الرجولة الحقيقية مش صراخ ولا استعراض.
الرجل اللي بيحترم نفسه مش بيتسول حب، مش بيتحكم، ومش بيجري ورا حد.
دي 9 صفات بتخلي البنات تنجذب ليه طبيعي من غير ما يطلب :
كنت بدور علي شغل في المدينة اللي كنت أنا وصاحبي بنقضي فيها الإجازة.
كنا عايزين نشتغل مع بعض في نفس المكان وفي نفس الوظيفة فضلنا نبص علي إعلانات الشغل واحدة واحدة ونلف من محل للتاني مع بعض أغلبهم كانوا بيقولوا إنهم محتاجين موظف واحد وبما إننا كنا عايزين نشتغل مع بعض فضلنا ندور ملاقيناش أي حاجة وفضلنا تلات أيام كاملة ندور علي مكان محتاج اتنين موظفين وأخيرا لقينا محل ملابس محتاج اتنين فدخلنا نسأل عن الشغل.
صاحبي قال إن المرتب قليل جدا وقال لي خلنا نشتغل هنا لحد ما نلاقي شغل تاني.
وافقت وقلت إننا بنشتغل عشان أهلينا.
كنا قاعدين في المدينة عند أقاربنا كل واحد في مكان لوحده ومن هنا بقي..
في يوم تليفون صاحبي رن ولما عرفنا إن فيه شغل محتاج اتنين سيبنا شغلنا وروحنا هناك علي طول.
بغداد کے ایک گاؤں میں ایک متقی اور پرہیزگار شخص رہتا تھا جو اپنا سارا وقت عبادت میں گزارتا تھا۔ اسے دنیا کی کوئی لالچ نہیں تھی اور وہ روکھا سوکھا کھا کر گزارا کرتا تھا۔ ایک دن اس کے ایک مرید نے خوش ہو کر اسے عقیدت اور محبت میں ایک موٹی تازی بھینس تحفے میں دی تاکہ وہ اس کے دودھ اور گھی سے اپنی گزر اوقات کر سکے۔
ایک چور کی نظر اس بھینس پر پڑی اور اس کے دل میں لالچ آ گیا کہ اس بھینس کو چرا لیا جائے۔ چنانچہ وہ زاہد کی خانقاہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں اسے ایک آدمی ملا جو کہ دراصل انسان کی شکل میں خود شیطان تھا۔
جب چور نے پوچھا کہ "تو کون ہے اور کہاں جا رہا ہے؟" تو اس نے جواب دیا، "میں شیطان ہوں اور آدمی کی شکل میں ہوں تاکہ خانقاہ کے زاہد کو جاؤں، کیونکہ بہت سے لوگ اس کی تقویٰ اور عبادت سے متاثر ہو کر برائیوں سے توبہ کر کے نیکی کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور میرا کاروبار گھاٹے میں پڑ گیا ہے، اس لیے میں اسے قتل کرنے جا رہا ہوں"۔
اس کے بعد شیطان نے چور سے پوچھا کہ "تو کون ہے اور تیرا کیا حال ہے؟"۔ چور نے بتایا کہ "میں ایک مکار چور ہوں اور اس تاک میں رہتا ہوں کہ کسی طرح دوسروں کا مال حاصل کروں، اور اب زاہد کے پاس ایک موٹی تازی بھینس ہے جسے چرانے جا رہا ہوں"۔ یہ سن کر شیطان نے کہا کہ "ہم دونوں کے دوست نکلے کیونکہ ہمارا کام ایک ہی شخص سے ہے"۔
چنانچہ دونوں زاہد کی خانقاہ کی طرف چل پڑے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو رات ہو چکی تھی اور زاہد عبادت میں مشغول تھا۔ دونوں موقع کی تلاش میں تھے کہ اتنے میں زاہد کی آنکھ لگ گئی۔
اس وقت چور نے دل میں سوچا: "اگر شیطان زاہد کو مارنے کا ارادہ کرے گا تو ممکن ہے کہ وہ بھاگ جائے اور شور مچا کر پڑوسیوں کو جگا دے، جس سے میری بھینس چرانے کی اسکیم ناکام ہو جائے گی"۔
دوسری طرف شیطان نے دل میں سوچا: "اگر چور بھینس چرائے گا تو وہ اسے لے جانے کے لیے دروازہ کھولے گا اور ممکن ہے کہ دروازہ کھلنے کی آواز سے زاہد جاگ جائے اور مجھے زاہد کو قتل کرنے میں ناکامی ہو"۔
یہ سوچ کر دونوں نے ایک دوسرے کی مخالفت شروع کر دی اور ان کے درمیان نعرے بازی اور لڑائی ہو گئی۔
چور نے غصہ ہو کر زاہد کو آواز دی: "ہوشیار! یہاں شیطان ہے جو تمہیں قتل کرنا چاہتا ہے"۔
ادھر شیطان نے بھی فوراً آواز دی: "خبردار! یہاں ایک چور ہے جو تمہاری بھینس چرانا چاہتا ہے"۔
زاہد ان کی یہ لڑائی سن کر جاگ گیا اور شور مچانے لگا۔ شور سن کر پڑوسی فوراً زاہد کی مدد کے لیے آ گئے، جنہیں دیکھ کر چور اور شیطان دونوں بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس طرح زاہد کا مال اور جان دونوں دشمنوں سے محفوظ ہو گئے۔
Çok kararsız kaldım, Megane daha cazip geliyor sorabilir misiniz şehir için kullanım için hangisi tercih edilmeli?
Renault Megane 1.3 TCe Icon
Skoda Octavia 1.0 e-Tec Elite
Sıkıcı adamların sohbet konuları;
• Bugünün planı/ yarının planı
• İş/hobi/öğrencilik dönemi muhabbeti
• Hafta sonu nasıl geçirilir/seyahat planları, gitmek istediği yerler
• Son zamanlarda sardığı şeyler
Sadece konu uzayıp gider.
İlişkiyi ilerleten erkekler ise👇