ایکشن کمیٹی کے دلیر ممبران ♥️
جہنوں نے اپنے بھائیوں کو قربان کیا ہے کشمیریوں کے حقوق کے لیے, ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو تاریخ رقم کرتے ہیں!!
میں دوبارہ کہوں گا, PTI عہدءداروں, ان بہادروں کوو دیکھے, یہ بہادر پچھلے 2 ماہ سے کھڑے, گولیاں برداشت کی, اپنے پیاروں کی لاشیں تک اٹھائی!
🚨 مراد سعید نے حلف یاد کروا دیا
ڈی جی آپ اپنا حلف یاد کریں آپ کا حلف تھا کہ آپ آئین کی پاسداری کرو گے ، آپ نے بارہا آئین کو روندا،
آپ کا حلف تھا کہ آپ سیاست میں مداخلت نہیں کرو گے لیکن آپ نے قوم کے لیڈر عمران خان کو 9 مئی کا جھوٹا بیانیہ بنا کر اغواء کر لیا
آپ کا حلف تھا کہ عوام کی خواہشات آپ نے 8 فروری کو الیکشن پر ڈاکہ ڈالا اور عوام کی خواہش کا شب خون کیا
اسی لیے عمران خان کے پرانے کلپس اور ٹویٹس مسلسل وائرل کرتے رہنا ضروری ہے۔ جس اکاؤنٹ کی بھی اچھی ریچ ہے، وہ باقاعدگی سے عمران خان کے کلپس اور پرانی پوسٹس شیئر کرے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگ ان کا مؤقف اور باتیں نہ بھولیں۔
اور تحریک انصاف کی قیادت “ملاقات نہ ہو سکی” کا ڈرامہ رچا کر چور دروازوں کے پیچھے نہ چھپتی پھرے ۔
ہر بارکہتی ہوں کہ عمران خان نے جیل جانے سے پہلے اپنی سیکنڈ ٹئیر قیادت کو مکمل طور پر تیار کیا تھا۔ ایک ایک چیز عملی طور پر سکھائی، ہر ممکن صورتحال کی حکمتِ عملی سمجھائی۔ مگر آج یہی بزدل قیادت ملاقات نہ ہونے کا بہانہ بنا کر اپنی نااہلی اور ہڈحرامی پر پردہ ڈال رہی ہے، تاکہ کچھ کیے بغیر ذمہ داری سے بچتی رہے۔
🚨 عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو چلانے والوں سے اپیل کی تھی کہ عمران خان کے اکاؤنٹ سے تمام ٹویٹ دوبارہ پوسٹ کیے جائیں لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی اب قوم سے کہوں گی کہ عمران خان کی تمام ٹویٹ دوبارہ شئیر کریں ۔
ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹر عظمیٰ خان کی میڈیا سے گفتگو
"چارسدہ، خیبر اور کرک کے جلسوں میں عوام کی بھرپور شرکت قوم کے شعور اور اپنے حقوق کے دفاع کے عزم کی عکاس ہے۔ عوامی رابطہ مہم کو بہترین انداز میں جاری رکھنے پر میں جلسے کے تمام منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ تحریک انصاف کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ مل کر حقیقی آزادی کی تحریک کو مزید تیزی سے آگے بڑھانا چاہییے۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے بطور اپوزیشن لیڈرز تا حال نوٹیفکیشنز جاری نہ ہونا باعثِ تشویش ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں فوری طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نوٹیفائی کیا جائے۔
آج ایک بار پھر میرے وکلاء، میری فیملی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈرز کے باوجود مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس لوٹا دیا گیا جو کہ ناصرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ عدالتی احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ میرے خلاف قائم بے بنیاد مقدمات کی سماعتیں بھی اپنے آخری مراحل میں ہیں، جس کے بعد ممکنہ طور پر مجھے ایک بار پھر قیدِ تنہائی میں ڈال دیا جائے گا۔
میں پارٹی کے تمام کارکنان اور سینئر وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اس کھلی توہینِ عدالت کے خلاف فوری طور پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں اور پٹیشنز دائر کریں۔ اسی طرح القادر ٹرسٹ کیس میں تاخیری حربوں کے حوالے سے بھی ہدایت کرتا ہوں کہ اس کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا جائے اور سماعت کی تاریخ لیے بغیر عدالت سے باہر نہ آئیں۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے میری ہدایت ہے کہ صوبے کی ضرورت کے مطابق خود اپنی مختصر کابینہ تشکیل دیں۔ میں نے کابینہ کے لیے کوئی بھی نام تجویز نہیں کیا، سہیل آفریدی کے پاس اپنی مرضی کی ٹیم چننے کا مکمل اختیار ہے۔
پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور پیغامات صرف سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی جاری کئے جائیں تاکہ کسی قسم کی کنفیوژن یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔
آخر میں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ احمد چھٹہ اور بلال اعجاز میرے پرانے اور وفادار ساتھی ہیں۔ یہ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، میں نے ان کی برطرفی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ کے ذریعے دیا گیا پیغام (28 اکتوبر، 2025)
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
کام وہی ہے جس میں یوتھیوں کو ملکہ حاصل ہے۔ آٹھ فروری دوہرانا ہے اور نسبتا کم حلقوں میں دوہرانا ہے۔ تحریک انصاف کے امیدواران اور انکے نشانات کو ریپیٹ موڈ پر ڈال دیں۔
پاکستانی کاکروچوں سے نا مایوس ہوں نا ہی انکو طعنے دیں۔ پاکستانی کاکروچوں نے آٹھ فروری کو نظام کے منہ پر نالی کا کیچڑ مل دیا تھا جو نا آج کے دن تک اترا ہے نا کبھی آئندہ اترے گا۔ وقت وقت کی بات ہے۔ یہ اگلی منزل بھی پا لیں گے۔