ٹرمپ کے سامنے لیمین یامال کا اپنے رب کے سامنے سجدا 🥰
تقریباً ڈیڑھ لاکھ تماشائیوں کے سامنے فائنل جیتنے کے بعد لیمین یامال کا اللہ تعالیٰ کو سجدا کیا اور شکر ادا کیا
یہ منظر صرف ایک جشن نہیں بلکہ اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے خوبصورت مثال تھا ، ❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️🙌
@SdqJaan اسلام علیکم کیا حال ہے سپین جہاں ہم رہتے ہے اور کام کرتے یہ لڑکا بھی ایسی گاؤں کا ہے سنا ہے یہ بہت غریب تھا اس کے ماں باپ نے اس پر بہت محنت کی ہے اور یہاں کے کلب نے اس پر بہت محنت کی ہے بہت ہی اچھا کھیلتا ہے ۔۔۔
"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'ہر کسی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔'
نیت درست ہو تو معمولی عمل بھی اللہ کے ہاں عظیم بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو خالص اپنی رضا کے لیے بنا دے۔ آمین۔
دل کے امراض کا بہترین علاج : سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے ملک ریاض کو ایسا کیا بتایا کہ ملک ریاض کے دل کی مرض چند ہفتوں میں ختم ہو گیا : معروف پاکستانی بزنس مین اور چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض حسین کو 1995ء میں جب دل کی تکلیف ہوئی تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا ’’ آپ کے دل کی تین نالیاں بند ہیں چنانچہ آپ کو فوراً اینجو پلاسٹی کرانا پڑے گی‘ ملک ریاض اینجو پلاسٹی کیلئے لندن جانے لگے۔تو سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے انہیں دل کی تقویت کیلئے طب نبویؐ سے ایک نسخہ بتایا‘ جنرل اسلم بیگ کا کہنا تھا انہیں 56 سال کی عمر میں دل کا عارضہ لاحق ہوا‘ یہ اپنے مرض کوخفیہ رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اس سے ان کے فوجی کیریئر پر زد پڑ سکتی تھی چنانچہ انہوں نے جدید علاج کی بجائے طب نبویؐ کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا‘ انہیں کسی صاحب نے یہ نسخہ بتایا‘ انہوں نے یہ نسخہ استعمال کرنا شروع کر دیا اور یہ حیران کن حد تک صحت مند ہو گئے ۔جنرل اسلم بیگ کا کہنا تھا آپ اینجو پلاسٹی سے پہلے ایک مہینہ تک یہ نسخہ استعمال کریں اور اس کے بعداپنے ٹیسٹ کرائیں‘ اگر شفاء ہو گئی تو ٹھیک ورنہ دوسری صورت میں آپ اینجو پلاسٹی کرا لیں۔ملک ریاض نے جنرل اسلم بیگ سے یہ نسخہ لیا اور اس کا استعمال شروع کردیا‘ ایک مہینے کے بعد یہ لندن کے کرامویل ہسپتال گئے‘ وہاں انہوں نے دنیا کے ایک نامور کارڈیالوجسٹ سے رابطہ کیا۔اس نے ان کے ٹیسٹ کرائے اور ٹیسٹوں کے نتائج دیکھ کرانہیں بتایا آپ کا دل مکمل طور پر ٹھیک ہے‘ آپ کو کسی قسم کے علاج کی ضرورت نہیں‘ ملک ریاض نے اپنے پرانے ٹیسٹ اس کے سامنے رکھ دیئے۔اس نے دونوں ٹیسٹ میچ کئے اور یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ دونوں ٹیسٹ ایک ہی شخص کے ہیں بہر حال قصہ مختصر ملک ریاض واپس پاکستان آئے اور انہوں نے اس نسخے کو اپنا معمول بنا لیا‘ یہ 2009ء میں ایک بار پھر کرامویل ہسپتال کے اسی ڈاکٹر کے پاس گئے‘ اس نے ان کے دوبارہ ٹیسٹ لئے‘ پرانے ٹیسٹ دیکھے اور اس کے بعد یہ بتا کر حیران کر دیا کہ 1995ء سے لے کر 2009ء تک ان کی دل میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں آیا‘ یہ نسخہ بہت سادہ ہے‘ آپ عجوہ کھجور کی گٹھلیاں لے کر پیس لیں۔اور اس پاؤڈر کی آدھی چمچ روز صبح پانی کے ساتھ نگل لیں۔انشاء اللہ آپ کے دل کے تمام امراض ٹھیک ہو جائیں گے ۔۔۔
"جو سیڑھی اوپر چڑھنے میں مدد کرتی ہے، اسے توڑنے کی کبھی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ نیچے جاتے وقت بھی اس کی اشد ضرورت ہو گی. محسن سے بے وفائی گھاٹے کا سودا ہوتا ہے"
اللہ پاک آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین❤️
السلام علیکم زندگی بخیر♥️
1980 کا ہی پھر سے ذکر ہے اور یہ ذکر اس لئے بار بار آتا ہے کہ اس دھائی میں پاکستان میں ادب، اداکاری، ڈرامہ نویسی، پرڈکشن، گلوکاری، موسیقی سب اپنے عروج پر تھی اور ہم اس دور میں ہوش سنمبھال رہے تھے. گھر اور سکول کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی ہمارے شعور، لاشعور، ادراک اور زبان کی تربیت کر رہا تھا. لاشعوری طور پر اس زمانے میں جس طرح میں نے پی ٹی وی سے ادب کا، آداب کا، زبان اور تلفظ کا، اعلی درجے کے مزاح کا اور سماجی شعور کا علم حاصل کیا، حسرت سے سوچتا ہوں کہ کاش ہماری نئی نسل بھی اس بیش قیمت خزانے سے مستفیض ہو سکتی اور سیکھ سکتی۔
تو اسی دور کا، 1980 کا ذکر ہے کہ پی ٹی وی پر ایک بہت ہی گلیمرس ڈرامہ شروع ہوا. گلیمرس اس لئے کہ اس میں بہت بڑےبڑے نام تھے. عثمان پیرزادہ، ساحرہ کاظمی، راحت کاظمی، عطیہ شرف، صبا حمید، بدر خلیل، شفیع محمّد اور عابد کاشمیری. ڈرامے کا نام تھا تیسرا کنارہ. ان دنوں ڈرامے کی سمجھ تو خاک نہیں آتی تھی، مگر واحد تفریح ہونے کے سبب سب گھر والوں کے ساتھ سکرین کے سامنے بیٹھنا ضروری تھا. سو بے مقصد ڈرامہ دیکھنے کے دوران کچھ باتیں ذھن میں رہ گئیں جن میں ایک تو ساحرہ کاظمی کی سحر انگیز شخصیت تھی، دوسرا راحت کاظمی کا مانوس سا فرینڈلی چہرہ، اور تیسری ایک سکون میں ڈوبی آواز جو مختلف مناظر میں بیک گراونڈ میں چلتی تھی، اور ایک نظم اس طرح گاتی تھی جیسے زخموں پر مرہم رکھتی ہو. وہ نظم تھی:
کبھی ہم خوبصورت تھے
اور آواز تھی نیرہ نور کی. یہ میرا نیرہ نور سے پہلا تعارف تھا اور آج بھی اس کا نام ذھن میں آتے ہی اس کی گائی یہی نظم ذھن میں گونجتی ہے.
علامہ اقبال کا شاہین کہتا تھا کہ "پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں". اگر موسیقی کی دنیا کا درویش دیکھنا ہو تو نیرہ نور سے مل لیجئے. ایک انوکھا اورعجیب و غریب کردار ...عاجزی انکساری میں ڈوبا، ہر وقت جیسے خود کو سب کی نگاہوں سے چھپاتا ہوا، ملکہ ترنم کے بلا خیز گلیمر کے مقابل اعتماد کے ساتھ کھڑا ہوا، ناہید اختر کی شوخیوں کو نظر انداز کرتا ہوا، طاہرہ سید کی تمکنت کو پس پشت ڈالتا ہوا، عاجزی اور انکساری میں ڈوبا، خود میں کھویا ہوا پی ٹی وی کی رنگا رنگ تقریبات میں سفید کاٹن کا سادہ سا لباس پہنے، میک اپ اور زیور سے بے نیاز دھیمے لہجے میں ہر سوال کا مختصر سا جواب دیتا ہوا. لیکن جب یہ کم گو گلوکارہ سُر چھیڑتی تو یوں لگتا جیسے کوئی لوری گنگنا رہا ہے اور گویا زمانے کی گردشیں کسی پر سکوں ندی کی لہروں میں ہلکے ہلکے ہچکولے لینے لگیں ہیں. شاید ہی کوئی زی روح ہو جس نے نیرہ نور کو سنا ہو اور اس کو پسند نہ کرتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا احترام نہ کرتا ہو. میں نے ہمیشہ لوگوں کو نیرہ نور کی سادگی کو سراھتے ہوئے دیکھا ہے. آج تک نہیں سنا کہ کسی نے کہا ہو کہ نیرہ نور بناؤسنگھار کیوں نہیں کرتی؟ نیرہ نور در حقیقت 'نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی' کی تصویر تھی.
اور اس کی خوبیوں میں سادگی اور درویشی کے بعد ان کی آواز تھی جو بہت شوخ بھی ہوتی تھی تو ایک پر سکون بہتی ندی کے شور سے زیادہ نہیں ہوتی تھی. میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ 'کبھی ہم بھی خوبصورت تھے' کے بعد کچھ نہ بھی گاتی تو بھی لوگ ان کو ہمیشہ یاد رکھتے. لیکن اس نے ایک اور غزل بھی گنگنا ڈالی:
اے جذبہ دل گر میں چاہوں
جو ان کی پہچان بن گئی. اسی غزل کی بنا پر اس نے کئی ایوارڈ حاصل کئے (وکی پیڈیا). اگر وہ یہاں رک جاتی تو بھی یہ کلام اس کو موسیقی میں زندہ رکھنے کے لئے کافی تھا. لیکن اس نے شاید ٹھان رکھی تھی کہ اسی طرح خاموشی سے غزل کی گائیکی میں اپنا ایسا رنگ جمانا ہے جو سب سے منفرد ہو. اور اس نے رنگ جمایا لیکن اپنی مخصوص خاموشی اور دھیمے پن سے، اور غزلوں کی ایک لائن لگا دی:
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے
کہاں ہو تم چلے آو محبت کا تقاضا ہے
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جلے تو جلاو گوری، پیت کا الاو
ہر چند سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو
پھر انہوں نے فیض کو گانا شروع کیا، اور فیض کو کس کس نے نہیں گایا تھا ....ملکہ ترنم نور جہاں نے، اقبال بانونے، ٹینا ثانی نے. لیکن نیرہ نور نے جو جو غزل گائی وہ بس انہی کے رنگ میں رنگ گئی. فیض کا سمندری طوفانوں جیسا انقلابی لہجہ نیرہ نور کی آواز میں ڈھل کے کسی گہرے دریا کی طرح مدھم مدھم بہنے لگتا.
آج بازار میں پا بجولاں چلو
مرے قاتل مرے دلدار مرے پاس رہو
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
لاو اپنے حسن کی ناؤ، لیلی اترے پار
مجھے ان میں سب سے زیادہ خوبصورت "مرے قاتل مرے دلدار مرے پاس رہو' لگتی ہے.
بقیہ