وہ کہہ رہے کہ ماں قصور وار ہے
(اُس بدبخت ماں نے زہر امریکا سے آرڈر کی ، اور پھر پاکستان میں ڈیلیوری ہوئی — جرم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔)
1.جی ہم نے مان لیا کہ وہ لعنتی جس نے اکیلے واپسی کی ٹکٹ کرائی وہ بیگناہ ہے.
2. ہم نے مان لیا کہ دستانے تو ایجاد ہوئےہی نہیں۔ جن کو پہنا جائے تو فنگر پرنٹس نہیں آتے ۔
3. ہم نے مان لیا کہ زہر امریکہ سے آیا اور امریکہ میں زہر ایسے ہی ہوم ڈیلیوری پر مل جاتا ہے جبکہ وہ اگر چوہے مار سپرے بھی دیتے ہیں تو علاقے کے مئیر سے سائن شدہ کاغذ دیکھ کر دیتے کہ واقعی آپ کے علاقہ میں چوہے ہیں یا نہیں۔ جو آپ کو اتنی زیادہ مقدار میں زہر درکار ہے ۔۔
4. ہم نے مان لیا کہ امریکہ نے بنا جانچ پڑتال زہر پاکستان پارسل کر دیا۔ ویسے یہ کونسی سروس ہےہم پینڈؤں کے پلے بھی ڈال دی جائے ہم بھی امریکہ سے کچھ منگا سکیں۔
5. بچوں کے رونے کراہنے کی آواز ہمسایوں کو آگئی اور ناصر ڈوگر صاحب اس سے پہلے سے کانوں میں ہینڈ فری ٹھونس کر کمرے میں ڈا"نس" کردے پئے سی ۔۔ اس لیے جب پڑوسیوں نے" بوا"(دروازہ) کھڑکایا تو ان کو تب بھی آوازنہیں آئی اور انہوں نے کہا بچے تے گھر ای کوئی نہیں ۔ پڑوسیوں نے دسیا کہ نئیں بچے تو پیچھے لانڈری میں تڑپ رہے۔فر جب پڑوسیوں نے ان کے کن پھڑ کہ لانڈری تک لائے تو انہوں نے بچوں کو دیکھا۔ انے نمانےمشوم ناصرڈوگر۔
6. بیوی نے کہا آئیس کریم کھا لو مگر ڈوگر صاحب نے انکار کر دیا۔ اس وقت بیگم بچوں کو زہر دے چکی تھی لیکن ڈوگر صاحب کو بچوں کی آواز نہیں آئی۔ اور بیگم اتنی اتاؤلی کہ شوہر کو زہر دینے کا مشن فیل ہونے پر جلدی سے اندر گئی اور بقیہ آئس کریم خود کھا کر پہلے قریب الوفات ہوئی بعد آزاں یہ کہتے ہوئے فوت ہوگئی کہ یہ آدمی میرے بچے کھا گیا۔؟؟
او بس کر دیو۔ مرنا تسی سب نے اے۔ تواڈے گھر کسی ایک نوں وی کوئی سیریس بیماری لگ گئی ناں ۔۔تو یہ ایک دو کروڑ کدھر لگے پتا وی نئیں لگنا۔
کوئی اللہ کا خوف ہے توانوں۔
کیوں انصاف نہیں کرتے۔ تحقیق و تفتیش پوری کرلیتے ہو ۔۔سچ لکھتے ہوئے کیوں بیس تیس ہزار سےشروع ہوتی لامحدود اماونٹ پر ضمیر کا سودا کرلیتے ہو۔
کیسے نیند آجاتی ہے تم لوگوں کو ۔۔
بچوں کی کراہیں میرے جیسی کئی ماؤں کو سنائی دیتی ہیں حالانکہ ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔۔ لیکن ہاں درد ایک ہے ہم ماں ہیں۔
بیوی بن کر سائیکو شوہر کی حرکات بھی سہی ہیں۔ ہمارے شوہروں نے بھی کبھی ناں کبھی گلا دبایا ہے چھری سے زخمی کیا یا ڈرایا ہے۔ پسٹل سر پر رکھا ہے ذہنی اذیت دی ہے مار پیٹ کی ہے اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ شخص مظلوم ہے عورت سائیکو تھی ..
امریکہ جیسے ملک میں اتنے سال وہ سائیکو عورت رہی وہاں اس نے بچوں کو کچھ نہیں کہا ۔ کیونکہ اسے پتا تھا کہ پاکستان جا کر ماروں گی توشوہر آزاد اور معصوم ہو جائے گا۔
بلے وئی۔
او ہاں میں بھول گئی تھی کہ جب انسان کی جیب میں امریکی ڈالر آئیں تو فر ہر "کاں " چٹا ہی ہو گا۔ اور ہر مجرم کلین چٹ !
*از قلم عروج امتیاز ملک*۔
حملات موشکی به فرودگاه نظامی کندز
مبارزان جبهه آزادی، حوالی ساعت ۹:۰۰ شب پنجشنبه ۸ اسد ۱۴۰۵ خورشیدی، به فرودگاه نظامی کندز و بالای چرخبالهای حامل تفنگداران گروه تروریستی طالبان حملات موشکی انجام دادهاند
مبارزان جبهه آزادی با اشراف اطلاعاتی از مفرزه های دشمن، حملات موشکی هدفمند را بالای تروریستان در حال اعزام به ولایت بدخشان در فرودگاه نظامی کندز انجام داده اند.
در نتیجه این حملات، تلفات و خسارات جدی به این گروه وارد گردیده است، اما تا اکنون آمار دقیق کشته و زخمی دشمن در دست نیست.
گروه طالبان در روز های اخیر اکمالات و اعزام نیرو به مناطق تحت نفوذ جبهه آزادی را تشدید کرده است.
جب بنگلہ دیش کے سلیم میاں کی معذور بیٹی کو کئی اسکولوں نے داخلہ دینے سے انکار کر دیا، تو انہوں نے مایوس ہونے کے بجائے ایک تاریخی قدم اٹھایا۔
انہوں نے ایک ایسا اسکول قائم کیا جہاں معذور بچوں کو نہ صرف تعلیم دی جاتی ہے بلکہ سلائی کڑھائی جیسے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں۔ آج اس اسکول میں 200 سے زائد بچے پڑھ رہے ہیں، جو ان کا خود اعتمادی اور روشن مستقبل کا خواب پورا کر رہا ہے۔
میرا ٹویٹر پر سیاست سے لینا دینا کُچھ نہیں
مگر غیر جمہوری طریقے سے آۓ اور مُلک کے طاقتور عہدے پر بیٹھے غیر جمہوری شخص کا جمہوریت کی تسبیح پڑھنا
اچھا لطیفہ ہے
@Saeed_Sangri سعید بھائی معذرت کے ساتھ اگر قوم پرستوں کی تھریٹ نہ ہو اور انہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا ہوتا تو اسٹیبلشمنٹ بہت پہلے کی زرداری کی چھٹی کروا چکی ہوتی۔
عمل و ردعمل کا بے رحم پہیہ اگر کشمیر میں چل پڑا تو عاشقان ایکشن کمیٹی دو سال بعد دانتوں میں انگلیاں دبا کر روئیں گے۔یہ پاکستان نہیں کشمیر کی تباہی کی تحریک ہے۔اصل منصوبہ گوریلا جنگ کے حالات پیدا کرنے کا ہے۔فنڈز "دوست" مہیا کریں گے،لاجسٹک انڈیا کی ذمہ داری ہو گی اور سپلائی افغانستان کے سپرد ہو گی۔ایکشن کمیٹی سے ہٹ کر الگ تھلگ "آرگنائزیشن" کھڑی کی جا چکی ہے۔ریاستی مشینری میں موجود روگ ایلیمنٹ سہولت کاری بھی کریگا۔آپ نے دیکھا عمر نذیر کا بھائی شہید ہوا،قریبی دوست شروع میں کام آ گیا اور خود اسکا اپنا مستقبل "خاموش اطاعت" یا "دائمی خاموشی" ہو گا۔کچھ عرصے بعد ایکشن کمیٹی عضو معطل ہو جائے گی اور ان دیکھی قیادت کمان سنبھال لے گی۔جس کے ساتھ مذاکرات ہو سکیں گے نہ قابو پایا جا سکے گا۔گوریلا جنگیں اپنے جلو میں کامیابی نہیں مکمل تباہی لاتی ہیں۔شام،عراق افغانستان وغیرہ کی مثالیں سامنے ہیں۔پاکستان نے کشمیر چھوڑ بھی دیا تب بھی گوریلا قیادت سیاسی قیادت کا خلا نہیں بھر سکے گی اور نہ کسی دوسری سیاسی قیادت کو موقع دے گی نتیجۃً کوئی بیرونی طاقت قبضہ جما لے گی جس کیخلاف گوریلا طاقت جدوجہد جاری رکھے گی۔اس صورت میں سپلائی لائن پہلے والی ہی رہے گی البتہ لاجسٹک اور فنڈنگ فراہم کرنے والے "دوست" بدل جائیں گے۔مگر کشمیریوں کیلئے امن کا حصول عنقا ہو جائیگا۔جوش و جذبے سے لبریز مگر سیاسی پختگی اور شعور سے عاری قیادت اس کے سوا اپنی قوم کو اور دے بھی کیا سکتی ہے....۔!! تب لندن میں حمایت میں مظاہرے ہونگے نہ جنیوا میں حقوق انسانی کی اپیل ہو گی اور نہ کوئی ٹھکرایا ہوا سیاستدان آزاد پتن یا کوہالہ کی طرف جائیگا۔
یہ انجام اس قوم کا ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے عطا کی گئی نعمت کی ناقدری کرتی ہے۔امن وہ نعمت ہے جس کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے ایک حصے کو بیت اللہ شریف کے پہلو میں آباد کرتے وقت مانگی تھی۔آزاد کشمیر کے باسیوں کو اللہ تعالیٰ نے ایٹمی قوت رکھنے والے اس ملک کے ذریعے امن جیسی نعمت سے نواز رکھا تھا جس نے ان کیلئے اپنے سے بیس گنا بڑے دشمن سے اسی سال سے متھا لگا رکھا ہے اور تین مہلک جنگیں لڑیں۔مگر ان کا ایک قلیل گروہ اپنے محافظ ہی کے درپے ہو گیا ہے اور دونوں ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھنے پر مجبور ہو چکے ہیں
خدا یوں بھی گناہوں کی سزا دیتا ہے
بانٹ کر قوم کو گروہوں میں لڑا دیتا ہے
آسماں ہی سے عذاب نازل نہیں ہوتے
آدمی کو بھی ملک الموت بنا دیتا ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ موثر افراد آگے آئیں اور اس تباہی کے عمل کو یہیں روکنے کی کوشش کریں۔
"وگرنہ دیکھنا ساحل پر سارے ڈوب جائیں گے"
بلوچستان سے کشمیر تک کے حالات چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ اس خطے کے باسیوں میں اتفاق اور انکی ریاست کا استحکام "لا الہ الااللہ" کے سوا نہ لسانی قومیت میں ہے،نہ نسلی قومیت میں اور نہ علاقائی ثقافت میں بلکہ "خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی" کے مصداق اس ملک خدادا کا استحکام صرف نظریہ توحید اور اس کے تصور حریت و اخوت و مساوات میں ہے جسکی بکثرت تکرار ہمیں مفکر و مصور و مبشر پاکستان کی فکر میں ملتی ہے اور بانی و معمار پاکستان قائد اعظم کی تعلیمات میں نظر آتی ہے
چمن کے مالی اگر بنا لیں موافق شعار اپنا اب بھی
چمن میں آ سکتی ہے پلٹ کر چمن سے روٹھی بہار اب بھی
‼️📸 - During the clearance operation, Pakistani Security Forces removing the body of a killed Afghan Khawarij terrorist from the attack site following the terrorists attack on the Wali Tangi post in Balochistan.
“This system has failed!” No shit, Sir! You’re Interior Minister + Senator + Part-time Foreign Minister + Full-time PCB Chairman + Shadow Chief Minister + Media Channel Owner + Quasi-Ambassador to the US + Special Liaison for Pakistan to Mojtaba Khamenei. The system is resting on your very capable shoulders, Sir!
پورا ملک بلوچستان سے کمشیر تک ڈسٹرب ہے لیکن ایوان صدر کو ایک ہی فکر ہے بڑے صاحب کے لاڈلے دوست کی بیگم صاحبہ کو کسی طرح کراچی سے لا کر OIC Comstech میں کوارڈینیٹر ڈاکٹر اقبال کی جگہ لگایا جائے۔
مزے کی بات ہے ڈاکٹر اقبال کو کہا گیا ہے وہ اپنے خلاف خود ثبوت پیش کریں تاکہ ان کے خلاف کاروائی کر کے ہٹایا جائے۔ ڈاکٹر اقبال کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری صدر زرداری نے آڈر کی تو انہوں نے جوابا صدر کو لکھ بھیجا کہ مجھے بتایا تو جائے میرے خلاف کیا الزامات ہیں تاکہ میں ان کا دفاع کر سکوں۔اب انہیں بتایا گیا ہے وہ سب دستاویزات خود ہی کمیٹی کو فراہم کریں پھر کمیٹی کسی نتیجہ پر پہنچے گی۔۔
ایوان صدر تو نہیں بتا رہا لیکن میں بتا رہا ہوں ڈاکٹر اقبال پر ایک ہی سنگین الزام ہے جب صدر صاحب کے لنگوٹیے نے انہیں فون کر کے “فرینڈلی مشورہ” دیا کہ وہ استححفی دے دیں تاکہ وہ اپنی بیگم صاحبہ کو وہاں لگوا سکیں تو انہوں نے انکار کیوں کیا۔ اس سے بڑا سنگین جرم اور کیا ہوسکتا ہے۔😎🤓😬
@CMShehbaz@MoitOfficial@TararAttaullah@JunaidAkbarMNA@SyedAliZafar1@HinaRKhar@ShaziaAttaMarri@AseefaBZ@sherryrehman@SenatorSaleem@BarristerGohar@KhSaad_Rafique@KhawajaMAsif
ممتاز مذہبی سکالر جاوید احمد غامدی سے ٹی وی پروگرام کے دوران ایک کالر نے سوال کیا کہ وہ پاکستان کے موجودہ ماحول کو کیسے دیکھتے ہیں جہاں ایک بڑی سیاسی شخصیت عمران خان جیل میں ہے ملک میں ایک گھٹن کا ماحول ہے اور ایسی ہی پابندیاں لگی ہوئی نظر آرہی ہیں جیسے ضیاء الحق کے دور میں تھیں تو کیا یہ قوم کا عروج و زوال نہیں ہے ؟ اس پر جاوید غامدی نے کیاجواب دیا خود سن اور دیکھ لیں ۔۔۔
@imshee67 عمران صاحب صرف ڈرون کافی نہیں ہیومن انٹیل ٹارگٹ کو پن پوائینٹ کے لئے بھی ضروری ہے یہ ٹیکٹک امریکہ ہماری قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے لئے استعمال کرتا رہا ہے
Pakistan Army is currently more focused on Ground Operations, but the Deployment of UCAVs can easily save alot of Precious Time and Lives in Balochistan.
BTW, Pakistan Army Aviation (PAA) Operates its own UCAV fleet and doesn't rely on PAF in most Cases. These Locally Manufared and Chinese Platforms are capable of Performing ISR, Target Tracking, and Precision Strike Missions, Supporting Ground Troops during Complicated Operations near Civilian Areas.
Today's Drone Strike on FAH Terrorists is an other Example of how UCAVs can Stop Threats before they can even cause any Damage to the Innocent Citizens of Islamic Republic of Pakistan.
Pakistan Zindabad 🇵🇰
Posting this at someone’s request:
In the digital era, the services provided by NADRA through the PAK ID mobile app are excellent. They save time and spare citizens from the painful process of visiting NADRA centers and standing in long queues, which is truly a blessing. While many services available on the app are outstanding, there are still several important services related to Pakistani citizens’ identity cards that are missing.
If NADRA provides these services on the PAK ID app as soon as possible, citizens can be protected from many forms of fraud, difficulties, and inconveniences. I am mentioning a few of these services below, which NADRA should introduce on the PAK ID app at the earliest:
1. Information about mobile SIMs issued against a CNIC
2. Details of stamp papers issued against a CNIC
3. Bank accounts operating against a CNIC
4. Details of vehicles registered against a CNIC
5. Properties registered against a CNIC
6. Details of government salary/pension issued against a CNIC
7. Details of loans issued against a CNIC
8. Details of weapon licenses issued against a CNIC
9. Utility bills registered against a CNIC (electricity meters, gas meters, etc.)
10. Educational degrees issued against a CNIC
11. Civil/criminal cases registered against a CNIC
At present, NADRA only provides information about family members linked to a citizen. If NADRA introduces these 11 services on the PAK ID app, Pakistani citizens can protect themselves from major frauds and many other problems.
@SamiYousafzaii Few days back seen YouTube page of Kabul municipality, Taliban heavily investing on Kabul's infrastructure while neglecting major highways specially connecting North if those roads are build will improve the local economy drastically.
اے آئی کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
ایک generative ai اور دوسرا agentic ai ہے۔
پہلا generative ai وہ حصہ ہے جس میں آپ آرٹ کا کام کرتے ہیں جیسے تصاویر بنانا، ویڈیو بنانا، میوزک بنانا، مضامین لکھنا، ڈاکیومنٹ بنانا وغیرہ
دوسرا agentic ai وہ حصہ ہے جس میں آپ تکنیکی کام کرتے ہیں جیسے ایپ بنانا، پراسس کو آٹومیٹ کرنا، کوڈنگ کرنا، ڈاٹا انالسس کرنا وغیرہ
جو لوگ generative ai میں دلچسپی رکھتے ہوں ان کیلئے ایک چھوٹا سا ٹیبل بنایا ہے جس میں بنیادی ٹولز ہیں۔
ان ٹولز کو سیکھا بھی اےآئی کی مدد جا سکتا ہے۔ gpt, gemini, copilot سے کہیں کہ مجھے فلاں ٹول سیکھنا ہے وہ سکھانا شروع کردیگا
Seeing this 52-minute documentary leaves little doubt that @DeutscheWelle has done such a crude, intellectually dishonest, hatchet job of raising alarm about Pakistan’s nuclear program by questioning its legitimacy & safety, recycling old propaganda to link it to religious extremism! For example, the documentary starts off with the laughable proposition that Pakistan ‘illegally developed’ The Bomb, as if there’s a legal path to acquiring nuclear weapons, which Germany’s friends like India & Israel may have pursued! Then this documentary goes on to say the Pakistan Government ‘officially revealed’ the Bomb via the nuclear tests in 1998, WITHOUT MENTIONING that Pakistan’s tests were in response to the nuclear tests of India, also the architect of nuclearisation of South Asia, a fact that Deutsche Welle conveniently overlooks in its quest to demonise Pakistan! Given these low standards of professionalism of Germany’s ‘state-funded international broadcasting network’, it is perhaps no accident that Germany’s own international standing has fallen, since Germany suffered a humiliating defeat in elections to the UN Security Council in June 2026, losing to Austria & Portugal. Ironically, this defeat at the UN coincided with the first anniversary of German Chancellor Merzl’s shocking acclaim of Israeli aggression against Iran in June 2025, when he said ‘Israel is doing our dirty work’ & ‘rules of international law do not apply to Iran’!