- كبار القراء المعتبرون في نقل القرآن هم أئمة "القراءات العشر" المتواترة، الذين تلقوا القرآن بالسند المتصل عن النبي ﷺ، وتتلمذت على أيديهم الأمة. يُعرف التاريخ الإسلامي بالعديد من كبار القراء والمقرئين، مقسمين إلى فئات رئيسية وفقاً لتسلسلهم الزمني ومكانتهم .
- ﴿ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ ﴾
[ المائدة: 3]
- "ما أكل السبع" :
البهيمة التي يفترسها حيوان مفترس
(كأسد، أو ذئب، أو فهد)
فيأكل جزءاً منها وتنجو بنفسها قبل أن تموت .
وقد حرّم الإسلام أكلها، إلا إذا أدركها المسلمون وهي لا تزال حية وقاموا بتذكيتها
(ذبحها ذبحاً شرعياً) قبل أن تفارق الحياة، فتصبح حلالاً .
#محبت_مافیا
انہوں نے ڈوبتے ہوئے بچوں کے سامنے امدادی کشتی
میں چھلانگ لگانا گوارا نہیں کیا حالانکہ وہ ماہر تیراک تھے
محبت کی آخری آغوش بھی بیٹیوں کے ساتھ ڈوب گئی
جھیل سیف اللہ کا دلدوز سانحہ
لاہور میں چھ جنازے ایک ساتھ اٹھے، ہر آنکھ اشک بار
ایک بیٹی بشریٰ اوندل کی لاش نہیں ملی ہے
وہ ایک ماہر تیراک تھے کہ جن کی پوری زندگی سمندر سے وابستہ رہی تھی۔ ریٹائرڈ لیفٹینینٹ کمانڈر عامر اوندل اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے پانی میں ڈوب گئے۔
بعض حادثے صرف زندگیاں نہیں چھینتے بلکہ ہمیشہ کے لیے دلوں پر ایسے زخم چھوڑ جاتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے۔ یکم جولائی کو خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں واقع سیف اللہ جھیل پر پیش آنے والا المناک کشتی حادثہ بھی ایسا ہی ایک دل دہلا دینے والا سانحہ تھا۔ جس نے لاہور کے ایک خوش و خرم خاندان کو پل بھر میں اجاڑ دیا۔
پاکستانی بحریہ کے ریٹائرڈ لیفٹینینٹ کمانڈر عامر اوندل اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے سوات گئے تھے۔ ان کی بڑی بیٹی بشریٰ امریکہ سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آئی تھیں، اور اسی خوشی میں پورے خاندان نے اکٹھے وقت گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مگر کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہو گا۔
چشم دید گواہوں کے مطابق کشتی اچانک تیز پانی کے بہاؤ میں آ کر بے قابو ہو گئی۔ امدادی لانچ قریب موجود تھی، مگر خوف اور گھبراہٹ کے باعث کشتی میں موجود افراد چھلانگ نہ لگا سکے۔
اس نازک لمحے میں لیفٹینینٹ کمانڈر عامر اوندل نے اپنی جان بچانے کے بجائے اپنے بچوں کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ ایک باپ نے آخری لمحے تک اپنی اولاد کو تنہا نہیں چھوڑا۔ یہی منظر محبت، قربانی اور والدین کی بے لوث شفقت کی سب سے خوبصورت مگر سب سے دردناک تصویر بن گیا۔
اس سانحے میں عامر اوندل، ان کے بیٹے عبداللہ، بیٹیاں پروا اور راویل، جبکہ پروا کے دو کمسن بچے جاں بحق ہو گئے۔ امریکہ سے وطن آنے والی بشریٰ اوندل تاحال لاپتا ہیں، اور ان کی تلاش جاری ہے۔ یہ حادثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کتنی مختصر اور غیر یقینی ہے، اور اپنے پیاروں کے ساتھ گزارا گیا ہر لمحہ ایک انمول نعمت ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، بشریٰ اوندل کی جلد بازیابی یا ان کے بارے میں خیر کی خبر نصیب فرمائے، اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ برداشت صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
منقول
پوری دنیا میں حکومتیں عوام کو فائدہ دیتی ہے مگر پاکستان میں حکومت پٹرول کمپنیوں کو فائدہ دے رہی ہے ۔ایسا تب ہوتا ہے جب حکومت بے حس ہو عوام کی اسے کوئی فکر نا ہو ، منہ میں رام رام بگل میں چھڑی ، والا کام عوام کے ساتھ ہو رہا ہے ۔
ن لیگ نے پورا ہفتہ شور مچایا پیٹرول سستا ہورہا ہے پیٹرول سستا ہورہا ہے، اور جمعے کو شہباز شریف نے سب کا منہ یہ کہ کر بند کروا دیا کہ کوئی پیٹرول سستا نہیں ہورہا ہے، وہی قیمتیں رہیں گی پیٹرول کی۔۔۔
عالمی منڈی میں پیٹرول سستا ہوگیا ہے لیکن اس ملک کا جعلی وزیرِاعلی پیٹرول کم کرکے عوام کو کبھی رلیف نہیں دے گا۔۔۔
عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتوں کے تناظر میں میاں شہباز شریف صاحب @CMShehbaz کو کوشش کرنی چاہئے کہ تیل کی قیمتیں واپس 250 یا 260 تک لائی جائیں۔
عوام کو مہنگائی کے اس طوفان میں کچھ ریلیف ملے گا۔
شہباز شریف کی حکومت کی وجہ سے نواز شریف کی سیاست چل رہی ہے، مگر حقیقت میں وہ ایک لاش کی طرح پھر رہا ہے۔ ڈیل نے اس کی سیاست کو دفنا کر برباد کر دیا! حفیظ اللہ نیازی
#pakistan@hafeezullah_k
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
عمر بن الخطاب ایک غدار ابولولو مجوسی کے ہاتھوں شہید ہوئے
اور عثمان بن عفان کو یہودی عبداللہ بن سبأ کے بجڑکانے پر شہید کیا گیا
اور پھر بھی ہم نے اپنے گالوں پر تھپڑ نہیں مارے، اپنے کپڑے پھاڑے نہیں، یا زنجیروں اور تلواروں سے پاگلوں کی طرح خود کو کوڑے نہیں مارے؛
ؔ2018 میں نواز شریف نے ایک ترک کمپنی کو ایک ہی جھٹکے میں پاکستانی قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے 80 ملین ڈالر کا فائدہ پہنچا دیا۔ ایسے تمام منصوبوں کی ٹریل سیدھا وزیرِاعظم ہاؤس تک جاتی تھی۔ ایسے ہی نہیں ان کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بن گئے!مالک۔
"یہ معاشرہ اب پہلے جیسا نہیں رہا، درندگی اور بے حسی بڑھتی جا رہی ہے۔ خدارا اپنے بچوں کا خود خیال رکھیں، ان پر نظر رکھیں اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔ پتہ نہیں کب کوئی معصوم کسی درندہ صفت انسان کے ہتھے چڑھ جائے۔
شہباز شریف نے کہا تھا کہ جتنی سپورٹ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو دی ،اس کے 30 فیصد بھی ہمیں ملی تو ملک میں انقلاب برپا کردیں گے ،
سپورٹ 30 فیصد نہیں 300 فیصد نہیں ، 3 ہزار فیصد ملی ، تو نتیجہ کیا نکلا ؟؟؟