چار سال میں ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ غربت اور بے روزگاری دہائیوں کی بلند ترین سطح پر، سرمایہ کاری 60 سال کی کم ترین سطح پر، مہنگائی عروج پر، جبکہ جی ڈی پی گروتھ 4٪ تک نہ پہنچ سکی۔ فی کس آمدنی کم ہو گئی۔ UNICEF اور HRCP کی رپورٹس کے مطابق 8.6 ملین بچے مزدوری پر مجبور ہیں۔ یہ ناکامی نہیں تو اور کیا ہے؟
میں اپنے حلقے کے ایک مزدور کا بل لے کر آیا ہوں۔ 322 یونٹ استعمال کیے، بل آیا 12,056 روپے۔ یعنی فی یونٹ 37 روپے 44 پیسے۔
جناب سپیکر، اس بل پر نظر ڈالیں تو صرف ٹیکس ہی 4 ہزار سے زیادہ ہیں۔ میٹر رینٹ، سروس رینٹ، FPA، FC سرچارج، GST، انکم ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس... ٹیکس پر ٹیکس۔
322 یونٹ کا بل، آخر میں ٹوٹل بن گیا 16,047 روپے۔ یعنی فی یونٹ 50 روپے پڑا۔
حکومت کہتی ہے کہ 8,465 روپے کمانے والا "غربت کی لائن سے اوپر" ہے۔ لیکن اس مزدور کا بجلی کا بل ہی 16 ہزار آ گیا۔ وہ کھائے گا کیا؟ بچوں کو پڑھائے گا کیا؟
پیسکو والوں نے پول، ٹرانسفارمر، تار، میٹریل سب کے پیسے عوام سے لیے۔ انسٹالیشن کے بھی پیسے لیے۔ پھر بھی جب میٹر لگوانے جاؤ تو رشوت مانگتے ہیں۔ 16 ہزار مانگتے ہیں، 4 ماہ بعد میٹر لگاتے ہیں، اور پہلا بل 1 سال بعد لاکھوں کا بھیج دیتے ہیں۔
،پیسکو میں 18 سے 20 ہزار پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔ پرائیویٹائزیشن کے نام پر بھرتی بند کر دی۔ عملہ کم ہے تو لوڈشیڈنگ 12 سے 18 گھنٹے ہو رہی ہے۔
تربیلا ڈیم سے 6400 میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔ وہ بجلی ہماری ہے، ہمارے صوبے کی ہے۔ لیکن ہمیں 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ دے رہے ہیں۔
یہ ظلم بند ہونا چاہیے۔ عوام پر ٹیکس کا بوجھ کم کریں-
تربیلا پاور ہاؤس صوابی میں ہے صوابی کی عوام نے مجھے منتخب کیا ہے تربیلا ڈیم سے 6418 میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس 6418 میگا واٹ سے صوابی کو بجلی نہیں دی جاتی۔ ہمارے صوبے کی جو پوری ضروریات ہے وہ 3300 میگا واٹ ہے اور ہمارے صوبے کو 2200 سے 2500 میگا واٹ بجلی دی جاتی ہے۔ جو ضلع بجلی پیدا کر رہا ہے اسے بجلی نہیں دی جا رہی ہے اور صوابی کی ضرورت صرف 180 میگا واٹ ہے18,18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور لو وولٹیج کا مسئلہ ہے۔ دیگر اضلاع میں تو 18 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ جس صوبے کی پیداوار ہے، آئین اور قانون کے مطابق اس پر پہلا حق اس علاقے اور صوبے کا ہے۔
قومی اقتصادی سروے میں آیا ہے 8765روپے ماہانہ کمانے والا شخص غربت کی لکیر سے نیچے نہیں ۔ ان پیسوں میں آخر آتا کیا ہے ان پیسوں کے حساب سے ماہانہ 30ڈالر بنتے ہیں یعنی Per day One Doller جناب ایک ڈالر میں تو وزیر صاحب کی کافی بھی نہیں آتی بلکہ ششے والی پانی کی بوتل بھی نہیں آتی۔
اکنامک سروے پڑھ کر لگ رہا تھا 76 سال سے ہم جھوٹ ہی لکھ رہے ہیں کہ بس پاکستان اگلے دو دنوں میں ترقی کی اڑان بھر لے گا اور سارے مسائل ٹھیک ہو جائینگے
جب انگریز دورمیں نمک پر ٹیکس لگا دیا تھا تو 1882 SALT ACT بنایا گیا تھا۔ انگریر تو سمجھدار تھا تو اس نے ٹیکس کے وصولی کے لیے excise department کو کہا ٹیکس وصول کرے کونکہ وہ جانتے تھے اگر فوج یا کسی اور کو شامل کیا تھا کرپشن بڑھے گئی انڈسٹری بیٹھ جائے گئی۔
تجربہ کاروں نے جوحال پاکستان کا کردیا اس سے ہر کوئی واقف ہوچکا اور ان کا بھی پول کھل چکا عوام کو یہ مذید دھوکے میں نہیں رکھ سکتے ۔
جناب۔ یہ اب سیاسی نہیں رہے اور نا ان کے رویوں سے لگتا ہے ۔ یہ اپنے آپ کو کچھ اور ہی ثابت کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ کونکہ اگر یہ سایسی ہوتے تو عوام کو رلیف دیتے ۔ مگر افسوس سیاست سے یہ کنارہ کشی کر چکے کونکہ ان کو پتہ ہے عوام سے ان کو ووٹ نہیں ملنا ۔
بجٹ 25-26 میں جی ڈٰی پی گروتھ 4.2 رکھا تھا جو پورا نہیں کر سکے ۔ جناب جب سے یہ آئے ہیں ان کے علانات سنئے ۔ معشیت ٹھیک ہو رہئ ہے / دیوالیہ پن سے نکل چکے ہیں / G-20 میں شامل ہو رہے ہیں۔ ،معشیت کی بہتری کا وقت کا چکا ۔ معشیت کو استحکام مل چکا
جناب یہ سب خالی نعرے تھے ۔ یہ تھا لولی پوپ کجو یہ عوام کو5 سال سے دے رہے ہیں
ہمارا جینا مرنا تمباکو کے ساتھ ہے ہمارے 70,80 فیصد لوگ تمباکو کے شعبے سے منسلک ہے ۔
میں جس علاقے سے تعلق رکھتا ہوں، اس علاقے میں جو سب سے زیادہ تمباکو کی فیصل کاشت ہوتی ہے۔80 فیصد لوگ تمباکو سے وابستا ہیں ۔ یہ کیش کراپ ہے جس کی وجہ سے ہماری اکانومی چلتی ہے۔ آپ نے تمباکو پر 390 ارب روپے کا ٹیکس لگایا لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ جب آپ نے ٹیکس لگایا، اس سے پہلے 2023-24 میں ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق آپ کی ٹیکس کلیکشن 394 ارب روپے تھی، لیکن جب یہ ٹیکس لگایا تو آپ کی ٹیکس کلیکشن گر کر 165 ارب روپے ہو گئی۔ خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے، وہاں کے کسانوں کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے، کسان بیچارے رو رہے ہیں۔ آپ نے مارکیٹ میں کمپٹیشن ختم کر دی، آپ نے چھوٹے اور بڑے کمپنیوں پر یکساں ٹیکس لگا دیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ تیسرا ٹیکس سلیب لے کر آئیں تاکہ کمپٹیشن میں اضافہ ہو اور کسانوں کو اپنی فصل کا اچھا نرخ مل سکے۔
ممبر قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی ، صوبائی وزیر فیصل خان ترکئی ایم پی اے عبدالکریم خان ، ایم پی اے مرتضیٰ خان ترکئی جن کی کوششوں سے این اے 20 صوابی میں سڑکوں کی پختگئ اور کشادگی کے سلسلے میں 1ارب 14کروڑ 50 لاکھ کے فنڈز کی منظوری دی گئی ۔
بشکریہ صوبائی حکومت
صوابی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قبول نہیں ۔ہم اربوں روپے کے فنڈز بجلی کی مد میں لگا چکے ہیں ۔مگر نا تو لوولٹیج کا مسلہ حل ہوا اور نا لوڈشیڈنگ کا پیسکو احکام ہوش کے ناخن لیں ۔اسٹاف کی کمی کو پورا کرے ۔پول، ٹرانسفارمر کی مرمت کو بروقت ٹھیک کرے ۔اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے ۔اپنی ناکامیوں کو صوابی کی عوام پر مت ڈالے اگر لوڈشیڈنگ ختم نا ہوئی تو ہمارے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ۔
آج سابقہ سپیکر اسد قیصر@AsadQaiserPTI الیکشن کمپین کے سلسلے میں اسلام آباد سے اسکردو کی فلائٹ تھی۔ پنجاب پولیس نے اسلام آباد ایئرپورٹ میں داخل نہیں ہونے دیا اور ایئرپورٹ کے داخلی راستے بند کر دیے، جس کے باعث عام عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
گلگت بلتستان میں تمام پارٹیاں انتخابی مہم چلا سکتی ہیں لیکن تحریک انصاف کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔میں اسد قیصر کو انتخابی مہم سے روکنے کی پرزور مذمت کرتا ہوں ۔ جمہوری روایات کا جنازہ نکلا جا رہا ہے ۔
عوام کو درپیش بجلی کے بحران اپنی آواز اٹھاتے رہیں گئے ۔میں نے اپنے حلقے میں ریکارڈ گرڈ اسٹیشنز بنوائے۔لیکن اس کے باوجود عوام کو 18-18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ اور لووولٹیج کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ معمولی آندھی سے پولز گر جاتے ہیں اور چار چار دن بجلی غائب رہتی ہے۔ پیسکو احکام فوری طور پر فیڈرز کی مرمت کریں اور عوام کو ریلیف دیں۔ اگر اتنے گرڈ اسٹیشنز بنوانے کے بعد بھی واپڈا ہمیں بجلی فراہم نہیں کرا تو اتنی محنت کا کیا فائدہ؟
آج مردان میں عمران خان کی پکار پر عوام کا سمندر امڈ آیا۔
تمام تر ظلم اور زیادتیوں کے باوجود لوگ آج بھی اپنے قائد اور اس کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ جذبہ، یہ حوصلہ اور یہ استقامت اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ کی آواز کبھی دبائی نہیں جا سکتی۔
ہم اپنے تمام کارکنوں کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔
#MardanJalsa #ImranKhan