In the last few weeks there have been serious and concerning developments regarding my sons’ father, Imran Khan’s treatment in prison. The Pakistan authorities have stopped all visits to him by his family and his lawyers. They have also postponed all court hearings. In addition to cutting off in- person visits, and in defiance of a court order, his weekly calls to his sons, Sulaiman and Kasim Khan, who are British and who live in London, were stopped on 10th September. We have received reports that the authorities have now turned off the lights and electricity in his cell and he is no longer allowed to leave his cell at any time. The jail cook has been sent on leave. He is now completely isolated, in solitary confinement, literally in the dark, with no contact with the outside world. His lawyers are concerned about his safety and well-being.
These actions come in the context of ongoing targeting of Imran’s family, as well as his party (PTI) members and supporters in an attempt to silence them and all political opposition in Pakistan. Imran’s nephew, Hassan Niazi, a civilian, has been detained in military custody since August 2023. More recently, Imran Khan’s sisters, Uzma and Aleema Khan, who have continued to speak out on his behalf, have also been arrested as they made their way peacefully to a demonstration and they are currently being held in jail, despite there being no proper or lawful basis for their imprisonment.
In June this year the UN Working Group on Arbitrary Detention found that Imran is unlawfully and arbitrarily detained and called for his immediate release.
As a matter of urgency , we are calling for Imran Khan’s release, and for the release of his sisters and nephew as well as for his sons’ contact with their father to be re-established, so that they may have assurance first-hand that he is well and not being mistreated.
What a historic birthday present nation is giving to Imran khan today by living his dream of “Zinda Qaum”. His birthday is Oct 5th (in a few hours).
Let’s invite more people to come to D Chowk now that the roads are being cleared by our bravehearts!
#HappyBirthdayImranKhan
Strongly condemn the arrest of Aleema Khan and other pti workers. Why be so scared of woman and ordinary pti workers. Let them peacefully raise their voice against authoritarian rule of the present government
جسٹس شمس محمود مرزا LHC نے فیصل آ��اد این اے 97 میں دوبارہ گنتی کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف PTI امیدوار سعد بلوچ کی درخواست منظور کرتے ہوئے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،
عدالت نے الیکشن کمیشن کا لیگی امیدوار کے حق میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
District Sialkot Gave Very Massive and Clear Mandate to PTI First Time!
PTI almost Swept all 5/5 NA and 10/10 PP Seats but Unfortunately only 1 NA Seat is Given Rest All Are Stolen
Such a City which was Hub of Pmln has became Home Of PTI now!
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو:
ساری قوم کو پتہ ہے کہ جنرل عاصم منیر ملک چلا رہا ہے۔
جنرل عاصم منیر ��ے مجھے توڑنے کے لیے توشہ خانہ ریفرنس میں بشری بی بی کو سزا دلوائی-
مجھے اور میری بیوی کو کچھ ہوتا ہے تو جنرل عاصم منیر ذمہ دار ہوں گے۔
لندن پلان جنرل عاصم منیر اور نواز شریف کے درمیان تھا۔
لندن پلان کے لیے ججز کو بھی ساتھ ملایا گیا ائی ایس ائی نے ججز کی تقرریاں کروائیں۔
اگست میں جب مجھے پکڑا گیا تو پولیس میرے بیڈ روم میں داخل ہوئی وہاں سے میرا پاسپورٹ اور چیک بک بھی لے لئے گئے۔
انعام شاہ اور توشہ خانہ کے ایک ملازم کو ISI نے میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنایا۔
توشہ خانہ میں سزا دلوانے کے لیے دبئی میں پارٹ ٹائم سیلز مین سے گراف جولری سیٹ کی مالیت کا تخمینہ لگوایا گیا۔
توشہ خانہ ریفرنس بنانے پر چیئرمین نیب اور انعام شاہ کے خلاف کیس کروں گا۔
فواد چودری پریس کانفرنس کر چکا تھا لیکن اس کے باوجود اسے وعدہ معاف گواہ بنانے کے لیے پکڑے رکھا۔
پرویز الہی اور شاہ محمود قریشی آج پریس کانفرنس کر دیں تو اس کے کیسز ختم ہو جائیں گے۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فائز عیسی کو فیض آباد کیس اور بھٹو کیس بھی یاد ہے، لیکن نظر نہیں آ رہا کہ لوگ ملٹری جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔
18 مارچ کو مجھے جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کرنے کا منصوبہ تھا۔
24 گھنٹے پہلے ہی جوڈیشل کمپلیکس کو ٹیک اوور کر لیا گیا تھا۔
سادہ کپڑوں میں ملبوس بہت سے لوگ جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھے۔
کیوں جوڈیشل کمپلیکس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہیں لائی جا رہی۔
جو مشرقی پاکستان میں ہوا وہی آج ہو رہا ہے۔
مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمٰن کا مینڈیٹ چوری کر کے ملک توڑا گیا۔
مجیب الرحمن کی اکثریت سے یحیی خان کی طاقت ختم ہو جاتی۔
حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے کہ مجیب الرحمن الیکشن جیت گیا تھا۔
مشرقی پاکستان کی طرح اب بھی ہمارا مینڈیٹ کم کر کے ہمیں کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس وقت بادشاہ پیچھے بیٹھا ہوا ہے اور محسن نقوی وائسرائے بنا ہوا ہے۔
شہباز شریف فیتے کاٹتا پھر رہا ہے اس کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔
ملک کا معاشی طور پر بیڑا غرق ہونے لگا ہے۔ ججز کہہ رہے ہیں کہ ایجنسیاں دھمکا رہی ہیں۔
آصف زرداری اور شریف فیملی کے اربوں ڈالر بیرون ملک پڑے ہوئے ہیں۔
آصف زرداری نے بیان دیا کہ ایک سیاسی جماعت فوج کا امیج خراب کر رہی ہے۔ جب ہم اقتدار میں تھے تو فوج کا امیج آسمان پر تھا۔ فوج کا امیج اس دن خراب ہوا جب یہ چوروں کے ساتھ بیٹھے۔
زرداری اور شریف خاندان کی کرپشن کا ہمیں آئی ایس آئی اور جنرل باجوہ نے خود بھی بتایا تھا۔
زرداری اور نواز شریف نے توشہ خانہ سے گاڑیاں لیں ان کا کیس کیوں نہیں سنا جا رہا؟
جنرل عاصم منیر کی تقرری سے پہلے عارف علوی کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ ہم تمہارے مخالف نہیں۔
میں نے عارف علوی کے ذریعے جنرل عاصم منیر کو ٹیلی فون کروایا تھا کہ مجھے اسکے لندن پلان کے بارے میں معلوم ہے۔
علی زیدی بھی رابطے میں تھا اس کے ذریعے بھی پیغام دیا تھا کہ نیوٹرل رہیں اور ملک کو چلنے دیں ہمیں کہا گیا کہ فکر نہ کرو وہ نیوٹرل رہیں گے۔
میں کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا غلامی سے بہتر موت ہے۔
کیا آپ کو قاضی فائز عیسی سے انصاف کی امید ہے ؟ بانی پی ٹی ائی سے صحافی کا سوال
بانی پی ٹی ائی کچھ دیر خاموش رہے اوربولے قوم سب کچھ دیکھ رہی ہے میں اس پر کوئی رائے دینا نہیں چاہتا
آج ملک بدل چکا ہے اور لوگوں میں شعور آ چکا ہے۔
ہمیں غدار بنایا گیا نو مئی میں پھنسایا گیا لیکن قوم نے آٹھ فروری کو بتا دیا کہ وہ کہاں کھڑی ہے۔
کئی ججز، محسن نقوی چیف الیکشن کمشنر اور نگران حکومت لندن پلان کا حصہ تھے۔
میں نے کبھی فوج سے لڑائی نہیں کی جنرل باجوہ نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔
میں جنرل باجوہ کو ڈی نوٹیفائی کر سکتا تھا لیکن نہیں کیا۔
ہم نے اس سب کے باوجود بھی جنرل باجوہ سے ملاقات کے لیے کمیٹی بنائی۔
صرف سپہ سالار فوج نہیں وہ الیکشن لڑ کر نہیں آیا۔
جنرل یحیی نے بھی اپنی طاقت کے لیے ملک کو تباہ کیا تھا۔
جنرل یحیی مجیب سے بات کر لیتا تو سرنڈر نہ کرنا پڑتا۔
1971 میں ملک ٹوٹا آج ملک کی معاشی کمر ٹوٹنے لگی ہے۔
اس وقت جتنی تگڑی جماعت تحریک انصاف ہے اتنی تگڑی جماعت اور کوئی نہیں۔
آج دوبارہ الیکشن کروا لیں دوبارہ سب کو پتہ چل جائے گا۔
حکومت گرانے کے باوجود دو مرتبہ جنرل باجوہ سے ملاقات کر سکتا ہوں تو کسی سے بھی ملاقات کر سکتا ہوں کیونکہ اس وقت میری ذات کا مسئلہ نہیں پاکستان کا ایشو ہے مجھے قائل کر لیں۔
موجودہ حالات میں عدلیہ بالکل بھی آزاد نہیں ہے-
جب تک بشری بی بی کی انڈوسکوپی نہیں ہوتی کیسے کچھ پتہ چل سکتا ہے- شوکت خانم ہسپتال سے ٹیسٹ کروائیں-