آزادی کے بعد ہم مارگلہ کی سب سے اونچی پہاڑی پہ تمہارا مجسمہ ایستادہ کریں گے۔۔۔
ہم نصاب میں تمہاری جرات و شجاعت کے قصے پڑھائیں گے۔۔۔
تم لائق تکریم ہو۔۔۔تم اکیلے یزیدیت میں ڈٹ کے کھڑے ہو۔۔۔
#عوام_کی_ضد_عمران_خان
🚨عمران خان کے کیسز پاکستان کی Most impossible legal representa ہے۔
سمجھ نہیں آتا کہ ہم قانون کی کونسی کتاب سے رہنمائی لیں ۔ یا کونسی عدالت اس میں انصاف دینے کی جرات کرے، جہاں کے سب دروازے بند کر دئیے گئے ہیں ۔ میری پوری سال میں صرف دو ملاقاتیں ہوئی ایک فروری میں جس میں انھوں نے مجھے بتایا کہ میری آنکھ کے ساتھ جان بوجھ کے یہ کیا گیا جسکی وجہ سے میرے آنکھ کی بینائی چلی گئی ۔ اسکے دو مہینے کے بعد جاتا ہوں تو انکی حالت پہلے سے بھی بری ہوتی ہے انھیں قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے انکے تمام بنیادی حقوق چھین لیے گئے ہیں ۔ یہ ہم نہیں اڈیالہ جیل کے ڈاکٹر کہہ رہے ہیں انکی رپورٹس کہہ رہی ہیں کہ انکو علاج کی ضرورت ہے انکا دل انکا بلڈ پریشر انکی آنکھ ٹھیک نہیں ہے یہ سب قید تنہائی کے دروان ہوا ۔ ہم پر ہر عدالت کا دروازہ بند ہے عمران خان پر کوئی دہشتگردی کا کیس نہیں ہے ۔ عمران خان نے کبھی نہیں کہا مقدمے ختم کر دو اور باہر نکالو ۔ انکا موقف بس یہ رہا ہے علاج کروا دو قیدی تنہائی ختم کر دو ۔ 💔
2026 آگیا ہے عمران خان پر 400 کیسز بنائے گئے جو ہم لڑ رہے ہیں ۔ مگر جتنے بھی مقدمے لڑے بائے بک لڑے ۔
عمران خان نے کبھی وہ حربے نہیں استعمال نہیں کیے نہ کبھی ہدایت دی، نہ کبھی کوئی بہانہ بنایا، نہ کبھی کوئی میڈیکل گراؤنڈ لیا، انھوں نے ہمیشہ کہا I’m fit. میں ان مقدمات کا سامنا کروں گا۔ کوئی فکر نہ کریں آپ کیسز لڑے جائیں ۔
جو عمران خان نے کیا وہ ناممکن تھا اتنے سارے مقدمات کا انسانی اور قانونی طور پر سامنا کرنا ممکن ہی نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں لوگوں پر تین چار مقدمے بن جائیں ملک چھوڑ جاتے ہیں یا ہمت ہار جاتے ہیں ۔ ان پر مقدمات کا وہڈ ریکارڈ قائم ہوا ۔
یہ کھیل کا میدان نہیں تھا یہ عدالتی جنگ تھی یہ جھوٹے کیسز تھے ۔ اور جھوٹے کیسسز کا پلندہ تھا مگر انھوں نے انصاف پسندی کو ترجیح دی عمران خان نے عدالتوُں سے Fair trial کی امید رکھی ۔ مگر اب حالات یہ ہیں کہ وکالت نامے بھی نہیں لیں گے نہ ضمانتیں لگائیں گے ، اب جب انکی طبیعت خراب ہے تو میڈیکل گراؤنڈ پر بھی علاج کی اجازت نہیں ۔ جیل مینول پر بھی عمل نہیں ہو گا۔ جیل کے احکامات کو بھی ہوا میں اڑیا جائے گا۔ نہ آئین دیکھا جائے گا ،نہ عدالتی احکامات پر عمل ہو گا۔
محسن نقوی کہتا ہے سسٹم ناکام ہو چکا ہے جبکہ مرد مجاہد نے تین سال پہلے کہا تھا۔ جیل میں تو میں چلا جاؤں گا لیکن کیا یہ پاکستان کی معیشت کے حالات کو برداشت کر لیں گے۔
یہ ویڈیو آج ہر کسی کے ٹائم لائن پر ہونی چاہیئے 🔥
اس ملک میں تین پاکستان ہیں اور اور تینوں کو ایک دوسرے سے نفرت سیکھایا گیا ہے اور بائی ڈیزائن سیکھایا گیا ہے آگے ویڈیو دیکھو گے تو آپ کی دلچسپی مزید بڑھے گی 🥺😢
فوجی فاؤنڈیشن کے 6 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں اس کے علاوہ 9 اور کمپنیاں ہیں جن کے اثاثے ایک ارب ڈالر سے زائد کے ہیں یہ کمپنیاں کسی بھی قسم کے احتساب سے بالاتر ہیں؟
جب آٹا مانگو انصاف مانگو بجلی مانگو تو ہم فوراً انڈیا کے ایجنٹ ہو جاتے ہیں ہماری جیب میں روٹی کھانے کے پیسے نہیں لیکن ہم انڈیا کے ایجنٹ ہیں ہمیں انڈیا پیسے دیتا ہے ! سردار امان کشمیری ۔۔۔
🚨پاکستانیوں وہ حرام کے چہرے دیکھئے جب عمران خان پریس کانفرنس کرتے تو یہ سب لنگور لائن میں عمران خان کے پیچھے کھڑے ہونے کے لیے مرتے تھے مگر جب اصل میں کھڑا ہونےکاوقت آیا🐕کی طرح دم دبا کر بھاگ گئے بھولنا نہیں ہے
پھیلایں میسج ہر کسی کے پاس موجود ہو
سبی کاظمی نے خود کو 50 ڈگری ٹمپریچر گرمی میں ایک کمرے میں بند کر کے پاکستانیوں کو بتایا کہ ایسے عمران خان اڈیالہ جیل میں آپ کی آزادی کیلئے بیٹھا ہوا ۔۔۔۔۔۔
ایک آدمی کے پیچھے آپ نے 13 سیاسی جماعتیں، اسٹبلشمنٹ، میڈیا اور 6 سو کروڑ، 3 سو ملین ڈالر جوبائیڈن سے لے کر لگایا،
لیکن پھر بھی عمران خان کو کنٹرول نہیں کر سکے! ظفرہلالی۔
26 ویں آئینی ترمیم پر تو بہت خوش ہو کر بولا تھا کہ بروٹ میجوریٹی سے ترمیم پاس کروائی ہے،
تو بیٹا 28 ویں ترمیم پر کیوں جان نکل رہی ہے؟
اب بھی آؤ اب تو فکر لاحق ہو گئی ہے کہ پیسہ بے نظیر انکم پروگرام سے کٹے گا، یا این ایف سی میں سے کٹے گا، سائرہ بانو
کہتے ہیں ایک بادشاہ کسی مراثی کی بات پر بہت خوش ہوا۔ اُس نے میراثی کو دو قیمتی تلواریں تحفے میں دے دیں۔ میراثی نے دونوں تلواریں جوڑ کر چمٹا بنوا لیا اور گانے بجانے لگ پڑا۔
ن لیگ کو حب الوطنی کا ٹھیکیدار اور باقی پورے ملک کو غدار قرار دے کر یہی کیا گیا ہے۔ انجام آپ کے سامنے ہے۔
امیر عباس بول پڑا 🔥🔥
ہمیں صرف نومئی نظر آرہا ہے2022 سے لیکر نومئی 2023تک جو اس ملک میں ہوا ایک سیاسی جماعت کیساتھ وہ تھی اصل واردات عمران خان زمان پارک میں بیٹھا تھا وکیل قتل ہوتا ہے کوئٹہ میں عمران خان پر قتل کامقدمہ ڈالا گیا ہمیں صرف نومئی نظر آتا ہے
غلطیاں اور غلط فہمیاں
ماہرنگ بلوچ کو گرفتار کیا گیا تو غلط فہمی ہوگئی کہ عالمی تنظیموں اور حکومتوں کا دباؤ فوج کو انہیں رہا کرنے پر مجبور کردے گا۔ یہی غلط فہمی ایمان مزاری کی گرفتاری کے وقت بھی ہوگئی، کہ ان کے روابط اور ان کا اثر جس سوسائٹی میں ہے وہ ان کے لیے کوئی نا کوئی رستہ نکال لے گی۔ ایسا نہیں ہوسکا۔ اس غلط فہمی پر افسوس ہے۔
یہ سب غلط فہمیاں بے سبب بھی نہیں ہیں۔ جانے پہچانے وکیل افضال عظیم پاہٹ کی سزا معطل ہوگئی ، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کی سزا معطل نہیں ہوسکی۔ کیونکہ انکی وکلاء برادری نے ان کے لیے کوئی نا کوئی رستہ نکال لیا اور عدالتیں بھی ایک متحرک وکیل رہنما کے لیے ڈھیلی پڑ گئیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ذاتی طور پر اس چیز سے کوئی اختلاف ہے۔ جسے جو گنجائش ملتی ہے لینی چاہیے۔ ہم لوگ جنگجو نہیں ہیں جو ماریں کھاتے رہیں۔
غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی ہم میں سے کئیوں کو ہوگئی تھی کہ جس طرح کی حمایت جوبائیڈن کی جانب سے فوج کو میسر ہے شاید شاید شاید ٹرمپ کے آنے سے وہ میسر نہ رہے گی۔ کیونکہ امریکی الیکشن مہم میں ٹرمپ نے بار بار نہی جنگیں شروع نہ کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ نے خطے میں جنگ نہ لڑنی ہو تو امریکہ کو پاکستانی فوج کی کوئی ضرورت نہیں اور امریکی حمایت نہ ہو تو فوج پاکستان پر آدھا گھنٹہ بھی قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتی۔
غلط فہمیوں کے سلسلے دراز تھے ، دوطرفہ تھے ۔ ابتدائی دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے فوج کو اور عاصم منیر کو خوفزدہ کرنے کے لیے عمران خان کی رہائی کے مطالبوں پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹس بھی کیں۔ یہاں ٹرمپ کو غلط فہمی تھی کہ شاید انہیں ڈرانے کے لیے کوئی بہت زیادہ دباؤ ڈالنا پڑے گا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ وہ دروازہ ہے جہاں کنڈی نا کھڑکا سوہنیا سدھا اندر آ والا حساب ہے۔
اب اسی طرح فوج غلط فہمیوں کا ٹرک لادے عمران خان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ ملک ٹھیک کردیں والی غلط فہمی نکل گئی، سرمایہ کاری لے آئیں گے والی غلط فہمی نکل گئی ، ریڈ لائن والی غلط فہمی اڑ گئی ، عوام ہمارے ساتھ ہیں والی غلط فہمی جاتی رہی ، الیکشن مینج کرنے والی غلط فہمی جاتی رہی۔ ہم مقبول ہیں والی غلط فہمی نکل گئی۔ اب ایک خبط عظمت بچا ہے۔ وہ نہیں جاتا۔ سطحی لوگوں کا تو بالکل بھی نہیں جاتا۔ لیکن ایک دن ایک آخری غلط فہمی ہے وہ ضرور جاتی رہے گی۔
غلط فہمیوں کا یہ سلسلہ صرف ہمارے اور فوج تک محدود نہیں تھا۔ بڑے بڑے سقراط ، بقراط ، دانشور ، تبصرہ پاڑ ایسے ننگے ہوئے کہ ہمیں شرم آنے لگی ، انہیں نہیں آئی۔ جب انہیں مزید برہنہ دیکھا تو گھن آنے لگی۔ جو فوج کے بندے بتائے جاتے رہے وہ جلاوطن ہیں ، وہ اذیتیں بھگت رہے ہیں ، ان پر ہر طرح کی سختیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ جو فوج کے مخالف اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بتائے جاتے رہے وہ فوج کی بغلوں سے چپکی ہوئی میل ثابت ہورہے ہیں۔
تھوڑا سا فرق ہے ، ہماری غلط فہمیاں نکلتی جارہی ہیں لیکن ہم انکی غلط فہمیاں نکالے جارہے ہیں۔
حبا بخآری نے دل جیت لیا ♥️
حبا بخآری نے اہم وقت میں عمران خان کی تقریر دوبارہ پوسٹ کردیا, ساتھ میں کھل کر حقیقت بتادی!!
"آج معلوم ہؤا عمران خان کیوں ناحق قید ہے"