"ہماری تکلیف سمجھ لیں ہمیں عمران خان کی آنکھ کی فکر ہے ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟ تحریک چلانے کا مطلب اس حکومت پر پریشر ڈالنا ہے تاکہ ان کا علاج ہو، عمران خان خود کبھی نہیں کہیں گے انہوں نے تو کہا تھا میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا"علیمہ خان
جنرل ایوب نے الزام لگایا کہ جب سہروردی وزیر اعظم تھے، انھوں نے اپنے اختیارات کے غلط استعمال میں ایک شخص سیٹھ نور علی کو چاولوں کا پرمٹ دیا تھا۔ فوجی عدالت میں سہروردی نے اپنا کیس خود لڑا سہروردی نے ریکارڈ سے ثابت کر دیا کہ پرمٹ کے اجرا کے لیے وزارت تجارت کے سیکریٹری نے ان سے منظوری لی ہی نہیں، بلکہ خود ہی پرمٹ جاری کر دیا، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خاں کے کہنے پر۔ مگر فوجی عدالت نے سہروردی کو سات سالہ نااہلی کی سزا تو پھر بھی سنا دی پریس کو عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے سے بزور بندوق روک دیا گیا 66 سال گزر گئے کیا بدلا: بشارت راجہ
@BasharatRaja786
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
پاکستان سے: 4 سال پہلے سینیٹ چلانے کا خرچہ 5 ارب تھا، سال 2026 بجٹ میں وہ 10 ارب ہوگیا، قومی اسمبلی کا خرچہ 8 ارب تھا،اب 17 ارب روپے مختص کیا گیا، ایم این ایز کی تنخواہ ایک لاکھ 88 سے 5 لاکھ 19 ہزار کر دی گئی
رواں مالی سال کے بجٹ میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے لیے مختص کردہ فنڈز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے تحت سینیٹ چلانے کا بجٹ جو ماضی میں 5 ارب روپے کے قریب تھا، اب بڑھ کر 10 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ قومی اسمبلی کے اخراجات کا تخمینہ بھی 8 ارب روپے سے بڑھا کر 17 ارب روپے کر دیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں بھی بڑی حد تک اضافہ کیا گیا ہے، جنہیں 1 لاکھ 88 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار روپے تک پہنچا دیا گیا۔
پل صراط کا سنا تھا اس پر چلنا مشکل ترین کام ہوگا
لیکن
حکومت نے دو سو یونٹ سے ایک یونٹ اوپر جانے پر تاحیات سبسڈی ختم کرکے
ان کے لئے دنیا میں ہی پل صراط بنا دیا ہے
اب کوئ بیمار ہو تقریب ہو یا کوئ بھی وجہ
بجلی دو سو یونٹ کے اندر ہی استعمال کرنی ہے
پیٹرول و ڈیزل میں قیمت کے اضافہ سے کمپنیوں نے اربوں روپے کمائے
پی ایس او کا منافع 15 ارب سے بڑھ کر 38 ارب روپے، پی آر ایل کا منافع 2.5 ارب سے بڑھ کر 10 ارب روپے اور اٹک پیٹرولیم کا منافع 7.5 ارب روپے سے بڑھ کر 15 ارب روپے ہو گیا۔ ثناءاللہ خان، سینئر صحافی
رات 12 بجے کے قریب جب میں ترامڑی چوک میں واقع کوئٹہ آرم باغ کیفے میں چائے پینے کے بعد بل ادا کرنے کے لیے کاؤنٹر پر گیا تو ہوٹل کے مالک امداد خان نے ایک ایسی کہانی سنائی جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا
انہوں نے سامنے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “یہ بچہ گزشتہ چار سے پانچ گھنٹوں سے یہاں بیٹھا ہے۔ اس کا باپ کھانا کھانے کے بعد 640 روپے کا بل ادا نہ کر سکا۔ اس نے اپنی گھڑی اتار کر مجھے دی اور کہا کہ میرے پاس اس وقت پیسے نہیں، آپ گھڑی رکھ لیں
امداد خان نے بتایا کہ انہوں نے گھڑی لینے سے انکار کیا تو اس شخص نے کہا، “میرا بیٹا یہیں بیٹھا ہے، میں صرف پانچ منٹ میں پیسے لے کر آتا ہوں، پھر بل بھی ادا کر دوں گا اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤں گا
مگر وہ پانچ منٹ گھنٹوں میں بدل گئے
میں بچے کے پاس گیا اور پوچھا، “بیٹا، آپ کہاں سے ہو؟ آپ کا نام کیا ہے؟
وہ خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ شاید وہ اجنبی لوگوں سے بات کرنے سے گھبرا رہا تھا یا پھر اپنے باپ کے انتظار میں گم تھا
کچھ دیر بعد میں نے اس سے صرف ایک سوال کیا، “بیٹا، کھانا کھایا ہے؟
اس نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا
آہستہ آہستہ جب وہ کچھ مانوس ہوا تو میں نے دوبارہ اس سے گھر کے بارے میں پوچھا۔ اس بار اس نے اپنے گھر کا پتا بتا دیا
پھر میں، امداد خان، ان کے چند دوست اور ان کے بچے، اس معصوم کو اس کے بتائے ہوئے پتے پر چھوڑنے نکل پڑے
وہاں پہنچ کر پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ بچے کے والدین الگ الگ رہتے ہیں۔ اس کا والد وقاص خان، جو پیشے کے لحاظ سے پینٹر ہے، ایک گھر کے کرائے کے کچن میں رہائش پذیر ہے اور بچہ بھی اسی کے ساتھ رہتا ہے
جب ہم وہاں پہنچے تو وقاص خان گھر پر موجود نہیں تھا۔ کافی انتظار اور تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ آخرکار بچے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی پولیس کے سب انسپکٹر انور کے حوالے کر دیا گیا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے والد تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے
یہ واقعہ صرف 640 روپے کے ایک بل کی کہانی نہیں، بلکہ اس معاشرے کی تلخ حقیقت ہے جہاں غربت انسان کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جن کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔ ایک معصوم بچہ گھنٹوں اپنے باپ کے انتظار میں خاموش بیٹھا رہا، اور شاید اسے یقین تھا کہ اس کا باپ ضرور واپس آئے گا
افسوس اس بات کا ہے کہ اسی ملک میں ایک طرف اشرافیہ اربوں روپے کے نئے جہاز خریدنے میں مصروف ہے، جبکہ دوسری طرف اسی ملک کے عام لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے بھی شدید مجبوری کا شکار ہیں۔ جب ریاست کی ترجیحات بدل جائیں تو ایسے ہی دردناک مناظر جنم لیتے ہیں!!
صحافی مشرف ضیاف ستی کی تحریر 💔
قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان کے معصوم بچے آج بھی پتھر کے دور میں جی رہے ہیں، تعلیم، صحت اور صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں، عوام غربت اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یاد رکھو ! خوشحال پاکستان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان#بلوچستان_کو_جینے_دو
@Memona_pti Aisi movements ka asar civilized societies me hota hai hmare jese logon pe nai. Idr ap jitna marzi ehtjaj krte rahain koi asar nai hone wala.
ان کے وزیر یا تو پڑھتے ہی کچھ نہیں ہیں یا یہ کسی مستی کے اندر ہیں، پاکستان کے اندر فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (FDI) 1.4 ارب ڈالر ہے، جبکہ ایتھوپیا کی اس سال کی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ 4.5 ارب ڈالر ہے۔ رانا عاطف
@Rana_Atif101#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
یورپ میں گرمی کی لہر آئی تو گورے مرنے شروع ہوگئے۔ صرف سپین میں دو سو سے زائد لوگ مرے ہیں۔ لوگ گھر چھوڑ کر مہنگے ہوٹلوں میں پناہ لے رہے ہیں۔
اور یہ گرمی ویسی نہيں ہے جیسی پاکستان میں ہے۔ پاکستان میں ان مہینوں میں سورج آگ برساتا یے۔ جب آسمان دے آگ برس رہی ہے اور زمین کوئلے کی طرح دھک رہی ہے تو یہ بےگناہ انسان، پاکستان کا سابق وزیراعظم، قومی ہیرو، دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان، ایک تندور نما کوٹھڑی میں قید ہے۔ یہ تیسری گرمیاں ہیں جو اس نے یہاں گذاری ہیں۔
جس ملک میں اتنا ظلم ہو۔ ایسا جبر ہو۔ کبھی اس ملک میں برکت آسکتی ہے؟
دعا کریں ہم پر آللہ کا قہر نازل نہ ہو۔ ہم نے جبر کے سامنے کمزوری اور بزدلی کی انتہا کر دی ہے۔ خاص کر ہماری پڑھے لکھے طبقے نے۔ 😢