فضل الرحمٰن صاحب کی طاقتور حکمرانوں پر تنقید سن کر صرف اپنے کانوں کو سرور لینے دیا کیجئے۔
اس سے زیادہ بڑھ کر اس تنقید کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔
ایمل ولی، فضل الرحمٰن اور وہ تمام لوگ جو ہمیشہ سے اقتدار کے مزے لیتے آئے اور عمران خان کے خلاف اکٹھے ہو گئے تھے اور آئندہ بھی جب جب موقع آئے گا، یہ سب PDM گروپ اکٹھا نظر آئے گا۔
ان سب کو صرف اپنے اپنے حصے کا ایک پاؤ گوشت چاہئے تھا اور ہے۔ وہ جب تک ملتا رہے گا، یہ سب خوش خوش شہباز شریف بن جائیں گے۔
جیسے ہی مفادات رکیں گے، یہ ہلکی آنچ پر کچھ تنقید اور طنز کے نشتر برسائیں گے۔
ان کے خلاف نہ کوئی مقدمہ درج ہو گا، نہ ان کو "غدار" قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی ہو گی۔
کیونکہ یہ انہی کے چلے ہوئے کارتوس ہیں جن کے خلاف گفتگو کر کے جمہوری بننے کی ایکٹنگ کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ہر نظریاتی رہنما اور كاركن کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ان لوگوں کی طاقتور لوگوں پر تنقید ایک فکسڈ میچ سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
چاہے وہ فکس میچ T20 ہو، ون ڈے میچ ہو یا ٹیسٹ میچ۔
اگر اتنے ہی انقلابی ہوتے تو 26ویں ترمیم پر حکومت کا ساتھ کیوں دیتے؟
اور اب بھی شامل ہو جاتے PTI لانگ مارچ میں۔
نہیں ہوۓ نا؟ کیونکہ practically کچھ نہیں کرنا۔ صرف اپنے ایک پاؤ گوشت کیلئے لفظی جدوجہد کرنی ہے۔ اب عوام سب جانتی ہے اور یہی عمران خان مخالفین کی جان کا روگ ہے۔
تحریک انصاف سے منسلک تین لوگ یوٹیوب پر تواتر سے ولاگ کرتے ہیں۔ شہباز گل نے دسمبر 2023 ، شہزاد اکبر نے جولائی 2023 اور قاسم سوری نے جنوری 2026 میں ولاگز شروع کیے۔ ان تینوں کے یوٹیوب شروع کرنے سے پہلے رجیم چینج ہوا۔ پنجاب حکومت ناجائز گرائی گئی۔ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ ارشد شریف کی شہادت ہوئی۔ ریٹائر ہوجانے والے جرنیل کو آرمی چیف لگا دیا گیا۔ الیکشن ملتوی کردیے گئے۔ آرمی چیف کا سالا وزیر اعلی پنجاب لگا گیا۔
زمان پارک پر حملے ہوئے۔ ظل شاہ کی شہادت ہوئی۔ عمران خان پر گندے غلیظ کیسز بنا کر ان کا میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیا۔ عمران خان کو احاطہ عدالت سے اغواء کیا گیا ، تحریک انصاف پر ریڈ لائن لگا دی گئی۔ گھروں میں گھس گھس کر بیڈرومز میں جا جا کر رہنماؤں سے پارٹی چھڑوائی گئی۔ انکی ننگی ویڈیوز لیک کی گئیں۔ ہزاروں لوگوں پر مقدمات بنائے گئے۔ یعنی تحریک انصاف کے لوگوں کے ولاگز شروع کرنے سے پہلے فوج یہ کرچکی تھی ۔
تحریک انصاف کو غدار تو فوج نے قرار دیا۔ تحریک انصاف کو توڑے کی کوشش تو فوج نے کی۔ تحریک انصاف پر گند تو چالیس نیوز چینلز اور دو سو صحافی پھینکتے رہے۔ یعنی آپ فوج کو کلین چٹ دے کر سارا ملبہ تحریک انصاف پر ڈال رہے ہیں؟ شہباز گل پر تشدد ہوا۔ شہزاد اکبر پر برطانیہ میں دو حملے ہوئے۔ قاسم سوری دربدر اوبر چلاتا رہا۔ آپ انہی کو ظالم قرار دے رہے ہیں؟
شہباز گل پر سب سے زیادہ تنقید کس نے؟ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے۔ عادل راجہ پر سب سے زیادہ تنقید کس نے کی؟ تحریک انصاف نے۔ تھوڑی سی گنجائش ملی نہیں اور شروع ہوگئے کہ عمران خان کو اور تحریک انصاف کو سارا نقصان پہنچایا ہی باہر بیٹھے یوٹیوبرز نے ہے۔ حیا کو ہاتھ ماریں۔
خوبسصورت انداز میں بہترین باتیں
چالیس سالہ رکشہ ڈرائیور اتنا باشعور انسان، شدید محب وطن پاکستانی
اور دوسری طرف بڑے بڑے سرکارے عہدوں پر بیٹھے فارن کوالیفائیڈ جاہل پاکستانی اشرافیہ
جاہلیت کا سٹیٹس اور کلاس سے نہیں، سوچ سے پتہ چلتا ہے۔
نشر مکرر
کسی بھائی نے ایک دفعہ کسی پوسٹ پر رپلائی کیا تھا کہ نہتے نکلے تو سامنے بندوق آگئی۔ بندوق نکلی تو سامنے ٹینک آجائیں گے۔ ٹینک لے کر نکلے تو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے ماریں گے۔ نو مئی کو تین درجن لوگ شہید ہوئے۔ چھبیس نومبر کو درجن بھر کارکنان کی لاشیں ملیں اصل تعداد آج بھی معلوم نہیں ہوسکی ۔ اگر چند ہزار لوگ لیکر ایک بار پھر چند لاشیں مزید اٹھا کر واپس جانا ہے تو خدا کے لیے ماوں کی گودیں اجاڑنے کی تمنا بند کردیجیے۔
اس فوج نے مشرقی پاکستان میں ہزاروں لوگ مار دیے پھر جب اپنے ترانوے ہزار گھیرے میں آگئے تو پتلونیں چھوڑ کر بھاگے۔ بلوچستان میں سارا مسئلہ قبضے کا ہے۔ فوج ہزاروں لوگ مار چکی ہے ابھی تک سلسلہ جاری ہے لیکن فوج کورس کریکشن کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایک اور پوسٹ مشرقی پاکستان کے حوالے سے کی کہ پہلی دفعہ فوج نے گولی فروری 1952 میں چلائی۔ بنگلہ دیش آزاد 1971 میں ہوا۔ یعنی اگر انیس سال بعد بھی ہم آزادی لیں تو وہ کامیابی ہے۔ اس پر آپ میں سے بہت سوں نے اسے مایوسی پھیلانا قرار دیا۔
عسکری منرلز بل کے لیے تحریک انصاف کی آدھی قیادت تڑپ رہی ہے۔ کسان لٹ گیا ہے کسی نے اسکے لیے آواز نہیں اٹھائی۔ ڈاکٹرز نے احتجاج کیا تحریک انصاف ان کے ساتھ شامل نہیں ہوئی۔ گزشتہ برس اربوں روپے کے گندم سکینڈل پر تحریک انصاف کسانوں کو موبلائز نہیں کرپائی۔ پختونخواہ میں حکومت ہونے کے باوجود نہ کوئی قانون سازی ہوئی ، نہ رجیم چینج کے بعد سے مظالم میں ملوث لوگوں کے خلاف کاروائی ہوئی۔ الٹا کور کمانڈر ہاوس میں افطاریاں ہوئیں۔ کسی میٹنگ یا اجلاس کے بائیکاٹ کرنے تک کے اصولی فیصلے پر قیادت کی ایک بڑی تعداد کا منہ گول گپے جیسا ہوجاتا ہے۔
ہم نے قاتلوں سے آزادی لینی ہے ریہڑی سے نان چھولے نہیں لینے جو دس منٹ میں مل جائیں گے۔ اسکے لیے ایک طویل جدوجہد ، نظریاتی قیادت ، چھوٹی سے چھوٹی سطح پر موبلائزیشن اور لمبے چوڑے ویژن کی ضرورت ہے۔ اس کا احوال ایک مفصل پوسٹ میں تحریر کیا جاچکا۔ خلاصہ پیش خدمت ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں سے ماہانہ بنیادوں پر فنڈنگ جنریٹ کرنی ہوگی
شیڈو اوورسیز قیادت قائم کرنی ہوگی جو سخت اور کھلا موقف اپنا سکے
سالانہ یا ششماہی بنیادوں پر تحریک انصاف کے آن لائن انٹرا پارٹی انتخابات کروانے ہوں گے تاکہ لوگ انگیج رہیں
چھوٹے چھوٹے عوامی مسائل پر عوام کو تھوڑا تھوڑا موبلائز کرنا ہوگا
عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی پر پختونخواہ حکومت کو عدم تعاون تحریک کا اعلان کرنا ہوگا
سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کے سبھی اجلاسوں کا ویڈیو لنک سوشل میڈیا پر لائیو چلانا ہوگا تاکہ عوام کو دکھائی دے کیا ہورہا ہے اور کیا کیا جارہا ہے
سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو حقیقی معنوں میں انفلوئنسر بننا ہوگا اپنے اپنے بھگوان کا پالشیا نہیں
ایکس / فیس بک / ٹک ٹاک یہ سب سے بڑے ہتھیار ہیں ان کے ذریعے عوام تک لٹریچر ویڈیوز گرافکس اور پوسٹس کے ذریعے لگاتار جنریٹ کرنا ہوگا اور ہر پلیٹ فارم کی آڈینس کے حساب سے ڈیٹا تیار کرنا ہوگا
بار کے سبھی الیکشنز میں وکلاء کی حمایت کے بدلے تحریری مطالبات منظور کروانا ہوں گے۔ جیسے کہ حمایت یافتہ کامیاب امیدوار لاپتہ افراد کے کیسز میں خود پیش ہوتا رہے
ہم نے خود کو ایک طویل جنگ کے لیے تیار کرنا ہے۔ ہماری لڑائی اس سوچ سے ہے جو عوام کا مینڈیٹ چھینتی ہے۔ کسی ایک جرنیل سے ہرگز نہیں۔ جب تک یہ سوچ ختم نہیں ہوگی لڑائی جاری رہے گی۔
"جنرل فیصل نصیر! ایک 'کھلا رُستم' نکلا، پاکستان کی خدمت کے ریکارڈ توڑے۔ اگر وہ نشانِ پاکستان یا ہلالِ پاکستان جیسے ایوارڈ سے محروم ہے، تو یہ جنرل صاحب کی خدمات کی توہین ہے۔ ایک آدمی نے 8 فروری کی رات کو فیصلہ کرنا تھا کہ 25 کروڑ لوگوں پر کون سا نظام ٹھونسنا ہے۔ یہ اُس فیصلے کا نتیجہ کہ بقول فیصل واڈا، بوٹ کا نام بلند ہے۔ بوٹ کا ہی اعجاز ہے کہ پارلیمان، ساری قومی و صوبائی حکومتیں، عدالتیں، آج علی الاعلان فخریہ طور پر 'بوٹ' کی نوک پر ہیں۔ ایک شخص کا فیصلہ کہ کس حلقے سے کس کو جیتنا تھا اور کس کو ہارنا تھا۔ ایک شخص نے پاکستان کی سیاست کو درست کرنے کا بیڑا اٹھایا اور یونٹی، فیتھ، ڈسپلن کی طاقت پر آئینِ پاکستان کو روندا اور اپنے حلف کو توڑا، کہ اس ایک شخص کی ترجیح پاکستان نہیں، اس کی نوکری تھی"۔ حفیظ اللہ نیازی
@hafeezullah_k
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
دسمبر 2023 میں جب عاصم منیر پہلی مرتبہ امریکہ کے دورے پر آیا تو PTI امریکہ کو احتجاج کرنے سے روک دیا گیا، شیر افضل مروت نے عاصم منیر کے امریکہ پہنچنے پر بیان دیا کہ میری جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور عمران خان نے خود PTI کو عاصم منیر کے دورہ امریکہ کے دوران احتجاج کرنے سے منع کیا ہے
میں اس وقت بھی جانتا تھا کہ شیر افضل مروت عسکری بیانیہ چلا رہا ہے اور عمران خان ایسا حکم ہرگز نہیں دے سکتے، میں نے وقار خان کو کہا کہ پاکستانی سفارت خانے کے سامنے احتجاج ہونا چاہیے،معید پیرزادہ بھی اس وقت ہمارے ساتھ تھے
وقار خان نے ابتدا میں تھوڑی ہچکچاہٹ دکھائی، کیونکہ اس وقت شیر افضل مروت کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی تھی، تقریباً ہر شخص اسے اپنا ہیرو سمجھتا تھا اور اس کے خلاف بات کرنا بھی لوگوں کو گوارا نہیں تھا،لیکن میرے مسلسل اصرار پر وقار خان نے سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا،
چند دن بعد مجھے پاکستان سے ایک بہت بڑے وکیل کی کال آئی انہوں نے پوچھا کہ عمران خان جاننا چاہتے ہیں کہ عاصم منیر کے دورۂ امریکہ پر پاکستانی کمیونٹی کا ردعمل کیسا تھا؟
میں نے جواب دیا کہ ہمیں تو شیر افضل مروت نے احتجاج سے منع کیا تھا، اس وقت کے پارٹی جنرل سیکرٹری نے بھی روکا تھا، لیکن میں نے پھر بھی احتجاج کروایا، کیونکہ میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ میرا لیڈر یہ احتجاج ضرور چاہتا ہے،
اس وکیل نے مجھے بتایا کہ عمران خان نے شیر افضل مروت کو کبھی ایسا کوئی پیغام دیا ہی نہیں تھا کہ پارٹی عاصم منیر کے دورے پر احتجاج نہ کرے
اس واقعے کی تصدیق آپ معید پیرزادہ اور وقار خان سے کروا سکتے ہیں
میرے لیے میرے لیڈر عمران خان سے بڑھ کر کوئی شخص نہیں، چاہے وہ کتنا ہی مقبول یا غیر مقبول کیوں نہ ہو،
میں نے اس وقت بھی ایک مقبول ترین شخص کے بیانیے کو ٹھکرایا تھا، کیونکہ میرے نزدیک عمران خان سے وفاداری کسی شخصیت کی اندھی تقلید کا نام نہیں
وقت نے شیر افضل مروت کے معاملے کو سب کے سامنے کھول کر رکھ دیا،یاد رکھیں، وقت سے بڑا کوئی منصف نہیں،-
میں نے یہ باتیں ایسے نہیں کیں۔ سوچ سمجھ پرکھ اور معلومات کو اچھی طرح جانچ کر کی ہیں۔
فوکس اور لیڈر صرف عمران خان۔
لمبے لمبے سانس لیں ایک گلاس پانی پئیں اور غیر جانبدار ہونے کی کوشش کریں۔
سہیل آفریدی کیا کرتا؟ لانگ مارچ اٹک تک لے آتا پھر ؟ یہ لانگ مارچ کیسے ڈی چوک ، مریدکے یا راولا کوٹ سے مختلف ثابت ہوتا؟ ساٹھ ہزار اہلکار اسے روکنے کو تیار تھے۔ بیس تیس چالیس لوگ مارے جاتے اور ہوتا پھر بھی یہی سب۔
سات آٹھ دن لانگ مارچ چلتا رہا کیا کسی ایک بھی دن پنجاب میں کراچی میں سندھ میں کوئی ریلی کوئی احتجاج ہوا؟ کیا پنجاب کو بھی سہیل آفریدی نے روک رکھا تھا؟
جب سہیل آفریدی لانگ مارچ کررہا تھا تو تب سب خاموش کیوں تھے؟ اسکی گرفتاری کے بعد یہ سب کیں ہورہا ہے؟ تب جب کہ وہ جواب بھی نہیں دے سکتا۔
پلان اے بی سی ڈی کی ذمہ داری اس شخص کی کیسے ہے جو گرفتار ہوکر معلوم نہیں کن حالات میں ہے۔ جو باہر موجود ہیں سوال ان سے کیوں نہیں ہوتا؟ کیا یہ بھی اغواء کیے جانے کے بعد ایکسپوز کیے جائیں گے؟
کشمیر میں نوے ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ درجنوں لوگ آج بھی جیلوں میں ہیں۔ اس کے باوجود کشمیر آزاد نہیں ہوسکا۔ پاکستان کو ایک لانگ مارچ اٹک سے اسلام آباد پہنچ کر آزاد کروا دیتا؟
اگلی احتجاجی تحریک کی کیا کیا شرائط ہوں گی اور اسے کون کون کیسے کیسے لیڈ کرے گا کہ آپ لوگ اسے شک کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے؟
سہیل آفریدی نے بہت وقت ضائع کیا۔ کسی کی دلائی ہوئی آس پر بیٹھا رہا۔ تحریک انصاف کے اندر لے لوگ اسے حالات بہتر ہونے کی نوید سناتے رہے۔ اسے روکتے رہے۔ درست ہے۔ اڈیالہ نہیں جاتا رہا غلط کرتا رہا۔ درست ہے۔
میری رائے غلط ہوسکتی ہے۔ سہیل آفریدی کل کو غلط سائیڈ پر کھڑا ہوسکتا ہے۔ میں کل کو کسی غلط سائیڈ پر ہوسکتا ہوں۔ لیکن فوج کی طاقت کو آپ بغیر طاقت دکھائے فوج کے خوف کو خوف دکھائے بغیر آپ سرنگوں نہیں کرسکتے۔ پاکستان کے عوام کے اندر نفرت بہت ہے۔ فوج نااہل بہت ہے۔ لیکن عوام ابھی تک کسی منظم احتجاجی تحریک کے لیے تیار نہیں۔
حوصلہ بھی رکھیں اور ہاتھ ہولا بھی رکھیں۔ خود کو طویل جدوجہد کے لیے تیار کریں۔ اگر آپ معاشرے میں انفلوئنسر کا درجہ پا گئے ہیں تو اسے تعلیم و تربیت پر نیٹ ورکنگ پر اور آئیڈیاز پر صرف کریں ۔ اپنے دماغ پر اتنا بوجھ نا ڈالیں کہ وہ پچکا ہوا دکھائی دے۔
جنٹل مین ، سولہ فالورز کا ایک اکاونٹ تھا۔ اس نے جنرل سرفراز کے ہیلی کاپٹر حادثے پر یاد نہیں شکر ادا کیا یا اسے انسائیڈر جاب کہا۔ اس پر کہرام مچا دیا گیا۔ اسے اٹھایا گیا ، اسکے گھر والوں کو اٹھایا گیا۔ اسے تحریک انصاف سے نتھی کیا۔ تحریک انصاف کو ملک دشمن کہا۔ تحریک انصاف بیچاری صفائیاں دیتی پھرے۔
جنٹل مین ، دیکھیں آپ کتنی تیزی سے کہاں آ پہنچے ہیں۔ جنازوں پر یہ ٹھٹھے کسی مہم ، کسی اکاونٹ ، کسی یوٹیوبر یا کسی جماعت کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔ یہ آپ کی حرکتوں کے پیدا کردہ ہیں۔ آپ نے سڑکوں پر گولیاں ماریں۔ آپ نے گندے کام کیے۔ آپ نے مینڈیٹ چھینا۔ آپ نے چار سال طاقت اور وحشت دکھائی۔ لوگوں کو رسواء کیا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے۔
جنٹل مین، آپ کو جلسے جلوس پڑھنے نہیں آتے ، آپ کو الیکشن پڑھنا نہیں آتا آپ کو ووٹ پڑھنا نہیں آیا ، آپ کو لائکس ، ری پوسٹس ، ری ایکشنز اور امپریشنز کیا پڑھنے آئیں گے۔ آپ کو تو بس وہ سبق پڑھنا آتا ہے جو آپ کو بنگالیوں نے پڑھایا جو آپ کو بلوچ پڑھا رہے ہیں۔ جنٹل مین آج کوئی انتباہ نہیں ہے کوئی دلیل یا التجا نہیں ہے۔ جنٹل مین آج اطلاع ہے کہ آپ برباد ہوچکے ہیں۔
یہ ن لیگ اور پی پی کتنی بے شرم جماعتیں ہیں!
پہلے پی ٹی آئی کی جیتی ہوئی نشستوں پر ڈاکہ مارا۔
پھر ان کی مخصوص نشستیں چھین لیں۔
اب ان کی بنی بنائی حکومت گرا کر اپنے لوگ نافذ کر دئے۔ یار ان کو کس دن شرم آۓ گی؟
وہ راستہ مجھے آتاہے، اس میں آپ کو صرف ہاتھ جوڑنے پڑتے ہیں، جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں، اپنی عزت نفس قربان کرنے پڑتی ہے، وہ راستہ بہت آسان ہے مجھے بھی آتا ہے بہت اچھی طرح آتا ہے۔۔۔
مریم صفدر بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں، وہ راستہ انکا خاندانی راستہ ہے، پورا خاندان اسی راستے سے سیاست میں آیا اور اقتدار پر قابض ہوا۔
ہم نے سہیل آفریدی سے احتجاج کا تقاضا کیا۔ اگرچہ دیر سے سہی آفریدی نے تقاضا پورا کیا۔ لانگ مارچ کے دوران ہم پرجوش رہے۔ اس کے خاتمے پر مایوس ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب مایوسی میں شکوک و شبہات شروع کردیں۔
ادارہ ہذا تادم تحریر سہیل آفریدی کیساتھ ہے۔ اعلان ختم۔
پروگرام میں ایسا کیا ہوا ارشاد بھٹی شو چھوڑ کر چلے گئے۔۔؟aیہ تمہارا باپ ہوگا میرا اصلی باپ ہے ۔۔۔بس چپ کرو حد ہوگئی۔
Disclaimer: For news reporting and informational purposes only. Views or actions expressed by subjects do not imply endorsement by Express News