@DurraniViews اس میں کوئی شک نہیں ہم اپنے جوانوں کے ساتھ ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں مگر جو چند کتے کے بچے پاکستان کو لوٹ کر باہر فرار ہو جاتے ہیں ان سے نفرت ہو گئی ہے
قوم کو مبارک ہو۔ احسن اقبال صاحب فرما رہے ہیں کہ ابھی تو ہمارے پاس تنخواہیں اور پینشن دینے کے بھی پیسے نہیں،
البتہ ہم سال 2047 تک ترقی کر کے بھارت کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ 😂🤣
اقتدار پہ اصل کنٹرول تو اسٹیبلشمنٹ کا ہی ہوتا ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ کو عالمی دباؤ سے بچنے کیلئے ماسک لگانے کی ضرورت پڑتی ہے پچھلے 40 سال سے یہ ماسک پیپلز پارٹی اور ن لیگ فراہم کر رہے ہیں عمران خان نے ماسک بننے سے انکار کیا تو نکال دئے گئے اب اسٹیبلشمنت کیلئے مسئلہ یہ بن گیا ہے کہ ماسک تب تک ہی کارامد ہوسکتا ہے جب تک اسکی کوئی عوامی مقبولیت بھی ہو دونوں پیپلز پارٹی اور ن لیگ عوامی سطح پہ ختم ہوچکی ہیں اور اسٹیبلشمنت ماسک کے بغیر آپریٹ نہیں کرسکتی کیونکہ ان میں تنقید برداشت کرنے کا مادہ نہیں ہے وہ 76 سال سے بغیر کسی تنقید کے اقتدار انجوائے کر رہے ہیں اور گالیاں سیاستدان بخوشی کھا رہے ہیں جسکے بدلے ایون فیلڈ فلیٹس اور سرے محل کی طرح کچھ بیرون ملک جائیدادیں اور کاروبار کرنے کی اجازت مل جاتی ہے اور یہ اس تنخواہ پہ راضی ہیں۔
میں پارٹی کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں لیکن ایک بات واضح کر دوں خان کا سپاہی تھا،
ہوں اور رہوں گا اور اپنی حیثیت میں لیڈر کی رہائی کی جو کوشش کر سکا کروں گا۔
میں قومی اسمبلی کی نشست کے حوالے سے حلقے اور قبیلےکے لوگوں کواعتماد میں لوں گا۔
میرے قائد کے کانوں میں میرے خلاف زہر گھولا گیا ہے غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں،میں کوشش کروں گا لیڈر سے ملکر اپنا موقف انکے سامنے پیش کروں اور میں انہیں مطمعن کرنے کی کوشش کروں گا اگر وہ مطمعن نہ ہوئے تو سیٹ انکی امانت ہے اسی وقت واپس لوٹا دونگا۔ مجھے یقین ہے میرا لیڈر جلد رہا ہوگا۔
پارٹی کے اندر کسی لیڈر یا کارکن کی میرے کسی فعل سے دل آزاری ہوئی ہو تو تہہ دل سے معذرت خوا ہوں۔ امید کرتا ہوں پارٹی رہنما میرے خلاف بیان بازی سے گریز کریں گے تاکہ باہمی احترام کے اصول پامال نہ ہوں۔
اور کیونکہ میرے کوئی سیاسی عزائم نہیں لہذا اس فیصلے کا میرے مستقبل پر مثبت یا منفی اثر نہیں پڑے گا لیکن مجھے افسوس رہے گا کہ مجھے باضابطہ سنے بغیر میرے خلاف یکطرفہ فیصلہ صادر کر دیا گیا۔
اللہ پاکستان کا خان صاحب کا اور پی ٹی آئی کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
خبر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے سینیٹ انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی قیادت بلامقابلہ سینٹرز منتخب کروانے کا فارمولے پر کام کر رہی ہے۔ اس فارمولے کے تحت پی ٹی آئی کی قیادت تین نشستیں صوبے میں اپوزیشن کو دینے پر کام کر رہی ہے۔ صوبائی قیادت کی یہ تجویز ہے کہ ایک نشست ن لیگ، ایک پیپلزپارٹی اور ایک جے یو آئی ف کو دے کر بلامقابلہ انتخاب کروا لیا جائے۔۔۔ کیا وجہ ہے کہ جہاں پی ٹی آئی کم از کم دس نشستیں حاصل کر سکتی ہے وہاں تین ارب پتیوں کے حق میں نشستیں چھوڑی جارہی ہیں؟؟؟
نیو یارک ٹائمز کا دعوہ ہے کہ اسامعیل ہانیہ کو قتل کرنے کیلئے جس دھماکہ خیز مواد کا استمعال کیا گیا وہ 2 مہینے پہلے سے اس بلڈنگ میں پلانٹ کیا جاچکا تھا اور اس بم کو ریموٹ کنٹرول سے ڈیٹونیٹ کیا گیا