہیں۔
دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے۔
اور دنیا اعلان کر دیتی ہے:
"فلاں شخص فوت ہو گیا۔"
بس اتنی سی بات۔
جس کے لیے دنیا چھوٹی پڑتی تھی، آج وہ چند گز کفن میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔
جس نے محل بنائے تھے، اب قبر اس کا گھر بننے والی ہوتی ہے۔
جس نے مال جمع کیا تھا، وہ دوسروں میں تقسیم ہو رہا ہوتا ہے۔
جس نے رشتے بنائے تھے، سب قبرستان کے دروازے تک ساتھ جاتے ہیں، پھر واپس لوٹ آتے ہیں۔
اور وہ اکیلا رہ جاتا ہے۔
صرف اپنے اعمال کے ساتھ۔
صرف اپنے رب کے سامنے۔
صرف اپنے انجام کے ساتھ۔
پھر انسان کو سمجھ آتی ہے کہ اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾
"ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔"
آج ہم دوسروں کے جنازے اٹھاتے ہیں۔
کل کوئی ہمارا جنازہ اٹھائے گا۔
آج ہم دوسروں کی قبروں پر کھڑے ہوتے ہیں۔
کل لوگ ہماری قبر پر کھڑے ہوں گے۔
آج ہم دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں۔
کل ہمیں دعاؤں کی ضرورت ہوگی۔
کاش انسان موت کو صرف ایک خبر نہ سمجھے بلکہ اپنی آنے والی حقیقت سمجھے۔
کاش قبر میں اترنے سے پہلے اپنے اعمال کا حساب کر لے۔
کاش آخری سانس آنے سے پہلے اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لے۔
اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے توبہ نصیب فرما، موت کے وقت کلمہ نصیب فرما، قبر میں راحت نصیب فرما، اور قیامت کے دن اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
بقلم الشيخ سيد داود شاہ الھاشمی
بلوچستان میں معصوم جانوں پر ہونے والا بزدلانہ وار پوری قوم کے دل پر حملہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قوم کا عزم غیر متزلزل ہے۔ میں شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔ اللہ تعالی شہداء کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین
Alhamdulillah, CHAMPIONS 🏆
So proud of my team, we stood together through everything. Hard work never goes unnoticed.
I was once a ball picker, standing on the sidelines, dreaming of moments like this. Now I wish, If even one ball picker today picks up a bat tomorrow believing they can become a cricketer, then THIS VICTORY MEANS EVERYTHING TO ME.
Grateful to my family, Zalmi management, and my friends for always being in my corner, no matter what 💛
🇶🇦
رئيس وزراء باكستان 🇵🇰
في بلده الثاني… قطر
علاقات تاريخية… أخوة راسخة… وشعب واحد بقلبين 🤍
باكستان زنده باد 🇵🇰
قطر در دلها جا دارد 🇶🇦
بالأردو:
پاکستان کے وزیرِاعظم کو قطر میں خوش آمدید 🇵🇰🤝🇶🇦
یہ آپ کا دوسرا گھر ہے
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
قطر اور پاکستان کی دوستی ہمیشہ قائم رہے 🤍